Daily Mashriq

طوفان باد وباراں کے متاثرین کی امداد میں تاخیر نہ کی جائے

طوفان باد وباراں کے متاثرین کی امداد میں تاخیر نہ کی جائے

خیبر پختونخوا میں گزشتہ روز کے طوفان اور باد وباراں میں ہونے والے نقصانات کی روک تھام تو ظاہر ہے ممکن نہ تھی البتہ ان کو جلد اور بہتر طبی امداد اور ان کی فوری مدد کرنے کے مزید بہتر انتظامات ہوسکتے تھے۔ بگولوں اور طوفانی باد وباراں کی پیشگوئی بروقت ہو چکی تھی اور انتباہ بھی جاری کر دیا گیا تھا۔ اس طرح کے اقدامات متعلقہ اداروں کی جانب سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی حد تک تو ٹھیک ہے جسے نبھایا گیا، اس دوران صوبائی دارالحکومت کیلئے سب سے زیادہ موضوع بحث منصوبہ بی آرٹی کے ایک سٹیشین کے چند مناظر سے نئی بحث چھیڑنے کے منتظروں کو ایک موضوع تو ضرور مل گیا لیکن بس سٹیشن نمبر23 پر کام جاری تھا، ایسے میں ایسا ہونا تعجب کی بات نہیں۔ فی الوقت اس حوالے سے خواہ مخواہ کی تنقید اس لئے مناسب نہیں کہ دوران تعمیر اور ٹیسٹ کے دوران خامیاں سامنے آتی ہیں غیرمتوقع قدرتی حالات کے باعث پیش آمدہ واقعات اتنے سنگین نہیں کہ اسے تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے مون سون 2019 کیلئے منصوبہ بندی اور گوداموں میں ضرورت کی تمام اشیاء موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس قسم کی تیاریاں ہر سال کا معمول ہیں لیکن جب بھی غیرمعمولی حالات پیش آتے ہیں ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور اقدامات کے دعوؤں کا پول کھلتا ہے۔ پی ڈی ایم اے کو سابقہ تجربات اور ناکامیوں کا جہاں جائزہ لیکر غلطیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہئے وہاں محض انتظامات کا عندیہ دینے کی بجائے عملی طور پر ایسے اقدامات کئے جائیں کہ وقت آنے پر ناکامی کی نوبت نہ آئے۔ گزشتہ روز صوبہ بھر میں ہونے والی اموات کے باعث متاثرہ خاندانوں کی امداد کی جائے زخمیوں کا بہتر علاج معالجہ یقینی بنایا جائے اور جن کے گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے ان کی فوری بحالی کیلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں اس کام میں روایتی طریقہ کار اختیار کرنے اور مستحقین کو محروم اورجزوی نقصان کو بڑھا چڑھا کر زیادہ معاوضہ حاصل کرنے کی لعنت کی روک تھام کی جائے تاکہ حقداروں کو ان کاحق ملے۔ سرکاری اعداد وشمار اور سروے میں جتنا وقت لگے گا متاثرین اس کی نسبت سے مشکلات کا شکار رہیں گے لہٰذا تاخیر کئے بغیر ابتدائی اور پوری امداد دینے میں زیادہ وقت صرف نہ ہو۔

فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کے باوجود ناکامی

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے ایک سال کے دوران ناقص کوالٹی پر1400 اشیائے خورد ونوش کے کاروبار سیل کر کے6کروڑ 60لاکھ روپے جرمانہ وصولی بہتر کارکردگی کا آئینہ دار ضرور ہے مگر اسے کافی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صوبہ بھر میں وسعت کے بعد اتھارٹی کو مزید جانفشانی کا مظاہرہ کرنے کیلئے خودکو تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ صوبہ بھر میں مردہ مرغیوں اور حرام جانوروں کے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں استعمال اور دودھ سمیت کوئی بھی ایسی خوردنی اشیاء نہیں جس میں ملاوٹ کی شکایت نہ ہو یا پھر حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس تیار اور محفوظ نہ کیا جاتا ہو۔ صفائی کا معیار ناگفتہ بہ ہے ان سارے حالات سے فوڈ اتھارٹی کے حکام بخوبی واقف ہیں اور کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود ان عوامل کی روک تھام کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ قصائیوں کی دکانوں پر جالیاں نہیں لگی ہیں تو ہوٹلوں میں کھانے کھلے پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹھیلوں پر بکنے والی خوراک کی اشیاء تو کسی طرح سے محفوظ نہیں غرض جتنا تفصیل میں جائیں پیچیدگیاں اور ناکامیاں سامنے آتی ہیں۔ ان مسائل کے مستقل حال کیلئے اتھارٹی کو کوئی لائحہ عمل سامنے لانا چاہئے اور ضروری قانون سازی اور قانون میں ترمیم کی بھی سفارش کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو صورتحال میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اصلاحاتی اقدامات میں تاخیر نہیں ہوگی۔

مرے کو مارے شاہ مدار

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ میں پاکستان سے چاول درآمد کرنے والے بڑے ملک میکسیکو کا پاکستانی چاول سے کیڑے برآمد ہونے پر پاکستان سے چاول منگوانے پر پابندی لگانے کا اقدام اور اس طرح کے واقعات کینیا اور انڈونیشیا میں بھی ہونا جہاں ہمارے ایکسپورٹروں کا اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف عمل ہے وہاں اس سے ملک کی بدنامی، برآمدات میں کمی اور قیمتی زرمبادلہ سے محرومی سنگین مسائل ہیں جس کی ہمارے ملک کی معیشت متحمل نہیں ہوسکتی کہ میکسیکو برآمد کئے جانیوالے چاولوں سے اور سرخ مرچ سے کیڑا نکلنا سنجیدہ معاملہ ہے، ماضی اور حال میں اس قسم کے سارے واقعات کی تفصیلی تحقیقات ہونی چاہئے اور اس کے ذمہ دار عناصر کیخلاف ہر سطح پر تحقیقات کے بعد تعزیر کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اس کے ذمہ دار برآمد کنندگان پر بھاری جرمانہ عائد کر کے مستقل طور پر بلیک لسٹ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں