کچھ تو اعتراف حقیقت ہے

کچھ تو اعتراف حقیقت ہے

جب ایر ان میں رضا شاہ پہلو ی کے خلاف انقلا ب برپا ہو ا تو اس وقت امریکی تھنک ٹینک اس خطے کی صورت حال کی ٹوہ لگانے میں مگن تھے ان کا پہلے سے گما ن تھا کہ اگر ایر ان میں شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا تو پھر ایران کی سلا متی بھی ختم ہو جا ئے گی اور ایر ان کے وہ علا قے جو غیر شیعہ آبادی کی اکثریت رکھتے ہیںاور جو غیر ایر انی قبائلی ہیں مثلا ًبلو چ وغیر ہ ایران سے علیحد گی کا اعلا ن کردیںگے مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔ سب کچھ امریکی خواہشات کے برعکس رہا ، جو قوم بیدار ہو اس کا غیر ملکی طاقتیں کچھ نہیں بگاڑ پاتی ہیں ، جب امام خمینی کا جہا ز تہر ان کے ہو ائی مستقر پر اترا تو اس وقت استقبال کے لیے عوام کا ٹھاٹھے ما رتا ہو ا سمند ر وہا ں موجو د تھا خمینی جہا ز سے اتر کر مو ٹر کا ر میں سوار ہوئے تو انقلا ب کے گروید ہ لو گو ں نے امام خمینی کی مو ٹر کا ر اپنے کند ھو ں پر اٹھالی اور اسی حالت میں میلو ں کا فاصلہ طے کر کے مو صوف کو ان کی منزل تک پہنچا دیا۔ ایسا تاریخی استقبال کسی لیڈر کی کتا ب زیست میں نظر نہیں آتا اور اسی کو سچا رہنما کہا جا تا ہے ۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ کبھی کوئی بھی شخصیت ڈنڈے کے زور پر عوام کے دلو ں میں گھر نہ کر سکی ہے بلکہ وہ عوامی غیظ و غضب کا نشانہ رہی ہے یہ صورت حال پاکستان کی بھی ہے ۔ پا کستان کے موجو دہ حالات پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوجا تا ہے کہ اس ملک میں درجنو ں بھر سیا سی جما عتیں ہیں اسی حساب سے لیڈر بھرے پڑ ے ہیںلیکن اصل لیڈر وہی ہیں جو عوام کے دل میں بستے ہیں یہ بات اب تک یا تو عمر ان خان نے ثابت کی ہے یا اب نو از شریف نے اسلا م آباد سے لاہور منتقلی کے وقت ثابت کر دکھائی ہے مگر نو از شریف کا معاملہ عمر ان خان نیا زی سے کا فی مختلف نو عیت کا ہے ، نواز شریف تین مر تبہ پاکستان کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے اور ہر مرتبہ ان سے عوامی مینڈیٹ لے لیا گیا اور ہر مرتبہ انہو ں نے بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر ثابت کیا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں ، عدالتی فیصلے کے بعد میاں نو از شریف نے جو تاثر دیا تھا اس میں انہو ں نے کہا تھا کہ انہو ں نے تو عدالت کا فیصلہ مان لیا مگر عوام نے نہیں ما نا گویہ عجیب بات لگ رہی تھی مگر اسلا م آباد سے لاہو ر روانگی کے دوران ان کے ساتھ ہجو م کا جو والہانہ جو ش و جذبہ دیکھنے میں آیا تو بات سمجھ میںآئی کہ کسی بھی طور طریقے سے عوامی لیڈر کو عوام کے دلو ں سے خارج نہیں کیا جا سکتا ، میڈیا نے جو رپو رٹنگ کی ہے اس کے مطابق جگہ جگہ لو گ سابق وزیر اعظم کی گاڑی کو چوم رہے تھے ۔ یہ نیا اند از پاکستان میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا اس کے ساتھ ہی ایک اچھو تی با ت یہ بھی سامنے آئی کہ بالکل نئی طرز کا نعرہ بھی عوامی سطح پر منظر عام پر آیا اور اس پر حیر ت بھی ہوئی کہ جس جرم میں نو از شریف کو نااہل قر ار دیا گیا ہے وہ ان کے لیے نعرہ بن کر عزت افزائی کر رہا ہے کہ میا ں نو از شریف کے استقبال میں جہا ں دوسرے نعرے لگ رہے ہیں یہ نعرہ بھی لگ رہا کہ صادق اور امین آگیا ، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے ایسا محسو س ہو تا ہے کہ مسلم لیگ ن اس نعرے کو مقبولیت سے ہمکنا ر کر ے گی ۔ نو از شریف کی ریلی کے بارے میں رائے بٹی ہو ئی ہے میڈیا کی سطح پر تو نما یا ں طور پر تقسیم ہے جب کہ سیاسی شخصیات کے تبصرے جانبداری اور تعصب سے عاری نہیں ہیں الیکٹرانک میڈیا درست منظر کشی نہیں کر رہا ہے حالانکہ الیکٹرانک میڈیا بنیادی طورپرعوام کا اثاثہ ہو تے ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ سے اعراض نہ کریں چنا نچہ ہو یہ رہا ہے کہ جو مسلم لیگ ن کے حامی ہیں وہ ریلی کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں اور جو مخالف ہیں وہ اس کو نا کام ترین قرا ر دے رہے ہیں لیکن ا ن کو یہ علم ہوناچاہیے کہ پاکستانی عوام شعور سے بہر ہ مند ہیں وہ کسی کے پروپیگنڈے کا شکا ر نہیں ہو سکتے جیسا کہ وہ دھر نے اور صادق امین کے معاملے میں اپنا مینڈیٹ رکھتے ہیں کسی جھا نسے میں نہیںرہے اخباری دنیا کا بھی رویہ کچھ ایسا ہی ہے مگر پھر بھی بہتر ہے بہر حال عوامی رائے عامہ کو گمر اہ کرنا بڑا غیر اخلا قی فعل ہے جس سے اجتنا ب کی ضرورت ہے ۔ جہا ں تک سیا سی شخصیات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی سیاست کے ہیر پھیر میں کسی سیا سی فریق یا جماعت کی مقبولیت کو پی تو نہیں سکتے۔ اپنے سیا سی مفادات کے مطا بق ہی تبصرے کریں گے۔ بہر حا ل یہ کوئی بڑ اا یشو نہیں ہے کہ ریلی کامیا ب ہے یا نا کا م اصل مسئلہ یہ ہے کہ پا کستان میں جو یہ رواج ہے کہ کسی سول وزیر اعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی جا تی چاہے وہ کتنی ہی بھاری مینڈیٹ کے ساتھ منتخب ہو کر آئے ، دیکھنا یہ ہے کہ عمر ان خان جنہو ں نے ساڑھے چار سال تک نو از شریف کو اقتدار سے الگ کر نے کی مشقت میںلگا ئے ان کو کیا حاصل ہو ا بظاہر تو یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ اقتدار کی کر سی پر چہر ہ ہی بدلا ہے باقی سب پر اناہی پر انا ہے ، اس کی بہ نسبت نو از شریف نے ایک کامیاب سیاست دان کی طرح اپنی سیاسی مقبولیت کو نہ صرف بٹہ لگا نے سے بچایا بلکہ سیا سی مقبولیت چاہے وہ اند رون ملک ہے یا بیر ون ملک اس میں سواد پایا ہے اور خود کو ایک کا میا ب سیا ست دان ثابت کر دیا کیو ں کہ مسلم لیگ کی تاریخ میںپہلی مر تبہ اقتدار کے ڈول جا نے سے مسلم لیگ بکھر ی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبو ط ہو ئی ہے اور اپنی قیا دت کے ساتھ پورے طور پر کھڑی نظر آرہی ہے۔ جہا ں تک چودھری نثارکا تعلق ہے تو وہ مسلم لیگ کے چونچال رہنما ہیں کوئی فکر کی بات نہیں ہیں ۔ مسلم لیگ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اسڑیٹ پاور کی واحد جما عت تحریک انصاف ہی نہیں ہے بلکہ مسلم لیگ کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے چنا نچہ اگلے انتخاب میں ان دو بڑی سیا سی قوتو ں کا انتخابی ٹاکرا بڑا دلچسپ ہو گا ۔

اداریہ