Daily Mashriq

شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کے تازہ ثبوت ملے ہیں، وزیراعظم

شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کے تازہ ثبوت ملے ہیں، وزیراعظم

لاہور: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کو شریف خاندان کے اراکین کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مزید ثبوت ملے ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کے خلاف مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی اور وفاقی و پنجاب کابینہ کے اراکین کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی کہ اگر قانوناً ممکن ہے تو ساہیوال فائرنگ کے واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور پنجاب کی بلدیاتی حکومت کے ڈرافت کی منظوری دیتے ہوئے ادویہ کی قیمتیں بڑھانے میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔

اجلاس میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم نے منی لانڈرنگ اور کرپشن پر برہمی کا اظہار کیا جس نے ملک کر جکڑ لیا ہے اور کہا کہ شریف خاندان کے افراد پیسوں کے بیگ بھر کے دبئی میں موجود فرنٹ مین کے ذریعے لانڈرنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے ہنڈی یا رقم کی منتقلی کے دیگر غیرقانونی ذرائع کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ شریف خاندان کے افراد بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اکاؤنٹ میں ترسیلات زر آ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اداروں نے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے خلاف ٹھوس ثبوت اکٹھا کر لیے ہیں اور ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز جلد شروع ہو گا اور یہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف بنایا جانے والا پہلا مقدمہ ہو گا۔

پنجاب کے ہاؤسنگ منسٹر میاں محمودالرشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے اجلاس میں کرپشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح حمزہ شہباز، سلمان شہباز سمیت شریف خاندان کے افراد اور ان کے ملازمین باہر اربوں روپے بھیج رہے ہیں اور ان کے اکاؤنٹ میں مستقل ترسیلات زر آ رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے بڑا ڈیٹا ملا ہے جلد مقدمات عدالت میں ہوں گے۔

’وزیر اعظم نے تمام صوبائی وزرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ شریف خاندان کی اصلیت میڈیا کے سامنے بے نقاب کریں‘۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ بننے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو سراہا جنہوں نے حمزہ شہباز کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ نہ دینے کے فیصلے پر قائم رہی۔

صوبائی وزرا کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ اگلے دو سے تین ماہ انتہائی اہم ہوں گے، پاکستان ایک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور گزشتہ حکومتوں کی غیردانشمندانہ پالیسیوں کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جس کی وجہ سے پاکستان آج دیوالیہ پن کے قریب ہے۔

وزیر اعظم نے اجلاس کے دوران ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نوٹس لیا اور حکام کو ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ 72گھنٹوں میں ادویہ کی قیمتیں پرانے ریٹ پر واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں