Daily Mashriq


چوں کفر از کعبہ برخیزد

چوں کفر از کعبہ برخیزد

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف عدالت نہ جانے اور تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں قرار داد لانے کے فیصلے پر تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پر پارلیمانی کمیشن پر رضا مندی کا جو اظہار کیا ہے کیا اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں مختلف شہروں میں اپنے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرنے پر رضا مند ہوں گی یا پھر یہ پر نالہ وہیں کا وہیں رہے گا؟ در اصل ہمیں نہ تو تحریک انصاف سے کوئی لینا دینا ہے نہ اپوزیشن جماعتوں سے کوئی پرخاش ہے بلکہ ہمیں تو اپنے شہر اور اس کے رہنے والوں کی فکر کھائے جا رہی ہے اور یہ تماشا ہم بہت عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی جہاں بھی جس کسی کو بھی موقع ملتا ہے وہ لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آتا ہے اور سب کا تماشا بنانا شروع کردیتا ہے‘ وہ جو افتخار عارف نے کہا تھا کہ

کہانی اپنی الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تبکھلے گا جب تماشا ختم ہوگا

کہانی کو جانے دیں اور یہ سوچنا بھی چھوڑ دیں کہ یہاں بات خود بخود الجھ جانے کی ہے یا پھر الجھائے جانے کی۔ بس اس کے نتائج پر غور کرلیں اور نتائج سامنے ہیں کہ جب بھی اس قسم کے تماشے لگتے ہیں تو بے چارے عوام خجل خوار ہو جاتے ہیں اور یہ جو آج کل اپوزیشن جماعتیں اس دیہاتی کی طرح شور مچا رہی ہیں جس کا کمبل شہر میں میلہ دیکھنے اور رات کسی دکان کے تھڑے پر گزارنے کے دوران چور اٹھا کر لے گیا تھا کہ ان کے الیکشن کو چوری کرلیاگیا ہے مگر جیسے کہ چوری کے کمبل نے ملنا تھا نہ ملا۔ اسی طرح لگتا تو نہیں کہ یہ ’’چوری شدہ‘‘ انتخابات کسی کونے کھدرے‘ کسی گٹر کے اندر سے یا پھر کسی تھیلے کے ملنے سے بازیافت ہوجائیں گے اور ان کا حشر بھی بالآخر وہی ہونا ہے جیسا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد عمران خان کی ساری فریادیں صدا بہ صحرا ثابت ہوئی تھیں۔ اب بھی اپوزیشن کو یقین ہے کہ شور مچانے سے عدالتوں سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا اور بہتر ہے کہ پارلیمنٹ میں جا کر تحقیقاتی کمیشن کے لئے قرار داد لائی جائے حالانکہ اپوزیشن یہ بھی جانتی ہے کہ اس ملک میں پہلے بلکہ گزشتہ 70برس سے قائم کمیشنوں کا کیا فائدہ ہوا ہے۔ یعنی ان کا کام نشستند و گفتند و برخواستند سے زیادہ نہیں رہا۔ اس دوران میں خورند یعنی کھائو پیو مزے اڑائو بھی رہتا ہے۔ بہر حال ان جماعتوں کو یہ احساس ہو ہی چکا ہے کہ باہر باہر ہی شور مچانے سے بہتر ہے کہ پارلیمنٹ میں جا کر رولا ڈالنے سے شغل میلہ تو کم از کم لگا رہے گا۔ یعنی ورنہ پر نوکری کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تو یونہی سہی۔ بات کچھ زیادہ ہی لمبی ہوگئی ہے اور اصل مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ تاہم اس کے لئے چند برس پہلے کے دور میں جھانکنا پڑے گا۔ یہاں ہم مسئلے کو محدود کرکے دیکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں یعنی اسے صرف پشاور تک محدود کرتے ہوئے اس قسم کے احتجاجوں سے اس شہر کے ٹریفک نظام پر پڑنے والے اثرات تک کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرلیتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے شہر کی سڑکیں عوام اور خصوصاً ٹریفک کے دبائو کو برداشت کرنے میں ناکام ہو رہی تھیں اور جناح پارک کے پاس سورے پل واحد ایک مرکزی راستہ تھا جس سے گزر کر شہر بھر کی ٹریفک اپنی اپنی منزل مقصود پر پہنچتی تھی۔ مگر کسی بھی وجہ سے اگر کبھی سورے پل کو بند کردیا جاتا تو پورے شہر میں زندگی معطل ہو جاتی۔ یار لوگوں نے بھی آسان نسخہ یہی دریافت کیا ہوا تھا کہ اپنے مطالبات منوانے ہیں یا کسی مسئلے کو حکام کی نظروں میں لانا ہے تو بس سورے پل کو بند کردو۔ شہری خجل خوار‘ یہاں تک کہ ایمبولینس کو بھی راستہ دینے پر کوئی تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس صورتحال کا حل یوں تلاش کیاگیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے سورے پل پر ٹریفک بند کرنے ‘ جلسے جلوس کرنے اور خاص طور پر دھرنا دینے پر پابندی عائد کردی۔ اس پر چند برس پہلے ایک صوبائی حکومت نے صوبائی اسمبلی میں سورے پل پر خاص طورپر صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج‘ دھرنوں وغیرہ پر پابندی کا بل پاس کیا جس کے بعد اب کبھی کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے آگے احتجاج کرنے والے ایک کونے میں سڑک کو چھوڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ پلے کارڈز‘ بینرز پر اپنے مطالبات درج کرکے احتجاجی نعرے بلند کرتے رہتے ہیں مگر انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جن سیاسی حلقوں نے خود ہی صوبائی اسمبلی میں اس قسم کے دھرنوں اور احتجاجی اجتماعات پر پابندی لگانے پر اتفاق کیا ہے وہی اکثر ان پابندیوں کو توڑنے کا باعث بن کر چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی کاعملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور ان کو یہ سب کرتے ہوئے ذرا بھی لاج نہیں آتی۔تازہ وارداتیں اگرچہ حالیہ انتخابات کے بعد پورے ملک میں ہو رہی ہیں تاہم پشاور کی جو حالت ہے وہ بطور خاص توجہ کے قابل ہے یعنی ایک تو بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے شہر پر پہلے ہی عذاب نازل ہوچکا ہے جس کے ٹلنے میں شاید ابھی دسمبر تک کی مہلت کے حوالے سے نگران حکومت نے وقت دے رکھا ہے۔ البتہ عین ممکن ہے کہ اگلے تین چار روز میں نئی منتخب حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کی جانب بھرپور توجہ مبذول ہو جائے اور جلد یہ منصوبہ مکمل ہوجائے۔ تاہم اس مشکل کے ہوتے ہوئے گزشتہ روز انتخابات میں دھاندلی کے نام پر الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے مظاہرے اور دھرنے نے عوام کو جس طرح بے زار کیا وہ ان سیاسی حلقوں کے لئے بھی سوچ کے در وا کرنے کا باعث ہے اور ان سے یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ عام شہریوں کو معاف رکھیں کہ وہ پہلے ہی کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔

متعلقہ خبریں