Daily Mashriq


ای ووٹنگ ناگزیر ہے

ای ووٹنگ ناگزیر ہے

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آرٹی ایس)میں آنے والی رکاوٹوں اور تکنیکی خرابیوں کو دور کیا جائے اور ضمنی انتخابات میں ای ووٹنگ کا تجربہ کیا جائے۔سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور شہریوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا حق نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ ضمنی انتخابات کے دوران انتخابی سافٹ ویئر کا تجربہ کرنے سے متعلق اپنی تجاویز پیش کریں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ ضمنی انتخابات کے دوران تقریباً 8کروڑ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سافٹ ویئر کی جانچ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرے کیوں کہ یہ ان کا آئینی حق ہے۔اس ضمن میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ضمنی انتخابات 15 سے 20اکتوبر کو متوقع ہیں، جس میں کچھ حلقوں میں ای ووٹنگ کے لیے مرتب کردہ سافٹ ویئر کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔تاہم عدالت نے حکم دیا کہ اس سلسلے میں کم از کم ایسے 50حلقوں کا انتخاب کیا جائے جن میں کوئی تکنیکی مسائل پیدا نہ ہوں۔حالیہ انتخابات میں جس قسم کی صورتحال سامنے آئی اس کے اسباب و علل کے حوالے سے مختلف رائے قائم کی جاسکتی ہے ۔ جس قسم کی الزام تراشی شکست خوردگان کر رہے ہیں ان سے بھی مکمل اتفاق ممکن نہیں اس سب کے باوجود یہ بہرحال تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں انتخابات کی شفافیت ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی با اختیار اور طاقتور بنانے کا تجربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ انتخابی نتائج کے حصول اور مرتب کرنے کے لئے الیکٹرانک نظام وضع کیاگیا مگر سب بے سود گیا۔ قبل ازیں اس نظام کے بیٹھ جانے کا عندیہ دیا گیا مگر گزشتہ روز عدالت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے متضاد موقف اپناتے ہوئے کہا کہ یہ نظام خراب اور ناکام نہیں ہوا سست پڑ گیا تھا۔ اس ضمن میں نظام وضع کرنے والے ادارہ نادرا کا موقف چونکہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ لہٰذا اسے وقعت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ارباب حل و عقد سے استفسار کا موقع ہے کہ انہوں نے اس قابل اعتماد نظام کو بند کرکے جو فرسودہ ناقابل اعتماد اور شکوک و شبہات کاعین باعث بننے والا طریقہ اختیار کیا کیا وہ تیز رفتار تھا کیا انسانی تگ و دو مشینوں کا مقابلہ کرسکتی ہے اولاً تیز رفتاری اور عجلت مطلوب ہی نہ تھی اور اگر مطلوب تھی تو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ رات بارہ بجے تک جو نظام پچاس فیصد نتائج وصول کر چکا کیا وہ صبح ہوتے ہوئے باقی نتائج بھی وصول اور وضع نہیں کرسکتا تھا۔ علاوہ ازیں اس امر کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ الیکشن کمیشن کے وہ کون سے عہدیدار‘ ذمہ دار یا ٹیم تھی جنہوں نے اس نظام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک سرکاری ادارہ ہونے کے ناتے نادرا نے قومی مفاد کی سل رکھ کر معاملہ دبا دیا ہے لیکن سینٹ کی کمیٹی‘ پارلیمانی کمیٹی اور عدالتی کمیٹی یا جو بھی دیگر کوئی موزوں فورم ہو وہ تو یہ سوالات کرسکتی ہے اور ان کو جواب و وضاحت قومی مفاد کا تحفظ ہوگا اس کی خلاف ورزی ہر گز نہ ہوگی۔ سڑکوں پر جو لوگ مناسب اور نا مناسب طور پر احتجاج اور تقریریں کر رہے ہیں ان کو بجائے اس کے تکنیکی طور پر اور مہارت و تجربے کی روشنی میں ان غلطیوں اور افعال پر فوکس کرنا چاہئے جو وجہ نزاع بن گئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اندریں حالات الیکٹرانک ووٹنگ ہی مداخلت کاری کی روک تھام اور ساری سیاسی جماعتوں کے لئے قابل قبول طریقہ باقی رہ گیا ہے جس کی عدالت نے تجربہ کرنے کی ہدیت کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے خواہ مخواہ کے شبہات کا اظہار کرنے کی بجائے اگر اعتماد اور خلوص نیت کے ساتھ اس نظام کو لاگو کیا جائے تو ملکی سیاست کی وہ سمت متعین ہوگی جس میں عوام کے فیصلے کی اہمیت اور ووٹ کی عزت و توقیر ہوگی۔ ای ووٹنگ دنیا میں مروج عمل ہے اور فی زمانہ یہ کوئی مشکل بھی نظر نہیں آتا۔ اب تو انگوٹھے کی شناخت کرنے والی مشین جا بجا مستعمل ہیں ایک مربوط نظام نادرا کا پوری طرح فعال اور قابل اعتماد صورت میں موجود ہے۔ ضرورت اس کا فیصلہ کرنے کی دیر ہے ۔ عام انتخابات کے نتائج پر ملک میں جو تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے خدا جانے اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ اس امر کو دیکھتے ہوئے واحد حل یہی نظر آتا ہے کہ اس نظام کا ضمنی انتخابات میں تجربہ کیا جائے اور سامنے آنے والی خامیوں اور خرابیوں کاتعین کرکے ان کو دور کرنے کے لئے پورے پانچ سال کا وقت ہے۔ اس نظام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دینا ممکن ہوگا جس کا مقدمہ پہلے ہی عدالت میں ہے۔

متعلقہ خبریں