Daily Mashriq

گیارہ اگست 1947ء

گیارہ اگست 1947ء

آج اگست کے مہینے کی گیارہ تاریخ ہے ، ہفتہ ،گیارہ اگست 2018 ء، اگست کا مہینہ ہر سال جشن آزادی پاکستان کی خوشیاں لیکر آتا ہے، ہر سال وطن سے محبت کرنے والے بچے بوڑھے اور جوان اپنے گھروں کی منڈیروں ، فراٹے بھرتے رہواروں اور گردو پیش کے نظاروںپر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا کر اور اپنے وجود پر جشن آزادی پاکستان کے تمغے اور طرے سجا کر وطن سے محبت کا قرض چکاتے ہیں، اس بار بھی وہ ایسا ہی کررہے ہیں ، تین دن صرف تین دن کے فاصلے پر ہے چودہ اگست 2018ء کا وہ دن جس کی صبح کا آغاز افواج پاکستان کے سپاہی، دین اسلام کے داعی اور خدا کے سپاہی توپوں کی سلامی سے کریں گے ، مساجد میں وطن عزیز کی بقاء اور سلامتی کی دعائیں مانگی جائیں گی، پاکستان کے گوشے گوشے میں صبح وطن کی فضاؤں میں پاکستان کا قومی پرچم لہرا کر جشن آزادی پاکستان کی یادگار اور پروقار تقریبات کا آغازکیا جائے گااور جب چودہ اگست کا سورج شام کے دھندلکوں کی چادر اوڑھ کر رات کی تاریکیوں میں چھپ جائے گا تو جشن آزادی کی خوشیاں آتش بازی کے رنگ و نور کی برسات بن کر فضاؤں میں تحلیل ہونے لگیں گی ، جشن آزادی پاکستان منانا ہماری ملکی اور ملی روایت بن چکی ہے اور
ہم زندہ قوم ہیں ، یہ سب کی ہے پہچان
ہم سب کا پاکستان ، پاکستان پاکستان
کے مصداق ہم جشن آزادی پاکستان منانے کی یہ رسم ہر سال دہراتے رہتے ہیں ، جیسا کہ عرض کرچکا ہوں آج گیارہ اگست 2018ء ہے اب کے جو اگست کا مہینہ آیا وہ اپنے ساتھ الیکشن 2018 کے انعقاد کے ہنگامے ، ملک اور قوم کی نودمیدہ قیادت کی سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن 2018ء کے نتائج کے آفٹر شاکس کے علاوہ عید الاضحٰی جیسے مذہبی تہوار کی خوشیاں بھی لیکر آیا ہے ، جن کو سیاست سے لگاؤ ہے وہ پورے جوش اور جذبے سے سیاسی شو منعقد کررہے ہیں یا ان کا حصہ بن رہے ہیں ، جو اپنے دلوں میں سنت ابراہیمی ادا کرنے کا جوش پال ر ہے ہیں وہ بکرہ پیڑی یا مویشی منڈیوں میں گھوم پھر کر قربانی کے جانوروں کے نرخ جان کر اپنے ہوش ٹھکانے لگا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے مشاہدے کے مطابق عید قرباں منانے والوں اور سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بننے والوں اور ملک کے بدلتے ہوئے حالات کی نت نئی خبروں پر نظر رکھنے والوں میں اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ وطن کی محبت کا جذبہ ہے جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے آج گیا رہ اگست ہے، کبھی سوچا ہے آپ نے کہ گیارہ اگست 1947ء کو ہمارے آباء کیا سوچ سمجھ اور دیکھ رہے تھے ، آج سے 71برس پہلے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وہ ذرائع یا سہولتیں دستیاب نہیں تھیں جو آج کے دور کے انسان کو میسر ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کو اس بات کا علم تھا کہ آج سے تین دن بعد یعنی چودہ اگست 1947ء کوقیام پاکستان کا اعلان کردیا جائے گا، لیکن اس کے لئے کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو تشکیل دینا ضروری تھا ، اس لئے پاکستان بننے سے تین روز پہلے گیارہ اگست 1947کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے خطاب کرنا تھا، پاکستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اسے پاکستان بننے کا نکتہ آغاز کہتے ہیں ، اور اس اہم تاریخی اجلاس میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات کو آزاد مملکت خداداد پاکستان کی اساس گردانتے ہیں ، لیکن مجھے یہا ں اتنا عرض کرنا ہے کہ پاکستان بننے کا آغاز تو اس ہی روز سے ہوچکا تھا جب ظلمت کدہ ہندمیں پہلا داعی اسلام نور اسلام کی کرنیں لیکر آیا تھا۔پشاور کے قریب چغر مٹی کے مقام پر اصحاب بابا کی درگاہ میں مدفون صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مدفن اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس خطہ کی مٹی کو پہلے پہل کب اور کن داعیان اسلام کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا۔ آج اگست 1947ء کی گیارہ تاریخ ہے ، برصغیرکے کروڑہا مسلمان ماہ مبارک رمضان المبارک کا آخری عشرہ کا چوبیسواں روزہ گزار رہے ہیں ، الہم اجرنی من النار کا وظیفہ ورد زبان کئے ہوئے نار جہنم سے آزادی کی دعا مانگ رہے ہیں اور ادھر بانی پاکستان ، بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کی نوتشکیل شدہ قانون ساز اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے مخاطب ہیں ، آپ نواب سراج الدولہ شہید، شیر میسور حیدر علی اورٹیپوسلطان شہید کی قربانیوں کے علاوہ ، 1857 کی جنگ آزادی کے لکھوکھا شہیدوں کے علاوہ 23اپریل 1930ء میں قصہ خوانی پشاور میں چلنے والی گولی جیسے بہت سے دل خراش واقعات کا سد باب کرنے کے لئے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کا خطبہ صدارت پیش کررہے ہیں۔1930ء میں پیش کیا تھا مصور پاکستان نے تصور پاکستان، 23مارچ 1940ء کو حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اسلامیان ہند نے اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کا عزم کیا اور آج گیارہ اگست 1947کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قانون سازی کی جانے لگی
لڑنے میں دشمنوں سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ نہ بندوق تلوار نہ بھالا
سچائی کے انمول اصولوں کو سنبھالا
جناح تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
مارا ایسا داؤ کہ دشمن بھی گئے مان
اے قائد اعظم ترا احسان ہے، اے تیر ا احسان

اداریہ