Daily Mashriq

عدالت اور مینڈیٹ

عدالت اور مینڈیٹ

پہلے تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق وزیرکہتے تھے کہ میاں نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا۔ پھر ان کے نامزد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کہہ دیا کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا۔ اور پھر بدھ کی رات کو اسلام آبادسے لاہور روانہ ہوتے ہوئے راستے میں رات گئے اہل راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے نااہل قرار دیے جانے والے وزیراعظم نے خود بھی کہہ دیا کہ ان کی نااہلی کا فیصلہ عوام نے رد کر دیا ہے۔ وہ خود سپریم کورٹ میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران اور اس سے پہلے بھی بار بار یہ کہتے رہے تھے کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آیا اسے من وعن قبول کر لیں گے۔فیصلہ صادر ہونے کے دو دن بعد تک انہوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ اعلان ہوا کہ وہ موٹروے سے بغیر کسی جلوس کے اپنے گھر لاہور چلے جائیں گے لیکن ان دو دنوں کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نکتہ طرازیاںشروع کردیں اور اعلان ہوا کہ وہ جی ٹی روڈ سے جگہ جگہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے لاہور جائیںگے۔یہ جو پچھلے دنوں ان کے سابق وزراء کہہ رہے تھے کہ عوام نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلہ کو مستردکر دیاہے۔ لگتا تھا وہ نواز شریف کی محبت میں ان کی اشک شوئی کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں لیکن خود میاں نواز شریف کے اس اعلان سے یہ طے ہو گیا ہے کہ یہی نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ ن کا موقف ہے۔ چونکہ ایسی ہے کہ اس سے نواز شریف کا ''ن'' الگ کر دیاجائے تو بہت سی مسلم لیگوں میں اس کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔ ان ہی کی نامزدگی سے پارٹی اور حکومت کے عہدے تقسیم ہوتے ہیں ۔ اس لیے سابق وزیراعظم کے اس اعلان کو مسلم لیگ ن کا پارٹی مؤقف سمجھنا چاہیے جس کادعویٰ ایک جمہوری پارٹی ہونے کا ہے۔ تاہم اس کے لیے ن لیگ کی کسی مرکزی تنظیم کی طرف سے توثیق کا آنا لازمی ہونا چاہیے۔ جب تک ن لیگ کی طرف سے اس موقف کی سرکاری توثیق نہیں آتی اس وقت تک اسے ایک ایسے شخص کا موقف سمجھا جاناچاہیے جسے عدالت عظمیٰ نے دوبئی میں فائدہ بخش ملازمت اور اس کے حاصل کرنے کے لیے اقامہ کو چھپائے رکھنے اور اسے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کی بنا پر عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ یہ کہنا غلط بیانی ہے کہ انہیں ''بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نااہل قرار دیاگیا ہے''۔ سابق وزیر اعظم نے راولپنڈی میں جس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نااہلی عوام کے ووٹ کی توہین ہے اور یہ کہ فیصلہ عوامی عدالت نے قبول نہیں کیا، اس میں دس ہزار' بیس ہزار یا چلئے ایک لاکھ لوگ ہوں گے۔ کیا یہ اجتماع پارلیمنٹ کا بدل ہو سکتا ہے۔ جب وہ اور ان کے رفقاء کہتے ہیں کہ نااہلی کا فیصلہ عوام نے مسترد کر دیا ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ انہیں یہ کیسے معلوم ہوا۔ کیا انہوں نے کوئی ریفرنڈم کرایایا یونہی جوش محبت میں' جوش خطابت میں یہ تصور کر لیا کہ جو میں سمجھتا ہوں وہی ایک حقیقت ہے۔ راولپنڈی کی جس ریلی کو عوامی عدالت قرار دیتے ہوئے انہوں نے شکایت کی کہ بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والے کو چند لوگ گھر بھیج دیتے ہیں (اس سے ایک روز پہلے انہوں نے چند لوگ کی بجائے پانچ معزز لوگ کہا تھا، اشارہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ کی طرف ہے) فرض کیجئے نوزائیدہ بچوں سمیت انہیں ملک کے بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ حاصل ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ یہ مینڈیٹ کیا ہے۔ کن مقاصد کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ مینڈیٹ حاصل کرنے والے کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟ وہ کہاں جوابدہ ہے؟ جواب ظاہر ہے یہ ہے کہ یہ مینڈیٹ اسے پاکستان کے آئین کے تحت حاصل ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق خود آئین میں اور ملک کے قانون میں کوئی ایسی دفعہ شامل نہیں ہو سکتی جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہو۔اسی آئین میں یہ طے ہے کہ مینڈیٹ لینے والوں کی کیا ذمہ داریاں ہوں گی۔ ان کی جوابدہی کا بندوبست کیا ہوگا۔ ان کی کارکردگی کی شرائط اور ان کے رویے کے بارے میں توقعات بھی اسی آئین میں طے شدہ ہیں۔ اسی آئین میں یہ طے شدہ ہے کہ عدلیہ کے فرائض کیا ہیں اور دائرہ کار کیا ہے۔ مقننہ سے کیا توقعات ہیں۔ انتظامیہ کے فرائض و حدود کیا ہیں۔ انتخابات میںووٹ یا مینڈیٹ اسی آئین کے تحت دیاجاتا ہے اور مینڈیٹ حاصل کرنے والے پر آئین کی پاسداری لازم ہوتی ہے۔ کیا آئین کی پاسداری ہو رہی ہے یا نہیں یہ دیکھنا اور آئین کی پاسداری کو یقینی بنانا عدلیہ کا فرض ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام پاکستان کے آئین کا احترام ہے جو ہر پاکستانی پر لازم ہے۔ میاں نواز شریف جب کہتے ہیں کہ عوام نے عدلیہ کا فیصلہ مسترد کردیا ہے (جو خود وہ کہتے ہیں انہوں نے تسلیم کر لیا ہے) ۔ اگر میاں صاحب ایسا سمجھتے ہیں توایک ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے انہیں ''اپنے عوام'' کو سمجھانا چاہیے کہ وہ آئین کا اور پاکستان کی عدلیہ کا احترام کریں۔ لیکن وہ تو کہہ رہے ہیں کہ لوگو! وعدہ کرو مینڈیٹ کا احترام کراؤگے۔ مینڈیٹ کا احترام تو منتخب ہونے والوں کو کرنا چاہیے۔ عام انتخابات کے نتیجے میں حاصل ہونے والا مینڈیٹ کسی کو سیاہ و سفید کا مالک نہیں بناتا ' کسی کو مطلق العنان حکمران نہیں بناتا۔ مینڈیٹ تو وہی اختیارات و فرائض تفویض کرتا ہے جو آئین میں طے شدہ ہیں۔ خود میاں صاحب اور ان کے حمایتی ایک اصطلاح عوامی عدالت کی بار بار استعمال کر رہے ہیں۔ عوامی عدالتیں لگنے کی خبریں پچھلے دنوں ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہوتی رہی ہیں جن میں اہل محلہ نے کسی کو چور گردانتے ہوئے زندہ جلاڈالا' کسی کو موٹر سائیکل چوری کے شبہ میں مار مار کرمار ڈالا جو لاقانونیت ہے۔ عام انتخابات میں ووٹر اپنی پسند ناپسند کے مطابق اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ اسمبلیوں میں جا کر قانون سازی کریں گے اور انتظامیہ کی نگرانی کریں گے۔ اس عمل کو عوامی عدالت لگانا کہہ کر پکارنا گمراہ کن ہے۔ انتخابات کا نتیجہ قانونی عدالت کا بدل نہیں ہو سکتا۔نہ ہی اس کے نتیجے میں عدالتوں کے اختیارات سلب ہوجاتے ہیں۔

اداریہ