Daily Mashriq


سیاست دانوں کا بیرون ملک علاج

سیاست دانوں کا بیرون ملک علاج

پاکستان میں 90 فی صد لوگوں کو پیرا سیٹا مول کی گولی میسر نہیں ۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور غریب لوگ بغیر کسی علاج معالجے کے سسک سسک کر مرجاتے ہیں اور ہمارے سیاسی راہنماء جس میںسابق صدور، وزرائے اعظم،وزرائے اعلیٰ، صوبائی و وفاقی وزراء ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اور بیوروکریٹس اور دیگر بے شمار سیاسی شخصیات ، صاحب ثروت لوگ عام علاج کے لئے بیرون ملک تشریف لے جاتے ہیں۔ پاکستان کی جتنی بھی ٹاپ کی لیڈر شپ ہے وہ بیرون ملک علاج یا کسی سیاسی ساز باز کے لئے لندن یاترا کرتی ہے۔ کئی سیاسی قائدین و اکا برین کے پالتو جانوروں،یعنی کتے ، بلیوں اور طوطوں کا علاج بھی بیرون ملک کیا جاتا ہے۔وطن عزیز میں سکول ، کالج ، ہسپتال اور ڈسپنسریوں کی حالت کس طرح بہتر ہو سکتی ہے جبکہ ہمارے قائدین اور سیاست دان نہ تو اپنا علاج یہاں ہسپتالوں میں کرتے اور نہ ان کے بچے ان سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ان لیڈران اور سیاسی قائدین کا اپنے ملک کے طبی وتعلیمی اداروں پر کوئی بھروسہ نہیں۔ ایم ایچ اور سی ایم ایچ اور اسکے علاوہ نجی شعبے میں قائم دوسرے طبی ادارے پاکستان کے اعلیٰ ہیلتھ کے ادارے مانے اور تسلیم کئے جاتے ہیں مگر جس وقت مطلق العنان پر ویز مشرف بیمار ہوئے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایم ایچ میں علاج نہیں کریں گے ۔ اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیا وہ اس ہسپتال کے ڈاکٹروں کو نالائق سمجھتے تھے یاوہ اس ہسپتال سے نفسیاتی طور پر متنفر تھے۔ ہمارے یہ سیاست دان جن طبی اداروں میں علاج نہیں کرتے یا جسکو صحیح نہیں سمجھتے ہمارا علاج یاان ڈاکٹروں تک رسائی ہمیں اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب ہم مرنے کے قریب ہوتے ہیں۔ ہمارے ان سیاست دانوں کا نہ صرف اپنے تعلیمی و طبی اداروں پر یقین نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ہمارے ان قائدین اور ملک کے کرتا دھرتا کا ملک کے بینکنگ سسٹم اور ملک میں سرمایہ کاری پر بھی یقین نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام اثاثے بیرون ملک ہیں اور اُنہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لئے اپنے پیسے آف شور کمپنیوں اور آف شور بینکوں میں جمع کیے اور لگائے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام لوگوں کی اقتصا دی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ زکام اور بُخار کا علاج بھی ہسپتال سے نہیں کرسکتے اور کو شش کرتے ہیں کہ کیمسٹ سے دوائی لیکر ڈاکٹر کی فیس سے بچاجائے۔پاکستان میں تقریباً 70 فی صد لوگ اُس وقت ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جب اُنکی حالت قابو میں نہ ہو۔ ورنہ عام کیمسٹ سے دوائی لے کر گزارہ کرتے ہیں۔ یہاں علاج بھی بہت مہنگا ہے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو علاج کے لئے زمین، مکان یا دوسرے قیمتی اثاثہ جات بیچ چکے ہیں۔ مگر پاکستانی سیاسی لیڈروں کو پاکستان میں کوئی ایسا ہسپتال نظر نہیں آتاجس میں اُسکا علاج ہو سکے۔ جب یہ اپنا علاج باہر سے کرتے ہیں تو پھر وہ ہسپتالوں کی حالت کیسے بہتر کریں گے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بجٹ کا بہت کم صحت پر خرچ کر رہے ہیں۔امریکہ اپنی قومی پیدوار کا 19 فی صد طب پر خرچ کرتا ہے جبکہ بر طانیہ 18 فی صد، اور جنوبی ایشیاء کے ہم جیسے غریب ممالک مثلاً نیپال 6 فی صد، بھوٹان 6 فی صد، بھارت 5فی صد، سری لنکا 4 فی صد، بنگلہ دیش 4 فی صد اور بد قسمتی سے پاکستان اپنی قومی پیداوار کا 2.2فی صد صحت پر خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان میں 1960 میں کل 342 ہسپتال تھے اور بد قسمتی سے 70 سال گزرنے کے باوجود اُن ہسپتالوں کی تعداد 2017 ء تک 900 تک پہنچی جو بُہت کم ہے۔اسی طر ح پاکستان میں ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بیڈز میں بھی کوئی خاطر خوا اضافہ نہیں ہوا۔ 1960ء میں 2 ہزار مریضوں کے لئے ایک بیڈ تھا جبکہ2017 ء میں1600 مریضوں کے لئے ایک بیڈ ہے۔ بات صرف یہاں نہیں ختم ہوتی ڈاکٹروں کی فیسوں اور دوائیوں کی قیمتوں میں بھی بے تحا شا اضا فہ ہوا۔ اگر ہم فاٹا ، بلو چستان ، جنوبی پنجاب اور سندھ کا تجزیہ کرلیں تو ان علاقوں میں صحت کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ ہے۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں بچے کم غذائیت اور دوائی نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہم روزانہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پردیکھتے ہیں کہ سندھ کے دیہاتی علاقوں تھر اور دوسرے ریگستانی علاقوں میںروزانہ 5 سے 10 بچے کم غذائیت اور بنیادی علاج نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔جہاں جہاں صحت کا معیار ٹھیک ہے تو وہاں پر لوگوں کی متوقع زندگی بھی زیادہ ہے۔ ہم دور نہیں جاتے جنوبی ایشیاء جو غریب ممالک اور لوگوں کا خطہ ہے اس کی مثال لیتے ہیں ۔ جنوبی ایشیاء میں بھی ہم صحت اور متوقع زندگی کے لحا ظ سے سب سے نیچے ہیں۔پاکستان میں متوقع زندگی 65 سال ہے جبکہ اسکے بر عکس بھارت میں متوقع زندگی 69 سال، سری لنکا میں 75 سال، اور چین میں 87 سال ہے۔ اگر ہم صحت کے دوسرے اعشاریے دیکھیں تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو ایک طرف جنوبی ایشیاء جس کو غریبوں کا مسکن سمجھا جاتا ہے وہاں بھی ہر لحا ظ سے اپنے ہم عصر ملکوں سے سب سے نیچے ہیں۔ اکثر و بیشتر چھوٹے سے چھوٹے مریض کو شہر کے دور دراز ہسپتال میں بھیجا جاتا ہے۔بلکہ اب تو صحت سے متعلقہ شعبہ پورا بزنس بن گیا ہے۔ سرکاری اور حکومتی صحت کے اداروں میں ڈاکٹروں کی غفلت ، مناسب سہولیات نہ ہونے اور بیڈ گور ننس کی وجہ سے اب پرائیویٹ پریکٹس اور پرائیویٹ ادارے ایک مکمل نفع بخش کاروبار بن گیا ہے اور انہی نرسنگ ہومز کے مالکان غریب مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔

متعلقہ خبریں