Daily Mashriq

پاک افغان تجارت کی بحالی کے تقاضے

پاک افغان تجارت کی بحالی کے تقاضے

تقریباً دو سال بعد پاکستان اور افغانستان کا اعلی سطح پر تجارتی مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا خوش آئند ضرور ہے لیکن دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت جیسے بنیادی تعلقات کا اتنے عرصے تک انقطاع دونوں ممالک کے لئے کوئی نیک شگون نہیں بلکہ دونوں ممالک کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور مقام فکرہے کہ آخر وہ کونسی مشکلات و جوہات اور معاملات حائل تھے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی نہ رہے اور آج جب دنیا میں تجارت کے فروغ کیلئے نت نئی راہیں تلاش کی جارہی ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی پر مذاکرات ہور ہے ہیں ۔ بہر حال خوش آئند امر یہ ہے کہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے آئندہ ماہ کابل میں پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی)کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے تقریباً دو سال کے التوا کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر بات چیت کا آغاز ہوگا۔خیال رہے کہ نومبر 2015ء میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ تجارت سمیت تمام معاملات پر ہونے والے مذاکرات کو بھارت کی شمولیت سے مشروط قرار دے دیا تھا۔دوسری جانب سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں افغان حکام کی جانب سے ہر واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔گزشتہ روز وزیر خزانہ اسحق ڈار سے ملاقات میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیل وال نے اقتصادی معاملات پر مذاکرات کے آغاز کی پیش کش کی۔یہ اہم پیش رفت اسلام آباد اور کابل کے درمیان نومبر2015ء سے معطل سفارتی اور کاروباری تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک بہترین موقع ہوگا۔ مشترکہ اقتصادی کمیشن کی مرکزی توجہ دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون میں اضافے پر رہے گی۔دونوں ممالک نے مشترکہ مفاد کے دیگر معاملات اور اقتصادی تعاون کے تناظر میں دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال میں پیشرفت جانبین کی ضرورت ہے۔ اقتصادی تعاون میں ہونے والا اضافہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے حق میں ہوگا بلکہ علاقائی تعاون اور تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔تجارتی تعلقات دنیا کے تمام ممالک کی ضرورت ہے کجا کہ دوبرادر ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نہ ہوں ۔ اس موقع پر اس امر کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں بگاڑ کا عمل یکطرفہ نہیں بلکہ افغانستان کی بہت سی جائز شکایات پر بھی پاکستان کی طرف سے توجہ نہ دینا اور افغانستان پر مرضی مسلط کرنے کی سعی کا مظاہرہ ہوتا ہے لیکن ان شکایات کی نوعیت اتنی سنجیدہ نہیں ہوتی کہ ان کا بہانہ کر کے افغانستان بھارت کی گود میں جا گرے جتنی افغانستان کو پاکستان سے شکایات ہیں اس سے بڑھ کر پاکستان کو بھی افغانستان سے شکایات ہوں گی جن کا اظہار دونوں ممالک کی جانب سے مناسب فورم پر کر کے ان کو دور کرنے کی ضرورت تھی نہ کہ ان کو بڑھا وا دے کر تعلقات کو متاثر ہونے دیا جاتاپڑوسی ممالک کے درمیان عمومی نوعیت کی شکایات کا ہونا بھی فطر ی امر ہے شکایات کی دو طرفگی بھی فطری امر ہے مگر کچھ شکایا ت اور معاملات کی نوعیت اس قدر سنجیدہ اور پیچیدہ ہوتی ہے کہ ان کا تعلق براہ راست کسی ملک کے اندرونی استحکام اور ملک کو درپیش خطرات سے ہوتا ہے ان کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ ہی اس قسم کے معاملات سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے ۔ عمومی معاملات اور شکایات سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو افغانستان ایک برادر اسلامی اور پڑوسی ملک ہونے کے باوجود پاکستان سے برادرانہ تعلقات کو اہمیت دینے کی بجائے بھارت کی گود میں بیٹھا ہوتا ہے۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال ہوتی ہے افغانستان میں بھارت کے غیر ضروری قونصل خانے کھلے ہوئے ہیں جہاںسفارتی تعلقات کی آڑ میں دراصل را کے ایجنٹ پاکستان میں حالات خراب کرنے اور خاص طور پر بلوچستان کے ناراض عناصر کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے، پاک چین اقتصادی راہداری کی ناکامی اور اس جیسے کئی دیگر معاملات جو پاکستان کے لئے کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتے اگر دیکھا جائے تو اس سنجیدہ معاملے کے علاوہ کوئی ایسی وجہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہوں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2015ء میں تجارت سمیت مختلف معاملات اس بنا ء پر طے نہ پا سکے تھے کہ افغان صدر اشرف غنی اس میں بھارت کی شمولیت کیلئے بضد تھے جو ظاہر ہے پاکستان کیلئے کسی طور قابل قبول امر نہ تھا۔ بہر حال اب جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے احیاء کی ضرورت کا احساس ہوا ہے تو افغانستان کا یہ حق ضروربنتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت میں اپنے مفادات کا خیال رکھے لیکن بھارت کو شامل کرنے اور اس کے مفادات کو تحفظ دینے کی ضد نہ کرے ۔

اداریہ