Daily Mashriq


کلین اینڈ گرین مہم کی کامیابی کے تقاضے

کلین اینڈ گرین مہم کی کامیابی کے تقاضے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کا آغاز کر کے صوبے میں صفائی اور حفظان صحت سے متعلق شعور اُجاگر کرنے کا جو عندیہ دیا ہے اس کے بعد متعلقہ حکام اور اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس مہم کو آگے بڑھائیں، نہ صرف آگے بڑھانا کافی ہوگا بلکہ اسے تسلسل اور دوام دینے کی ضرورت ہے تاکہ مثبت نتائج حاصل ہوں۔ وزیراعلیٰ نے ایک مرتبہ پھر وعدہ کیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں صوبے بھر میں پلاسٹک بیگز کے استعمال کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا جس کی وجہ سے نہ صرف صوبے کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے بلکہ صوبے کے حیاتیاتی تنوع پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ڈبلیو ایس ایس پی نے صفائی کیلئے یوتھ ایمبیسڈر پروگرام کا آغاز بھی کیا جس کے تحت صفائی مہم کیلئے نوجوان رضاکاروں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ کلین گرین مہم کی کامیابی اور پشاور شہر کو صاف ترین بنانے کیلئے صوبائی حکومت عملی اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی باقی ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے سیکھتے ہوئے کوڑا کرکٹ کو بجلی میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات کیلئے ماسٹر پلان تیار کر رہی ہے۔ شہریوں کو پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے بڑے شہر اور قصبات صفائی کے مسائل اور آلودگی میں اضافہ جیسے یکساں مسائل کا شکار ہیں البتہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے کو سب سے سنگین مسئلہ ڈمپنگ سائیٹ کا ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے گزشتہ دور حکومت سے کوششیں جاری ہیں لیکن ہنوز اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے، صوبائی دارالحکومت اور بڑے شہروں میں کوڑا کرکٹ اُٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے دونوں کا نظام اصلاحات اور اقدامات کا متقاضی ہے۔ شہریوں کا عدم تعاون اور معاون ہونے کی بجائے مشکلات کا باعث ثابت ہونا وہ بنیادی اور سنگین مسئلہ ہے جو جب تک رہے گا اور شہری اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے۔ اس وقت تک ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے جتنی بھی کوشش کریں ان کو پوری طرح کا میابی نہیں مل سکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈبلیو ایس ایس پی نے کوڑا کرکٹ پھینکنے اور پانی کے ضیاع کے مرتکب شہریوں کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے اور جرمانہ وتعزیر کا جو عندیہ دیا تھا اسے بطور ضرورت اور مجبوری میں طوعاً وکرہاً عمل میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو احساس دلایا جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رضاکاروں کے ذریعے ترغیب اور شعور اُجاگر کرنے کا پروگرام بھی مثبت ثابت ہوگا۔ پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ٹی اے جب تک سخت اقدامات، جرمانے عائد کرنے اور سخت تنبیہہ جیسے اقدامات نہیں اُٹھائیں گی گلیوں اور سڑکوں کی خستگی، کیچڑ اور دھول کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور پانی کے ضیاع کا سنگین مسئلہ بھی حل نہ ہوگا۔ حیات آباد میں خاص طور پر پانی کے استعمال میں عدم احتیاط اور سڑکوں وگلیوں میں پانی بہانے والوں کیخلاف کارروائی میں غفلت کا ارتکاب معمول کی بات ہونے کی، شہریوں کی شکایات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں سڑکوں کے کنارے اور گلیوں میں سرکاری نلکوں کی تنصیب اور شہریوں کی جانب سے اپنی مرضی سے گھروں کے باہر نلکے لگانے کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ جہاں سرکاری نلکا مقامی آبادی کی ضرورت کیلئے ناگزیر ہو وہاں پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے ایسے نلکے لگائے جائیں جو گھمانے سے نہیں بلکہ اوپر اُٹھانے سے کھلیں اور چھوڑ دینے پر خودبخود بند ہو جائیں۔ صوبائی دارالحکومت میں بی آر ٹی کے سول ورک کی تکمیل کے بعد بحالی کا جو مرحلہ جاری ہے اس میں حوصلہ افزاء اقدامات ہو رہے ہیں، شجرکاری اور سبزہ لگانے کی مہم میں شہری علاقوں اور میدانی علاقوں میں اچھی پیشرفت اور کارکردگی سامنے آئی ہے۔ البتہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس مد میں صوبائی حکومت سے وعدے کے باوجود اپنے حصے کی رقم کی ہنوز عدم ادائیگی مثبت امر نہیں، جس سے اس مہم کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعلیٰ اور وزیرجنگلات اور وزیر ماحولیات کو اس ضمن میں وفاق سے رابطہ کر کے فنڈز حاصل کر کے مزید علاقوں میں شجرکاری کرنی چاہئے۔ اس وقت ہمارا مسئلہ صرف آلودگی کا خاتمہ اور جنگلات کا رقبہ بڑھانا ہی نہیں بلکہ بے موسمی شدید بارشوں، بگولوں اور سیلاب جیسے حالات کی وجوہات وعوامل کا ماحولیاتی تدارک اور مقابلہ بھی ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ تحفظ کا تقاضا اور ایسی مجبوری ہے جس سے صرف نظر خدانخواستہ بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ شہروں میں صفائی کی صورتحال کی بہتری نکاسی آب کے نظام کو ناکارہ ہونے سے بچانے کیلئے پولی تھین تھیلوں پر سختی سے پابندی اور اس پر عملدرآمد بہت پہلے ہونا چاہئے تھا۔ اب بھی اگر حکومت اس ضمن میں کامیاب اقدام کرسکے تو یہ دیر آید درست آید کے مصداق ہوگا۔

متعلقہ خبریں