وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے

وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے

دعوؤں کی بازگشت میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی تشکیل نے سیاست کا میدان ایک بار پھر گرما دیا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ اس کالم کی اشاعت تک مزید استعفے بھی سامنے آچکے ہوں جبکہ تادم تحریر مستعفی ہونیوالے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی تعداد سات سے لیکر دس تک کے ہندسے تک پہنچ چکی ہے جسے کرکٹ کمنٹری کے الفاظ میں ڈبل فگر کہا جا سکتا ہے، بہرحال بقول فلمی مکالمہ نگار گیم تو اب شروع ہوئی ہے۔ اسلئے دیکھتے ہیں کہانی کدھر کو جاتی ہے۔ تاہم ایک بات کا احساس ہو رہا ہے کہ اب ایک نئے سکرپٹ پر کام کا آغاز ہو چکا ہے اور کہانی کار نے سرکس کے رنگ ماسٹر کو نئی ہدایات کے تحت رنگ میں اُتار کر اسے ہاتھیوں، شیروں اور گھوڑوں کو اپنے اشاروں پر ناچنے کا کام سونپ دیا ہے۔ سو ہو یہ رہا ہے کہ جیسے جیسے رنگ ماسٹر کے ہاتھ میں پکڑے چابک کو ہوا میں لہرانے سے شڑاق کی آواز اُبھر رہی ہے، رنگ میں موجود شیر، ہاتھی اور گھوڑے اپنے کرتب دکھانے پر ایک دوسرے سے بازی لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں، اب کی بار ایک مرتبہ پھر پرانی شراب نئے بوتل میں بند کر کے نئے لیبل کیساتھ سامنے لائی جا رہی ہے، نیا لیبل یوں کہ پہلے اسے سرائیکی صوبے کا نام دیا جاتا تھا، جسے اب بدل کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا دیا گیا ہے اور جن لوگوں نے حکمران پارٹی میں نقب لگا، جان چھڑا کر نئے لیبل کیساتھ تبدیل کئے ہوئے سکرپٹ کے مطابق اسے مارکیٹ کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے ان کے بارے میںمسلم لیگ کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ مدبرانہ اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہوئے جہاں جانیوالوں کے بارے میں کسی قسم کی بیان بازی سے گریز کی ہدایت کی ہے بلکہ کہا ہے کہ علیحدہ ہونیوالوں سے رابطہ کر کے ان سے بات چیت کی جائے گی اور ان کے تحفظات دور کئے جائیں گے، حالانکہ میاں شہباز شریف کی سوچ پر محتاط انداز میں یہ تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ شاید ان دنوں اور خاص طور پر میاں نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے بعد حکمران جماعت کیلئے جو صورتحال دن بہ دن بنتی جا رہی ہے اس نے نوشتہ دیوار کو زیادہ واضح کرنا شروع کیا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ حالات اسی سمت آگے بڑھتے جا رہے ہیں تو

میں نے یہ سوچ کے روکا نہیں جانے سے اسے
بعد میں بھی یہی ہوگا تو ابھی میں کیا ہے
سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر جانیوالے ’’عادی سیاسی لوٹے‘‘ اور ’’سیاسی گند‘‘ ہیں تو حکمرانوں نے یہ گند اپنے چہرے پر کیوں مل لیا تھا اور اگر ان کے لوٹے ہونے میں کوئی شک نہیں تھا تو جب یہ لیگ ن کے خیمے کی جانب لڑھکتے ہوئے آگئے تھے تو اس وقت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کیوں اپنے کیمپ میں جگہ دی گئی تھی؟ خیر جانے دیجئے بلکہ اب تو اس نئے بیانئے پر غور کرنے کی ضرورت ہے یعنی یہ جو ایک بار پھر سرائیکی صوبے کے نام کو ’’شہد کی بوتل‘‘ میں بند کرکے نیا لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے مارکیٹ کر دیا گیا ہے، کیا یہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچ بھی سکتا ہے یا پھر اسے موجودہ صورتحال میں لیگ ن کا کمبل چوری کرنے کیلئے سجایا جانیوالا میلہ ہی قرار دیا جائے گا اور جب منظر واضح ہوگا تو ایک بار پھر جن لوگوں کو نئی آس نئی اُمید دلاکر ان کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ بھی بعد میں یہی کہنے پر مجبور ہوں گے کہ
اے ہم زبان شوق وہ منزل کدھر گئی
ہم دور آگئے ہیں جسے ڈھونڈتے ہوئے
علیحدہ صوبے کے پاپولر نعرے کو ایک بار پھر زندہ کرنے والے جن حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں وہاں یہ Electables یعنی انتخابات میں اپنے اثر ورسوخ سے جیت کر آنیوالے ضرور شمار ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر بار انتخابی میدان میں اُتر کر یہ لوگ ایسے ہی بلند آہنگ وعدے کرکے پارلیمنٹ کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن جیتنے کے بعد پھر اگلے پانچ سال تک یہ سرائیکی عوام کے غم کو ’’غلط‘‘ کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے اور مڑ کر نہیں دیکھتے کہ بے چارے سرائیکیوں کا کیا حال ہے یا ان کا کیا حشر ہو رہا ہے، یوں جب نئے انتخابات سر پر آجائیں تو ملک کے دوسرے حصوں کے سیاسی رہنماؤں کی طرح ان کی رگ حمیت اور عوام سے محبت کا جذبہ ایک بار پھر بیدار ہو جاتا ہے، تاہم اب تو ایک نئے سکرپٹ کے تحت انہیں ایک نئے نعرے سے میدان میں اُتارنے کی تیاری ہو چکی ہے۔ جس بیانئے یعنی جنوبی پنجاب محاذ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے و ہ اتنی آسانی سے چلتا دکھائی نہیں دیتا بالکل اس لطیفے کی مانند کہ کسی مغربی ملک میں ایک شخص اس دعوے کیساتھ آیا کہ دنیا کی کوئی بھی شراب ہو وہ اس کا صرف ایک دو گھونٹ چکھ کر اس کا نام اور دیگر خصوصیات بتا سکتا ہے، اس کے دعوے پر شرطیں لگیں۔ مختلف شرابیں اس کو دی جاتیں اور وہ دو گھونٹ پی کر بالکل درست نام اور اس کی مدت، ملک وغیرہ بتا دیتا، ہر بار شرط جیتنے پر شراب خانے کے مالک نے ایک ترکیب سوچی اور صرف پانی اس کے سامنے رکھ دیا، پینے کے بعد وہ شخص تھوڑی دیر حیرت کیساتھ سوچتا رہا اور اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے کہا۔ واقعی یہ شراب پہلے میں نے کبھی نہیں پی، لیکن یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ یہ برانڈ چلنے والا نہیں۔ اسلئے لیگ ن کو ہرانے کا کھیل رچانے والوں پر بھی واضح ہو کہ نئے صوبے والا شوشہ چلنے والا نہیں ہے۔
وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے
تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

اداریہ