Daily Mashriq

اقتصادی مشکلات کا فوری حل کیا ہے؟

اقتصادی مشکلات کا فوری حل کیا ہے؟

مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح اس وقت 3.7 ہے اور اگلے سال یہی شرح 2.7 ہوگی۔ اسی طرح پاکستان کا سٹاک ایکسچینج انتہائی حد تک گر رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت کھلے مارکیٹ میں 143 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ بیروزگاری زوروں پر ہے اور بدقسمتی سے وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کے پاس کوئی پروگرام نہیں۔ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت دو سال بعد کچھ بہتر ہو جائے گی۔ جبکہ فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں کی مہنگائی میں حددرجہ کمی آئے گی اور نوجوانوں کو روزگار ان کے گھر کی دہلیز پر ملے گا مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو انگنت اور بے تحاشا وسائل سے مالامال فرمایا ہے مگر انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ71سال گزرنے کے بعد بھی ہم پاکستان کے انگنت وافر قدرتی اور بشری وسائل سے فائدہ نہ اُٹھا سکے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف، عالمی مالیاتی بینک سے 100ارب ڈالر اور ملکی مالیاتی اداروں سے 29ہزار ارب روپے قرض لے چکا ہے جس پر بھاری سود، غریب کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب ہر پاکستانی 1لاکھ 35ہزار روپے کا مقروض ہے اور ابھی اگر آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لیا گیا تو فی کس قرضہ مزید بڑھ جائے گا۔ اب جبکہ تحریک انصاف وفاق اور تین صوبوں میں برسراقتدار ہے، اس سے توقع ہے کہ وہ اس ملک اور قوم کیلئے کچھ کر کے دکھائے گی مگر افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کے8 مہینے گزرنے کے باوجود بھی سماجی اور اقتصادی شعبے بری طرح ناکام ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ اورآمروں نے ملک کی تباہی اور بربادی میں کوئی کثر روا نہیں رکھی مگر عمران خان نے الیکشن مہم کے دوران جو بلند وبانگ دعوے کئے تھے وہ اب اپنے کئے گئے وعدوں سے یوٹرن لے رہے ہیں۔ ابھی حکومت کی آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالر قرضہ حاصل کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے۔ اگر ہم آئی ایم ایف کے شرح سود پر غور کریں تو مالی سال 2008، 2009 اور 2010 میں اس کی شرح 14فیصد تھی جو حد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوی آئی ایم ایف ایسی شرائط رکھتا ہے جو کسی قوم اور ملک کی تباہی اور بربادی کیلئے کافی ہیں۔ اب عمران خان اور ان رفقائے کار کے پاس کوئی طریقہ نہیں کہ ملک کو بحران سے نکال سکیں۔ اس وقت میرے خیال میں پاکستان کے پاس دوسرے اور آپشنز کیساتھ ساتھ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سمندر پار بھیجا جائے۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو اس وقت تقریباً 88لاکھ پاکستانی وطن عزیز کو 20ارب ڈالر بھیج رہے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ہمارا وفاقی بجٹ 5932ارب روپے ہے اور اس کا آدھا 20ارب ڈالر یعنی 2500 ارب روپے سمندر پار پاکستانی بھیج رہے ہیں۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا مزید تجزیہ کریں تو خوش قسمتی سے پاکستان دس ممالک میں یعنی بھارت، چین، اور انڈونیشیاء کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں پر نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں 13کروڑ جوان ہیں اور ان میں اکثر ایسے ہیں جو مختلف قسم کے علوم اور تکنیکی سبجیکٹ میں ماہر ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک ایسے ہیں جہاں پر آبادی میں اضافہ کی شرح صفر فیصد یا منفی ہے۔ یورپی ممالک کی تعداد 48ہے اور ان میں 21ممالک کی آبادی میں اضافے کی شرح منفی ہے۔ مثلاً جاپان کی آبادی میں اضافے کی شرح 0.218 فیصد، جرمنی کی 0.16فیصد، روس اٹلی اور یونان اور اس کے علاوہ ایسے کئی ممالک ہیں جن کی آبادی کی شرح صفر یا منفی ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یورپی ممالک میں جوانوں کی تعداد کم اور بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا ان ممالک کو اپنے ریاستی اُمور چلانے کیلئے جوانوں کی اشد ضرورت ہے۔ ان ممالک کی آبادی کی شرح میں انتہائی کمی کے بحران سے پاکستان ایک اچھے موقع کے طور پر بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان دنیا کی 20پسندیدہ شخصیات میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ کرکٹ لیجنڈ کے طور پر پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی سیاسی لیڈر کو بیرونی ممالک میں اتنا نہیں جانا جاتا جتنا لوگ عمران خان کو جانتے ہیں تو دنیا اور یورپ کے کئی ممالک میں جہاں آبادی بہت کم اور ان کو جوان خون کی ضرورت ہے اگر عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی عقل اور فہم سے کام لیں، پاکستان کے پڑھے لکھے اور نیم پڑھے جوانوں کا ڈیٹا جمع کر کے کمپیوٹرائز کریں۔ عمران خان یورپ اور دوست ممالک سے 50لاکھ نوجوانوں کو باہر ممالک میں لینے کی استدعا کریں تو اس سے ہم ترسیلات زر یعنی باہر ممالک سے بھیجے گئے پیسوں کو ڈبل نہیں بلکہ ٹرپل کر سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ چار یا پانچ سالوں میں بیرونی اور اندرونی قرضہ دونوں ختم کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے زیادہ شارٹ کٹ کوئی نہیں۔ پاکستان جوانوں کی تعداد کے لحاظ سے جنوبی ایشیاء میں دوسرے نمبر اور عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر ہے اور ہم دنیا کے دوسرے ممالک کیساتھ تعلقات بہتر کر کے اس افرادی قوت سے فائدہ اُٹھا کر ترسیلات زر یعنی Foriegn exchange میں 15ارب سے لیکر 20ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں