Daily Mashriq

معیشت' مہنگائی اور ہمارے معمولات

معیشت' مہنگائی اور ہمارے معمولات

اس بات میں تو دو رائے ہو نہیں سکتیں کہ ہم نے بحیثیت قوم بالعموم اور حکمران طبقے نے بالخصوص قرض لیکر مے خوری کرکے فاقہ مستی ہی کی ہے۔ پاکستان بے شک فی الحال یا گزشتہ ستر برسوں میں بجلی' گیس اور ایندھن پٹرول وغیرہ کی مد میں بہت دباؤ میں رہا ہے کہ ہم پٹرول زرمبادلہ خرچ کرکے حاصل کرتے ہیں لیکن پاکستان اتنا غریب یا معاشی لحاظ سے کمزور قطعاً نہیں تھا کہ اپنے عوام کو دو وقت کی روٹی کما کر کھانے کے مواقع، وسائل وذرائع بھی فراہم نہیں کرسکتا لیکن آج ہماری پچاس فیصد سے زیادہ عوام کو ڈھنگ کی روٹی' دو جوڑے' کپڑے اور درد وبخار کی گولی اس لئے دستیاب نہیں کہ ہمارے حکمرانوں اورعوام نے ملکر اس عظیم ملک کو دونوں ہاتھوں سے بے دریغ اور بیدردی کیساتھ لوٹا اور نوچا۔عوام نے نسبتاً کم لوٹا ہوگا کہ ان کے ذرائع اور قدرت واستطاعت محدود ہوگی' لیکن واللہ (الاماشاء اللہ) ہمارے دفاتر میں چپڑاسی اور سویپر کو بھی اگر کوئی سرکاری چیز ہاتھ لگی ہے تو خوف خدا سے اسے چھوڑا نہیں ہے اور اس کے علاوہ عوام اس لحاظ سے بھی ملک کو نقصان پہنچانے میں شامل ہیں کہ ان میں سے بہت کم لوگوں نے دیانتداری کیساتھ پاکستان کیلئے اپنے ووٹ کی امانت کو اہل لوگوں کے حوالے کیا ہے۔ پاکستان میں آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں ایک دنیا گواہ ہے کہ ذات برادری اور چمک نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر عوام کی بے چارگی بھی قابل دید ہوتی ہے کہ وہ اگر امانتداری کیساتھ ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو سندھ کے وڈیرے اور پنجاب کے بعض چودھری اور بلوچ سردار ان کا حقہ تو دفع کرو پانی بند کروا دیتے ہیں۔ اب کل کی خبر ہے کہ تھر کے ایک علاقے میں جب علاقے کے سائیں وڈیرے کیخلاف ووٹ پڑا تو اس کے عوام پانی سے محروم ہوگئے ہیں لیکن تابہ کے۔ اگر عوام بیدار ہو کر اور عزم بالجزم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ کا استعمال کریں تو زیادہ دیر تک حالات جوں کے توں نہیں رہ سکتے اور ہمارے عوام کا دوسرا بڑا قصور یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی رہنماؤں کو اپنے حقیر دنیاوی اغراض ومقاصد کیلئے بھگوان کا درجہ دیا ہے جو ہندوؤں کے فلسفہ کے مطابق ''تو بھگوان نہیں ہے لیکن تیرے کارن بھگوان جیسے ہیں'' سے بہت متاثر ہیں۔ ان کو اس بات کا خوگر بنایا گیا ہے کہ تحصیل کچہری اور پٹواری وتھانیدار کے کام وڈیرے کے بغیر ہونے کے نہیں ہیں حالانکہ اگر عوام اللہ تعالیٰ پر یہ یقین بنالیں کہ جو ہوگا اللہ تعالیٰ سے ہوگا تو سارے مسائل کیلئے راہیں بھی نکلتی چلی جائیں گی۔ بہرحال یہ لمبی بات ہے کیونکہ جب عوام میں تعلیم عام نہیں ہوگی تب تک شعور وخودی کی بیداری ممکن نہیں ہے اور یہ بھی بہت قابل غور بات ہے کہ آخر مملکت خداداد میں ستر برس بعد بھی کروڑوں بچے سکولوں میں جانے کے حق سے محروم کیوں ہیں۔ کہیں ہمارے ان سیاستدانوں کو یہ خوف تو لاحق نہیں کہ اگر پاکستان کی نئی نسل ان سے اور ان کی اولادوں سے زیادہ پڑھ لکھ گئی تو پھر ان کو سیاسی رہنما کون تسلیم کرے گا۔ پختونخوا کی ایک سیاسی پارٹی میں پچھلے دنوں کے اس کے تعلیم یافتہ ورکروں نے انٹراپارٹی انتخابات میں موروثیت کے ذریعے انتخاب پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔لیکن اس وقت جو شدید معاشی بحران ہے اس میں بہرحال سب سے بڑا حصہ سیاستدانوں کا اس لئے ہے کہ کرپشن کے الزامات خود سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر خود لگائے ہیں۔ اگرچہ کرپشن اتنی صفائی اور گہری منصوبہ بندی کیساتھ ہوتی ہے کہ نیب وغیرہ کیلئے صحیح معنوں میں کچھ حاصل کرنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔لیکن اگر محتاط انداز سے بات کی جائے تو یہی کہ ہم سب اس ملک' ان بدترین معاشی حالات سے دوچار کرنے میں کسی نہ کسی طرح کم یا زیادہ ملوث ضرور ہیں۔ اسی وجہ سے آج جبکہ چھ ارب روپے روزانہ لئے ہوئے قرضوں کا سود ادا کرنے پر اُڑتے ہیں تو غریب عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کی بجائے حکومت وقت کے ذمہ داران کی طرف سے ایک روٹی پر گزارہ کرنے کے مشورے آنے لگے ہیں۔ مشورہ صائب ہے' حکیم سعید نے بہت پہلے کفایت شعاری اور صحت کے حوالے سے پاکستانی قوم کو صبح ناشتہ اور رات کا کھانا کھانے کا مشورہ دیا تھا لیکن ہم پاکستانی ایسے مشوروں پر کہاں عمل کرنے والے ہیں۔اب بھی وقت گیا نہیں' حکومت کے اراکین' وزراء وامراء اپنی تنخواہیں اور مراعات آدھی کرلیں اور بے جا اسراف سے پرہیز کرتے ہوئے اسلامی کفایت شعاری کو معمول بنا لیں تو معاشی انقلاب برپا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ عمران خان کی مثالی کفایت شعاری پر ابھی صحیح معنوں میں عمل درآمد دکھائی نہیں دیتا۔ پروٹوکول اور دیگر نازنخرے' سرکاری گاڑیوں' گھروں اور دیگر وسائل کا استعمال پہلے کی طرح جاری ہے۔ عوام میں بھی غربت اور مہنگائی کی دہائیاں دینے کے باوجود بے جا اسراف شادی بیاہ' اموات اور حج عمرہ اور دیگر فضول وغیرضروری معاشرتی رسم ورواج اور سر وناک اونچا رکھنے کیلئے قرض کی مے خوری نے پاکستان کی خودمختاری و سا لمیت کیلئے تنگ معاشیات کے سبب خطرات پیدا کرلئے ہیں۔ لہٰذا وقت کی پکار ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ پر من وعن عمل کیا جائے۔ ما عال من اقتصدا۔ جس نے کفایت شعاری کی وہ کبھی تنگ دست نہیں ہوگا''۔

متعلقہ خبریں