مشرقیات

مشرقیات

امام شافعیؒ اپنے سفر کے حالات میں فرماتے ہیں کہ جب میں بخران سے حجاز کی طرف سفر کر رہا تھا تو جمعہ کے دن حران پہنچا‘ وہاں ایک حمام میںغسل کیا۔ غسل سے فارغ ہو کر میںباہر کھڑا تھا۔ وہاں اچھا خاصا ہجوم تھا۔ میںان کے ساتھ گفتگو میں مشغول تھا۔ اتنے میںحمام کے اندر سے ایک امیر باہر آیا۔ اس کے سامنے سواری حاضر کی گئی۔ میری باتوں کی آواز اس کے کان میںپڑ گئی۔ وہ سوار ہوچکا تھا لیکن اتر پڑا اور مجھ سے کہنے لگا‘آپ شافعیؒ ہیں؟ میںنے کہا’’ہاں‘‘ اس امیر نے سواری کی رکاب میرے قریب کردی اور عاجزی سے کہنے لگا’’ برائے خدا سوار ہو جائیے۔ میں سوار ہوگیا غلام سر جھکائے آگے آگے چل رہاتھا۔ یہاں تک کہ امیر کاگھرآگیا۔
تھوڑی دیر میںخود امیر بھی آپہنچا اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ پھر دستر خوان بچھ گیا اور ہمارے ہاتھ دھلائے گئے۔ مگر میں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا۔ امیر کہنے لگاکیوں کیا بات ہے؟ میںنے جواب دیا۔ میںیہ کھانا اس وقت تک نہیںکھائوںگا جب تک آپ مجھے یہ نہ بتائیں کہ آپ نے مجھے پہچانا کیسے؟ امیر نے کہا کہ بغداد میں آپ نے جو کتاب روایت کی تھی اس کے سننے والوں میںایک میںبھی تھا۔ اس طرح آپ میرے استاد ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا:علم دانشمندوں کا کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے۔ پھر میںنے ایسی خوشدلی سے کھانا کھایا کہ خدا جانتا ہے۔ اپنے جیسے اہل علم کے ساتھ کھانے ہی میں وہ خوشی نصیب ہوسکتی ہے۔ فرماتے ہیں میں تین دن اس شخص کے ہاں رہا۔ چوتھے دن اس نے کہا۔ حران کے اطراف میں میرے چار گائوں موجود ہیںاور یہ گائوں ایسے ہیں کہ پورے علاقے میں ان کی نظیر نہیں۔ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتاہوں کہ آپ یہاں رہ جائیں تو سب گائوں آپ کی خدمت میں ہدیہ ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ سب گائوں مجھے دے دو گے تو تمہاری گزر بسر کیسے ہوگی؟ کہنے لگاآپ وہ صندوق دیکھتے ہیں۔ اس میںچالیس ہزار درہم ہیں۔ اس رقم سے میں کوئی تجارت کرلوں گا۔ میں نے کہا۔ ’’ لیکن خود مجھے یہ منظور نہیں‘‘ میں نے اپنا وطن محض تحصیل علم کے لئے چھوڑاہے نہ کہ دولت کمانے کے لئے‘‘۔ وہ کہنے لگا یہ تو سچ ہے مگر مسافر کو روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر میں نے چالیس ہزار کی وہ پوری رقم لے لی۔ اسے خداحافظ کہا۔ اور خران سے اس حال میں روانہ ہواکہ آگے پیچھے بوجھ لدے ہوئے تھے۔ رستے میں اصحاب حدیث ملے ان میں احمد بن حنبل سفیان بن عیز اور اوزاعی بھی تھے۔ میںنے ہر ایک کو اس قدر دیا جتنا کہ اس کے مقدر میںتھا۔
عالم جب اللہ کی رضا کی خاطر علم کی خدمت کرتا ہے اور اپنے علمی مشاغل میں مصروف رہتاہے تو اسے ایسی قوت حاصل ہوجاتی ہے کہ امراء و رئوسا کی کوئی وقعت اس کے دل میں نہیںآتی۔ اس واقعہ سے استاد کے مرتبہ اور علم کی قدر و اہمیت کا درس ملتا ہے اور ساتھ ہی استاد کے کردار کا بھی کہ حقیقی استاد کس خوبی اور صفات کامالک ہوتا ہے ۔ اسے مال و زر کی ہوس نہیں ہوتی۔

اداریہ