آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

ہمارے ایک محترم قاری نے برقی مراسلے میں ہمیں جھاڑ پلا تے ہوئے لکھا ہے کہ یہ جو تم سیاست سے اس قدر نالاں ہو ، جب بھی موقع ملتا ہے اسے برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے ، اُسے کبھی غلاظت کاڈھیر سمجھتے ہو تو کبھی اُسے بد بودار جو ہڑ کا نام دیتے ہو ، یہ تم اچھا نہیں کرتے ۔ سیاست کی کوکھ سے تو جمہوریت جنم لیتی ہے ۔ تم اگر سیاست کی مخالفت کرتے ہوتو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جمہوریت کی قدر نہیں جانتے۔ ہم نے اپنے معزز قاری کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! ہم سیاست کے بالکل مخالف نہیں ، بس ذرا سیاستدانوں کے آئے روز بدلتے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اُن میں سے اکثریت چڑھتے سورج کے بچاریوں کی ہوتی ہے ہم ایسے سیاستدانوں کو پسند نہیں کرتے جو ''چرتہ خہ ہلتہ شپہ'' کے قائل ہوتے ہیں یعنی وہ غریب الوطن ، جو چھائو ں دیکھ کر پائوں پسار لیتے ہیں ۔ سیاستدانوں کی یہی بنیا ذہنیت ہمیں پسند نہیں۔ ہم سب کی بات نہیں کرتے اکثر یت مگر اُن میں اس بنیئے کی ہوتی ہے ۔ جو چلچلاتی دھوپ میں کھڑا تپ رہا تھا ۔ کسی شریف آدمی نے اُس سے کہا بھائی سائے میں چلے جائو ، ماتھے پر سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ''سہ بہ راکے'' کیا دوگے ، بنئے سے اگر پوچھا جائے ، جنت جانا پسند کرو گے یا دوزخ ، تو اُس کا جواب ہوگا جہاں سے بھی دو پیسے کا فائدہ ملے، تو ہمیں بس اپنے مفاد کی خاطرگرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے مفاد پر ستوں کا یہ ٹولہ ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ جب انہیں جمہوریت راس آجائے تو اس کے گن گانے لگتے ہیں اور اگر کوئی ڈکٹیٹر جمہوریت کی بساط لپیٹ لے تویہ پھدک کر اُسکے سایہ عاطفت میںچلے جاتے ہیں ۔ غصہ اس بات آتا ہے کہ وہ اپنے موقف پر شرمسار ہونے کی بجائے اُس کے جواز میں دلائل بھی پیش کرتے ہیں ۔نام نہیں لوں گا ایسی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہمیں موجودہ الیکٹرانک میڈیا اس لئے پسند ہے کہ بعض اوقات جب وہ سیاستدانوں کے پرانے اور نئے سیاسی موقف کے ویڈیو کلپس پیش کر کے اُن کی منا فقت کا پردہ چاک کرنے لگتی ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے ووٹ دے کر ایوانوں میں اپنی نمائندگی کے لئے بھیجا تھا ۔ ہم نے سن رکھا ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں کہ قیامت کے روز انسانوں کے اعضاء و جوارح اُن کے اعمال پر گواہی دیں گے ۔ آج کی جدید الیکٹرانک میڈیا دنیا میں یہ کام کر رہی ہے ، سیاستدانوں کے اعمال نامے محفوظ کرتی ہے ، جب یہ سیاستدان اپنے نئے موقف کے حق میں دلائل کے انبار لگانے لگتے ہیں تو اُن سے کہا جاتا ہے ، حضور والا ، اب ذرا چند سال پہلے کا یہ موقف بھی سن لیجئے جس میں آپ اپنے موجودہ موقف کے بر عکس فر ما رہے تھے ۔

حیرت اُس وقت ہوتی ہے کہ یہ حضرت اپنے پرانے موقف کی رداور نئے کے حق میں بے تکان بولنے لگتے ہیں ۔ شرم اُن کو مگر نہیں آتی ۔ اس ضمن میں بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ابھی کل ہی کی بات ہے سابق وزیر اعظم فرما رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کے ایک سابقہ وزیراعظم جن کو عدالت نے نااہل قرار دیا تھا ، ہمیں اُس فیصلے سے شدید اختلاف ہے دوسرے ہی لمحے ایک پرائیویٹ چینل پراُن کے اُس بیان کا کلپ چلا دیا گیا جس میں اُنہوں نے اُسی وزیراعظم کے خلاف فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اُن کے ساتھ جو ہوا ، یہ اُن کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھااور یہ کہ فیصلہ آنے سے پہلے ہی اُنہیں وزیراعظم ہائوس سے رخصت ہو جا نا چاہیئے تھا۔ اسی طرح وہ آج کل اپنی نا اہلی کا ماتم کرتے ہوئے کنٹینر میں بیٹھ کر نکلے ہیں جن کا انہیں پوری طرح حق ہے۔ دوسال پہلے تک وہ کنٹینر سیاست کے شدید مخالف تھے ، اور فرمایا کرتے تھے ، کہ لوگو سنو ! کنٹینر پر کھڑے ہو کر سیاست نہیں کی جاتی۔ ایک صاحب جو کچھ سال پہلے تک ، فوجی آمر کی پالیسیوں کی تبلیغ و تشریح کی مہم میں پیش پیش رہتے پانامہ کیس کے دوران ہر سماعت کے بعد روزانہ نون حکومت کے حق میں آستین چڑھا کر تقریر یں فرمانے لگے تھے ۔ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں اُن کے سامنے وہ پورا موقف پیش کیا گیا جس میں وہ اپنے موجودہ ممدوح کی پالیسیوں پر کڑی تنقید فرما رہے تھے خاموشی سے دیکھتے رہے۔ آپ نے وہ ویڈیو کلپ دیکھا ہوگا ہم بھی بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہیں جب ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نے اپنے ایک موجودہ حلیف کو منہ پر کہا تھا کہ میں تمہیں اپنی جماعت میں چپڑاسی رکھنا بھی پسند نہیں کرونگا پھر انہوں نے ہی چپڑاسی کی آسامی کے لئے اُس نا اہل شخص کو وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے نامزد کر دیا۔ بتا نا صرف یہ مقصود تھا ، کہ ہم ملک کے چلانے میں سیاست کی اہمیت کے مخالف نہیں بس ذرا سیاستدانوں کے بدلتے موقف اور سیاست میں بنیا ذہنیت پر افسوس ہوتا ہے وہ جو ایک شاعر نے کہا ہے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اُس پہ ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے
جھوٹ بولنا تو خیر ہم کسی طور بھی جائز نہیں سمجھتے لیکن موجودہ سیاست میں صاحب کردار لوگوں کا فقدان ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ضرور ہے اللہ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے موقف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اداریہ