Daily Mashriq

نامزد وزیر اعلیٰ کا عزم اور عوامی توقعات

نامزد وزیر اعلیٰ کا عزم اور عوامی توقعات

نامزد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہاہے کہ وہ کسی کا پلانٹڈ نہیں خیبرپختونخوا کے عوام کا منتخب نمائندہ ہے ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔انہوںنے کہا کہ خیبر پختونخوا کے جاری منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ 18لاکھ روپے سٹاف کی غلطی سے میرے اکائونٹ میں آگئے تھے جو میں نے واپس کر دیئے تھے۔انہوںنے کہا کہ عاطف خان سے ان کا کوئی اختلاف نہیں اس سے قبل بھی ہم اکٹھے کام کر چکے ہیں آئندہ بھی ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کریں گے ۔خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے لئے اکثریتی جماعت کے امیدوار کی نامزدگی کے موقع پر پارٹی میں مختلف شخصیات کی کوششوں کو گروپ بندی سے تعبیر کرنا معمول کے سیاسی عمل کی غلط تشریح تو قرار دی جاسکتی ہے لیکن یہ کسی اچنبھے کی بات نہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں عہدوں کے لئے اس قسم کی مساعی سامنے آتی ہیں اور عہدے کے لئے نامزدگی کے مرحلے کی تکمیل کے بعد وہ مساعی باقی نہیں رہتیں جس کو گروپ بندی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ جمہوری جماعتوں میں اختلاف رائے کی بھی اس قسم کی تشریح درست نہیں اختلاف رائے بھی کوئی غیر معمولی عمل نہیں۔ سیاست اور جمہوریت کا حصہ اور حسن ہے البتہ پارٹی قیادت کی جانب سے کسی امیدوار کی نامزدگی کے بعد اس کے مد مقابل آنے کی گنجائش نہیں۔ خیبر پختونخوا میں قائد ایوان کے لئے نام سامنے آنے تک کی صورتحال اب باقی نہیں اور محمد خان متفقہ طور پر وزارت علیا کے اکثریتی جماعت کے امیدوار ہیں۔ ان کی کامیابی کا امکان مرکز اور پنجاب سے کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے۔ متوقع وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا عوامی توقعات پر پورا اترنے کا عزم اور جماعتی منشور کے مطابق عوام کی خدمت کا عزم احسن بھی اور ان کی ذمہ دار ی بھی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبے کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک حکمران جماعت کو دوسری مرتبہ تسلسل کے ساتھ حق حکمرانی سونپ کر تحریک انصاف کو جس امتحان میں ڈالا ہے اس لئے عوام کی توقعات بھی کہیں زیادہ ہیں جن پر پورا اترنا نامزد زیر اعلیٰ کے لئے بہت بڑے امتحان سے کم نہ ہوگا۔ نامزد وزیر اعلیٰ نے اپنے سابق دور میں عملے کے جس غلطی کا تذکرہ کیاہے صوبے کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اس قسم کی کسی مزید غلطی کی گنجائش نہیں اس لئے ان کو مزید محتاط رویہ اپنانا ہوگا تاکہ غلط فہمی کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ صوبے کے اہم منصوبوں بی آر ٹی‘ سوات ایکسپریس وے اور اس جیسے دیگر نا مکمل منصوبوں کی کم سے کم وقت میں تکمیل ہی کافی نہ ہوگی بلکہ صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ نئے منصوبے شروع کرنے اور عوام کو کم سے کم وقت میں تبدیلی کا عملی تاثر بھی دینا ان کا امتحان ہوگا۔ ان کی جانب سے کسی کے حوالے سے کسی غلط فہمی نہ ہونے اور ٹیم ورک کا عزم اچھی حکمت عملی ہوگی جس پر کار بند رہنے سے حکمران جماعت حکومت اور عوام سبھی کامفاد وابستہ ہے۔ اراکین کابینہ اور حکومتی عہدیداروں سے مشاورت اور اعتماد کی فضا میں کام کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مقصد کا حصول ادھورا رہ جائے۔
تعلیمی بورڈ مردان کے معاملات پر توجہ کی ضرورت
خیبر پختونخوا کے نجی سکولوں کے ایک نیٹ ورک کے عہدیدار نے بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کے انٹرکے امتحانی نتائج پر جن تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ ہمارے امتحانی نظام اور تعلیمی بورڈوں میں درپیش صورتحال میں لمحہ فکریہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹاپ ٹونٹی پوزیشنز میں فیورٹ ازم،اقربا پروری کا مظاہرہ کیا گیا جس کی تحقیقات کی جائے۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے ادارے کے وہ طلبا جنہوں نے ایٹا ٹسٹ اور جی آئی کے ٹسٹ ٹاپ کئے ہیں انہیں ایک سازش کے تحت اعلیٰ پوزیشنز سے محروم رکھا گیا۔انہوں نے کہاکہ بورڈ کے کنٹرولر امتحانات بنیادی طور پر ایک کلرک ہیں یہ عہدہ ٹیچنگ کیڈر کے لئے ہے کیونکہ کلرک امتحانی معاملات ،طلباء کے مسائل اور کورس سے نابلد ہوتے ہیں۔ کنٹرولر نے ذہین طلبہ کی حق تلفی کی ہے جس پرانصاف کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔نجی سکول کے طلبہ سے واقعی زیادتی ہوئی ہے یا نہیں اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا یہ ضروری نہیں کہ ٹاپ کرنے والے طالب علم دیگر مواقع پر بھی اسی کارکردگی کامظاہرہ کریں۔ ہمارا نظام امتحان اور نظام تعلیم ہی اس قسم کا ہے کہ اس میں حادثاتی طور پر نمایاں پوزیشن کے حصول کی گنجائش ہے جبکہ ذہین طلبہ سے نا انصافی تو بالکل بھی غیر متوقع نہیں موصوف نے بورڈ کے عہدیدار کے حوالے سے جن الزامات کا اعادہ کیا ہے وہ اپنی جگہ درست ضرور ہوں گے لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ حکومتی حلقوں سے قربت کے باوجود محولہ سکول کے عہدیداروں نے اس کی بروقت نشاندہی کیوں نہ کی اور اب وہ اس پر الزام کیوں لگا رہے ہیں۔ اس سے جانبداری کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ بہر حال ان کے الزامات کی پوری طرح تحقیقات ہونی چاہئے اور بورڈ میں اہم عہدوں پر صرف اہل ہی نہیں دیانتدار افراد کا تقرر کیا جائے تاکہ طلبہ کے ساتھ انصاف ہوسکے۔

اداریہ