حکومت کا لانگ مارچ

حکومت کا لانگ مارچ

میاں نوازشریف ایک مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور کی طرف چل پڑے ہیں ۔ان کے قافلے میں پنجاب ،آزادکشمیر اور خیبر پختون خواسمیت دور دراز علاقوں سے لوگ شامل ہیں۔وفاقی حکومت ،پنجاب ،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان اور بلوچستان کی حکومتیں بھی اس مارچ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں جن صوبوں میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں نہیں وہاں بھی گورنر ہا ئو سز پر مسلم لیگ ن کا جھنڈا لہرا رہا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا لانگ مارچ ہے جس میں ایک سابق وزیر اعظم جنہیں بار بار اصلی وزیر اعظم کہا جارہا ہے ،ایک موجودہ وزیر اعظم ،وفاقی وزراء ،صوبائی وزرائے اعلیٰ ،بلدیاتی اداروں کے نمائندے سرکاری وسائل اور لائو لشکر کے ساتھ شریک ہیں ۔عمومی طور پر لانگ مارچ اپوزیشن اپنے مطالبات منوانے کی خاطر منعقد کرتی ہے مگر حکومت لانگ مارچ کس کے خلاف کر رہی ہے ؟ یہ ایک جائز سوال ہے ۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ریاست کا ایک ادارہ یعنی انتظامیہ کچھ ریاست کے دوسرے اداروں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پر بضد اور مُصر ہے۔اس طرح یہ چیئرمین مائو کا لانگ مارچ بھی نہیں بلکہ پاکستان اور خود میاں نوازشریف کے ماضی میں کئے جانے والے لانگ مارچز سے قطعی مختلف ہے ۔یہ سب لانگ مارچ بے وسیلہ اپوزیشن عوامی حمایت سے کرتی رہی ہے مگر یہاں تو باوسیلہ حکومت کیل کانٹے سے لیس ہو کر مارچ کررہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نوازشریف کو کنٹینر پر چڑھانے کا سہرہ کچھ اخبار نویسوں کے سر ہے جن کا کہنا تھا کہ نوازشریف محمد خان جونیجو بن کر خاموشی سے گھر کی راہ نہ لیں بلکہ دھوم دھڑکے کے ساتھ گھر کو چل پڑیں۔جونیجو پاکستان کی تاریخ کے ایک شریف النفس کر دار تھے ۔جنرل ضیاء الحق نے انہیں سب سے بے ضرر جان کر غیر جماعتی اسمبلی کا قائد ایوان بنایا تھا مگر ان کا المیہ بھی یہ ہوا کہ وہ اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگا بیٹھے ۔جنرل ضیاء نے انہیں اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے منتخب کیا تھا مگر عالمی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں جنرل ضیاء الحق کے خیمے میں اونٹ بننے کی ہلہ شیری دی ۔یہ وہ لمحات تھے جب افغان جہاد اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا اور سر دجنگ کا ماحول بھی ختم ہو نے جا رہا تھا ۔بدلتی ہوئی اس فضاء میں جنرل ضیاء بھی اثاثے سے بوجھ بن رہے تھے ۔جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت برطرف کردی تو پنجاب اور سرحد کے طاقتور وزرائے اعلیٰ میاںنوازشریف اور جنرل فضل حق ان کا اعلانیہ ساتھ چھوڑ کر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ کھڑے ہوئے ۔ آزادکشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم خان جو چند ماہ پہلے تک جونیجو مرحوم کے اعزاز میں جلسے منعقد کر رہے تھے کا یہ تبصرہ تو بہت دلخراش تھا کہ جونیجو کو سیاست چھوڑ کر اب سندھڑی میں آم بیچنے چاہئے ۔ اس لئے جونیجو اور آج کے نوازشریف کا کیا موازنہ ؟ جونیجوکس بل بوتے پر جی ٹی روڈ پر نکلتے جبکہ نوازشریف تو صرف جسمانی طور پر اقتدار سے باہر ہوئے ہیں باقی پورا سسٹم انہی کو اصلی وزیر اعظم قرار دے رہا ہے ۔حد تو یہ کہ شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف کے سرگرم ہوتے ہی عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری بھی لاہور پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے لاہور میں ایک دھواں دھار خطاب کیا ۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ایک جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔ملک میںبھی انہیں بار بار اصلی وزیراعظم کہہ کر خود کو نقلی وزیر اعظم کہہ رہے ہیں۔آزاد سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ملک میں محاذ آرائی اگر ایک حد سے بڑھ گئی تو اس سے جمہوریت ہی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔جمہوریت کی بساط لپٹ جانے کے بعد سب خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ایسا ہونا کسی المیے سے کم نہیں ہوگا ۔جمہوریت میں کچھ ہو نہ ہو مگر پانچ سال بعد چہرہ بدل جانے کی امید تو ہوتی ہے جبکہ آمریت میں معاشرہ گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے اور ایک ہی چہرہ دیکھ دیکھ کر لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اس سے بے شمار سماجی اور سیاسی مسائل جنم لیتے ہیں۔ملک کی سیاسی قیادت کو حالات اس نہج تک نہیں لانا چاہئے کہ سب کو ایک ہی کنٹینرپر بیٹھنا پڑے اور میڈیا ان کے ایک دوسرے کے بارے میں پرانے خیالات کی ویڈیو ز چلا کر انہیں شرمسار کرتا رہے ۔ چند دن پہلے میاں محمدنوازشریف نے سوال پوچھا تھا کہ کوئی ایسی عدالت ہے جو آئین پامال کرنے والے ڈکٹیٹر کو سزا دے ۔قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ آمروں کو کب سزا ملے گی۔اگر کسی آمر کو سزا نہیں مل سکتی تو نظریہ کیا ہے؟سابق وزیر اعظم کا یہ سوال بڑی حد تک جائز ہے مگر اس سوال کے پیچھے ایک کھینچا تانی ،رسہ کشی اور پھر حتمی فتح کی ایک پوری کہانی ہوتی ہے ۔ایک ڈکٹیٹر راتوں رات ٹی وی پر نمودار ہو کر ''عزیز ہم وطنوالسلام علیکم '' نہیں کہتا ۔ہر ڈکٹیٹر کے ظہور کے پیچھے ایک پوری کہانی اور اس کی آمد میں واقعات اور حادثات کے ایک تسلسل کا عمل دخل ہوتا ہے۔یہ کھیل اس وقت شروع ہوتا ہے جب سیاسی حکمران اپنی طاقت ،صلاحیت اور پاکستان کی زمینی حقائق کو فراموش کر دیتے ہیں جس سے طاقت کی ایک کشمکش اُبھرتی ہے۔پاکستان میں ایک بار قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے تو پھر کسی کو یہ سوال کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو گی جو میاں نوازشریف نے پوچھا ہے۔فوج اور سیاست دانوں کو مل جل کر ایسے اقدامات کرنے چا ہئیں کہ آئین کی پامالی کی نوبت ہی نہ آئے ۔حالات کو اس نہج تک ہر گز نہیں پہنچنا چاہئے۔ابھی طبقاتی اور ادارہ جاتی کشمکش جا ری ہے اسی لئے سب اپنے اپنے طبقات کو قانون کی زد سے بچانے کی کوشش کر گزرتے ہیں جو بہر حال ایک غیر اصولی بات ہے ۔

اداریہ