Daily Mashriq

گمبھیر تر ہوتے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا

گمبھیر تر ہوتے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا

مسائل بہر طور موجود ہیں اور غیر ملکی قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ انتخابی سیاست کے خوش کن وعدوں اور عمل کی دنیا کے معاملات مختلف ہوتے ہیں۔ انتظار کرنا ہوگا کہ نئی حکومت مسائل سے کیسے عہدہ برآ ہوتی ہے۔ غربت کی لکیر کے نیچے کی آبادی 50فیصد سے زیادہ ہے۔ ماضی کی ساری حکومتیں غربت مکائو پروگرام چلاتی رہیں لیکن غربت بلٹ ٹرین کی رفتار سے بڑھی۔ اس کی دو وجوہات ہیں اولاً آمدنی و اخراجات میں توازن پیدا کرنے والی پالیسیوں کا نہ ہونا اور دوسرا خود ان حکومتوں کی مختلف ترجیحات۔ بجا ہے کہ 2008ء سے 2013ء کے درمیان رہنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے آئینی ترامیم اور قانون سازی کے حوالے سے پچھلے تیس برسوں میں سب سے زیادہ کام کیا لیکن مستحکم معاشی پالیسیاں وضع نہ کر پائی وجہ وہ تگڑم تھی جن کی خوشنودی کے لئے جناب نواز شریف کبھی کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جاتے تھے اور کبھی چودھری نثار کی قیادت میں نون لیگ ایوان صدر کے دروازے پر دھاوا بولتی تھی۔ خود نون لیگ بھی پانچ سال کے دوران غربت کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات نہ کر پائی۔ اس کی محبتیں زیادہ تر لاہور پر نچھاور ہوئیں یا جی ٹی روڈ پر دونوں حکومتوں نے بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام پر توجہ دی۔ ان دنوں ان کالموں میں عرض کیا تھا کہ ’’ زیادہ مناسب یہ ہے کہ دو تین ہزار روپے ماہانہ دینے کی بجائے اربوں روپے کے فنڈز سے چھوٹی اور گھریلو صنعتیں لگوائی جائیں تاکہ نچلے طبقے کے لوگ اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔‘‘ یاد پڑتا ہے کہ کم از کم 1985ء سے اپنے کالموں میں یہی عرض کرتا آرہا ہوں کہ غربت امداد و خیرات سے نہیں بلکہ بحالی کے چھوٹے چھوٹے منصوبوں سے ختم ہوسکتی ہے۔ اب بہر طور پر اس چیلنج پر توجہ دینا ہوگی۔ تعلیم کو کاروبار ایک سازش کے تحت بنایاگیا۔ نجی تعلیمی ادارے ہونے چاہئیں تاکہ مقابلے کی فضا بن سکے۔ مگر یہاں تو نظام ہی الٹ ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں گنتی کے چند ہی وقار اور معیار برقرار رکھ پائے۔ دوسرا ستم یہ ہوا کہ نصف درجن کے قریب تعلیمی نصاب ہیں حالانکہ یکساں تعلیمی نصاب کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں مگر نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے میڈیا ہائوسز بنا رکھے ہیں اس لئے حکومتیں بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہیں۔
تحریک انصاف کی اٹھان اور حالیہ انتخابی نتائج پر تحفظات اپنی جگہ لیکن جیسے بھی اب اقتدار اسے مل رہا ہے تو نیزے بھالے نکال لینے کی بجائے اسے موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے منشور پر عمل کرسکے اور انتخابی مہم کے دوران پہلے 100 دن کے پلان پر اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھائے۔ انتخابی نتائج پر تحفظات اور شکایات پر پارلیمان میں ہی بات ہونی چاہئے۔ یہی بات ہمارے وہ سیاسی زعما 2014ء میں اس وقت کرتے تھے جب تحریک انصاف 2013ء میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف سڑکوں پر تھی۔ یہ امر سبھی پر عیاں ہے کہ جن مسائل کا ملک‘ عوام اور نئی حکومت کو سامنا کرنا پڑے گا وہ خاصے گمبھیر ہیں۔ بالائی سطور میں تعلیم کے حوالے سے چند معروضات پیش کیں۔ صحت کا شعبہ بھی دگر گوں حالات کا شکار ہے۔ تعلیم کی طرح صحت بھی کاروبار ہے۔ نجی ہسپتالوں کے اخراجات عام آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ 68فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ دیہی علاقوں میں نجی سہولتوں کا فقدان ہے۔ پیدائش کے عمل کے دوران زچہ و بچہ کی اموات بھی تو زیادہ تر دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں۔ سہولت یافتہ شہروں اور دیہی علاقوں میں مجموعی طور پر ان اموات کی شرح 25ہزار سالانہ ہے۔ پچھلے دور میں ہمارے بہت سارے دوست صرف سندھ کے تھر کو فوکس کئے رہے کیا وہ اب دو قدم آگے بڑھ کر عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ ’’ ترقی یافتہ پنجاب‘‘ میں زچہ و بچہ کی سالانہ شرح اموات کیا ہیں؟۔
منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد میں ہر سال 37ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے ۔ 1987 ء میں منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد 19لاکھ سے 23لاکھ کے درمیان تھی بعد کے سالوں میں یہ تعداد بڑھتی رہی لیکن بد قسمتی سے پاکستان یوتھ لیگ جیسی سماج سدھار دوسری کوئی تنظیم میدان عمل میں نہ اتری سو صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ یہی صورت بیروزگاری کے حوالے سے ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان بیروزگاروں کے لشکر میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ نوجوان بیروزگار ہیں۔ یہ میٹرک سے اعلیٰ تعلیم تک کے حاملین ہیں۔ میٹرک سے کم تعلیم والے بیروزگار نوجوانوں کی تعداد ان کے مساوی نہیں تو کم بھی نہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے۔
روز مرہ ضرورت کی اشیاء کے نرخ کسی ضابطے کے نہیں بلکہ آڑھتیوں اور پرچون فروشوں کی مرضی سے مقرر ہوتے ہیں۔ کہنے کو اضلاع کی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں موجود ہیں مگر نمائشی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مندرجہ بالا مسائل کے علاوہ بھی عذاب جاں بنے اور مسائل بھی ہیں۔ ادویات مہنگی ہیں عام آدمی کی قوت خرید دم توڑ چکی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ نئی حکومت جو ہفتہ بھر میں معرض وجود میں آجائے گی ان مسائل کے حل کے لئے کیا حکمت عملی بناتی ہے۔ تحریک انصاف اپنے سوا سب کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ یہ الگ بات جن ادوار میں مسائل گمبھیر ہوئے ان ادوار کی حکومتوں کے سینکڑوں لاڈلے اب انصافی بس میں سوار ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے تبدیلی کیسے آئے گی۔ پی ٹی آئی وعدے کیسے پورے کر پائے گی یہ اصل سوال بھی ہے اور امتحان بھی۔

اداریہ