Daily Mashriq

محاوروں میں پناہ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش

محاوروں میں پناہ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش

بات محاوروں تک جا پہنچی ہے، دو روٹی کی بجائے ایک روٹی کھانے کے حوالے سے وضاحت دیتے دیتے جناب مشتاق غنی نے اپنے اُستاد ہونے پر بھی سوال کھڑے کردیئے ہیں، گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں مشہور مزاحیہ فنکار علی میر نے بتایا کہ وہ مشتاق غنی کے شاگرد رہے ہیں جبکہ مشتاق غنی نے علی میر کی سکول کے زمانے میں کی جانے والی شرارتوں کے بارے میں بہت پُرلطف گفتگو کی اور اسی سے معلوم ہوا کہ مشتاق غنی اُستاد بھی رہے ہیں حالانکہ ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ موصوف صرف سکول کے مالک تھے، تاہم ان حقائق کے سامنے آنے پر جناب مشتاق غنی کے شاگردوں کی مبلغ علمیت پر کچھ سوال اُٹھنا فطری بات ہے کیونکہ اگر ایک اُستاد کو کسی بات کی تشریح میں دقت کا سامنا کرنا پڑے تو سوچا جا سکتا ہے کہ آگے ان شاگردوں کا کیا حال ہوگا یعنی وہ کسی بات، کسی لفظ وغیرہ کے حوالے سے انہی ''نادرست'' (غلط کہتے ہوئے خود ہمیں لاج آتی ہے) تشریح کو ساری زندگی حرزجاں بنا کر ملک وقوم کی کیا خدمت انجام دے سکتے ہیں، بات محاورے کی ہو رہی تھی جو ایک اور دو روٹیوں کے تناظر میں سامنے آئی، مشتاق غنی فرماتے ہیں کہ ان کی ایک روٹی کھانے کی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر دیا گیا، انہوں نے کفایت شعاری کی مثال دے کر یہ بات کی تھی جب بھٹو نے کہا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو کیا بھٹو نے گھاس کھائی تھی۔ یہ ایک محاورہ تھا جو اس وقت کے حکمرانوں نے پیش کیا تھا، ایک روٹی کھانے سے ان کا مطلب تھا کہ اگر کچھ عرصہ گزارا کرلیں تو پاکستان کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں، ادھر صوبائی اسمبلی کے رکن سردار اورنگ زیب نلوٹھا نے طنزیہ انداز میں سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک روٹی کھانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سپیکر صوبائی اسمبلی کے چرچے ہیں اور انہیں پذیرائی مل رہی ہے، اگرچہ سردار نلوٹھا نے زیادہ تفصیل نہیں دی مگر فیس بک اور دیگر ایپس پر سپیکر کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں موصوف کے سامنے انواع واقسام کے کھانوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ستم ظریفوں نے ان کے عوام کو دوروٹیوں کی جگہ ایک روٹی کھانے والے مشورے، خیر اسے آپ مخالف سیاسی جماعتوں کی ''شرارت'' بھی قرار دے سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسا ہی ''کاروبار'' آج کل خوب چمک رہا ہے جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور خاص طور پر سوشل میڈیا ٹیمیں ایک دوسرے کو ''سیاسی حمام'' میں کھینچ لاتی ہیں ، تاہم اس کے باوجود وہ محاورے والی بات حلق سے نہیں اُتر رہی ہے، لغت کے اعتبار سے گھاس کھانا محاورہ نہیں ہے بلکہ گھاس کاٹنا، روزمرہ میں آتا ہے، اس کا مطلب ہے بے سوچے سمجھے جلد جلد بولنا، البتہ گھاس چرنا روزمرہ ہے جو طنزیہ بھی بولا جاتا ہے، اس پر کسی اُستاد کا ایک شعر ہے

اسے کہتے ہیں تکلف اے نازک طبعی

گھاس کے تھان پہ اس شوخ نے گھوڑا باندھا

گھاس کھانا بھی اسی زمرے میں شامل ہے جس کا مطلب ہے بے عقلی کا کام کرنا، گویا جو مشورہ پہلے اس قوم کو دیا گیا تھا اس کا کیا حال ہوا، یعنی جناب سپیکر، اس مشورے کے بعد قوم آج تک گھاس ہی تو کھانے پر مجبور ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ جو حبیب جالب نے کہا تھا کہ

دن بدلتے نہیں فقیروں کے

دوسرے مصرعہ سے حذر کرتے ہوئے جب ہم قوم کی حالت زار پر نظر ڈالتے ہیں تو گھاس کھانے کی کیفیت کا درست اندازہ ہو جاتا ہے، معاف کیجئے گا بات بہت تلخ ہو جائے گی مگر اس کے باوجود اپنے اندر سوچ کے کئی درپوشیدہ رکھے ہوئے ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں دو ایٹمی دھماکوں کا ذائقہ چکھنے کے باوجود کیا جاپان نے جوہری قوت بننے کے بارے میں کبھی سوچا بھی؟ بلکہ جاپان نے تو خود کو اقتصادی بم میں تبدیل کر کے اپنی حیثیت منوالی اور یوں کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دور میں جاپان نے اپنی کرنسی ین(yen)کو ڈالر سے علیحدہ کر کے عالمی اقتصادی مارکیٹ میں فلوٹ کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ جس نے جنگ کے بعد جاپان کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا تھا کہ کہیں وہ دوبارہ حربی قوت کے طور پر نہ اُبھر سکے۔ جاپان کی منت سماجت کر کے اسے اپنی کرنسی ڈالر سے علیحدہ کرنے کے فیصلے سے باز رکھا۔ خیر بات محاورے کی ہو رہی تھی اور اگر سپیکر کی بات کو محاورہ مان بھی لیا جائے تو یہ محاورہ بالکل بے موقع اور بے محل تھا کیونکہ اس کا مطلب ہی منفی اشارے دے رہا ہے جس کی وضاحت اوپر کی سطور میں ہو چکی ہے، تو اب آپ خود ہی فرمایئے یہ مشورہ کیا واقعی ''بامحاورہ'' تھا اور جہاں تک بھٹو کا تعلق ہے تو وہ اکثر اس قسم کی عجیب وغریب باتیں کرکے مخالفین کو حیرت میں ڈال دیتے تھے کہ ایک بار جب وہ ایوب حکومت سے جدا ہو کر سیاسی جدوجہد کر رہے تھے تو ایوب حکومت کے ایک وزیر احمد سعید کرمانی نے ان کے بارے میں کچھ ریمارکس دیئے، ایک آدھ روز بعد کسی پریس بریفنگ کے موقع پر ایک صحافی نے بھٹو سے کرمانی کے ریمارکس کے بارے میں پوچھا کہ وہ آ پ کے بارے میں یوں کہہ رہے ہیں آپ کا جواب کیا ہے؟ تو بھٹو نے جاتے جاتے پلٹ کر کہا ''ہوازشی؟'' تو جناب سپیکر بھٹو کے محاوروں میں اپنی زبان کی پھسلاہٹ کو لپیٹنے کی کوشش نہ فرمائیں، مزید اُلجھ جائیں گے۔

ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

متعلقہ خبریں