Daily Mashriq

انورسن رائے' زمین زادوں کا فخر

انورسن رائے' زمین زادوں کا فخر

انورسن رائے اور محترمہ عذرا عباس کراچی سے لاہور آئے تو طالبان علم اور دوستوں کی چاندی ہوگئی۔ نصف نصف صدی سے اپنی فہم کا پرچم بنائے سفرحیات میں استقامت کیساتھ قدم قدم آگے بڑھتی اس جوڑی نے ہمارے سکون' آزادیٔ اظہار کے حق اور قومی جمہوریت کیلئے جو قربانیاں دیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اس سے بڑھ کر بھی ایک بات ہے وہ یہ کہ دونوں نے کبھی قربانیوں کا خوانچہ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایک کیا بہت سارے ہیں ہمارے چار اور جنہوں نے جدوجہد اور قربانی کی قیمت سود سمیت وصول کی اور اب بھی اُٹھتے بیٹھتے ماضی کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ نہ ہوتے تو اللہ جانے کیا ہو جاتا۔ انورسن رائے ادیب ہیں' دانشور' ناول نگار ہیں' شاعر اور باکمال صحافی' چوالیس پینتالیس برسوں سے کوچۂ صحافت میں موجود ہیں۔ قلم مزدوری کا جو سلسلہ 1970ء کی دہائی میں کراچی سے شروع ہوا تھا اب برطانیہ میں جاری ہے۔ چیخ اور ذلتوں کے اسیران کے شاہکار ناول ہیں۔ فلسطینی شاعر محمود درویش کی شاعری کا ترجمہ انہوں نے ''جغرافیے کے معتوب'' کے نام سے کیا۔ ''ادونیس'' عرب شاعر ہیں۔ انورسن رائے کہتے ہیں کہ وہ صرف عرب دنیا کے شاعر نہیں بلکہ عرب دنیا کی زندہ اور توانا آواز ہیں۔ ادونیس کی شاہکار نظم نیویارک کیلئے ایک قبر اور دوسری نظموں کا ترجمہ بھی انورسن رائے نے کیا۔ ان کی اہلیہ محترمہ عذرا عباس' افسانہ نگار اور شاعرہ کی شناخت رکھتی ہیں ''میرا بچپن'' کے عنوان سے یادداشتیں بھی رقم کیں۔ شاعری اور افسانہ نگاری کی متعدد تصانیف بھی پڑھنے والوں کی روحوں کو سرشاری عطا کر چکیں۔ منگل 9اپریل کی سہ پہر انورسن رائے اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاہور پریس کلب پہنچے جہاں اس جوڑی کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں ان کے دوستوں اور اس جوڑی کے مداحین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دونوں مہمانوں نے بھی اپنے اپنے بارے میں باتیں کرنے کے علاوہ شرکائے تقریب کی فرمائش پر اپنا کلام سنایا۔ انجم رشید' انور عباس انور' علامہ صدیق اظہر' نوازطاہر اور دیگر نے شخصیات کے حوالے سے بات کی۔سن رائے ہمیں محبوب ہیں اس کی دو تین وجوہات ہیں اولاً سرائیکی وسیب کی زمینی سانجھ کا رشتہ' قلم مزدوری' جرأت فکر کا موقع نہ گنوانے کی دھن۔ اپنی ذات کی خوشیوں پر چار اور کے لوگوں کی خوشیوں کو ترجیح دینا۔ پھر ہمارے اٹھانوے فیصد دوست مشترکہ ہیں ارشاد امین' پروفیسر جاوید چانڈیو' نذیر لغاری' مرحوم انجم لاشاری' رفعت عباس' اشولال اور سینکڑوں دوسرے۔ 1950ء کی دہائی میں مہینوں یا سال دو سال کے وقفے سے آگے پیچھے دنیا سرائے میں اُتری۔ اس نسل نے زندہ رہنے کا حق ادا کیا۔ چند ایک جو رخصت ہوگئے ان کا سفر تمام ہوا باقی سب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مطالعہ کرتی' خواب دیکھتی تعبیروں کیلئے جدوجہد کرتی اس نسل پر کیا بیتی یہ لمبی کہانی ہے۔ کہانی کے اندر کہانیاں ہیں۔ بیروزگاری' قید وبند' ریاستی تشدد' مالکان کا استحصال' گو اس نسل کی آنکھوں میں خواب اب بھی زندہ ہیں مگر تعبیریں چوری ہوگئیں۔ اس نسل نے چار فوجی حکمران بھگتے' قومی جمہوریت' مساوات' نورعلم کا فروغ' پُرامن پاکستان' قومیتوں کے حقوق کا تحفظ' انسان دوستی کا جذبہ اس نسل کا مشترکہ سرمایہ تھا اور ہے بھی۔محنت کش سفید پوش گھرانوں سے اٹھی اس نسل نے اپنے چار اور کے لوگوں کیلئے ہمیشہ کلمۂ خیر کہا، لکھا اور بالادست طبقات کو للکارا بھی۔ انورسن رائے صحافتی شعبہ میں کارکن صحافیوں کا رہنما بھی رہا۔ ایسا رہنما جس کے دامن پر کوئی داغ نہیں اب تو رہنماؤں کے نام پر کمیشن ایجنٹ صحافتی تنظیموں پر مسلط ہیں اسی لئے قلم مزدور توانا آواز سے محروم ہیں۔ 1950ء کی دہائی میں محنت کش سفید پوش زمین زادوں کے گھروں میں جنم لینے والوں کی اس نسل کے چند دوستوں نے لگ بھگ چار پانچ گھنٹے اکٹھے بیتائے، خوب یادیں تازہ ہوئیں' گزرے ماہ وسال کی۔ انورسن رائے اور عذرا عباس ہماری نسل کا فخر ہیں۔ کیوں نہ ہوں دونوں اپنے لئے کم اور زمین زادوں کیلئے زیادہ سوچتے ہیں۔ ان کی نثر اور شاعری صادق جذبوں کی گواہی ہے۔ سن رائے' اردو کے متعدد روایت شکن اخبارات اور جریدوں کے مدیر رہے۔ ایک دن رپورٹری کی اور اگلی شام ترجمہ کرنے کی اہلیت نے نیوز ڈیسک پر بٹھا دیا پھر چار سوا چار دہائیاں اخبارات کے اندرونی ماحول میں بسر ہوگئے۔اخباری دنیا سے باہر اس کی شہرت ایک کارکن دوست' رہنما' ترقی پسند اور صاحب علم دانشور کے طور پر پھلی پھولی۔ دوستوں کا دوست' کارکنوں کیلئے مہربان ایڈیٹر' طالب علموں کیلئے شفیق اُستاد' ایک اجلا سچا اور کھرا زمین زادہ جو آج بھی عوام کے حق حکمرانی کے خواب دیکھتا ہے' صادق جذبوں کی امین اس نسل کے بچ رہنے والے آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دکھوں بھری شام کو ڈھلنا ہی ہے۔ طلوع صبح جمہور لازم ہے۔ فیض صاحب کے بقول ''لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے'' تخت گرانے اور تاج اُچھالنے کا شوق ابھی ماند نہیں پڑا۔ ماند بھی کیوں پڑے' شوق کی کوئی عمر مقررہ تو ہوتی نہیں۔ نہ خواب دیکھنے کی کوئی خاص عمر ہوتی ہے' چار اورکے لوگوں کیلئے اپنے ماہ وسال قربان کرنے والی نسل کا کوئی فرد جب دکھتا ہے تو مجھے حاذق یاد آنے لگتے ہیں۔ حاذق نے کہا تھا ''جو ہونے کا حق ادا نہیں کرتے وہ وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں''۔ وقت' دھول اور بالادستوں کے جبر وستم کا مستانہ وار مقابلہ کرتی یہ نسل ہی تو ہمارا سرمایہ ہے۔

متعلقہ خبریں