Daily Mashriq


با با 12ارب ڈالر کا سوال ہے

با با 12ارب ڈالر کا سوال ہے

چند روز پہلے تحریک انصاف کے اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے منتخب ممبر ا ور متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے امریکہ کو تنبیہہ کی کہ وہ پاکستان کے قرضوں کے بارے میں نہ سوچے بلکہ اُن 600 1ارب ڈالر قرضے کے بارے میں سوچے جو امریکہ نے چین سے لئے ہیں ۔اسد عمر کے اس بیان پر عام پاکستانی بُہت خوش تھے اور وہ سوچ رہے تھے کہ اب امریکہ کے چنگل سے نکلنے کا وقت آگیا ہے ۔ عمران خان ، پی ٹی آئی اور اُنکی ٹیم سے لوگوں نے کافی اُمیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں کہ وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد پاکستان امریکی غلامی سے نکلے گا۔اگر غور کریں تو متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کے اس بیان کو بے حد سراہا گیا۔ مگر حال ہی میں ایک یا دو دن پہلے اسد عمر نے ایک اور بیان میں کہا کہ پاکستان کو اقتصادی بُحران سے نکلنے کیلئے 12 ارب ڈالر یعنی 1500ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہم مزید گہرائی میں جا ئیں تو اس وقت ملکی اور عالمی مالیاتی اداروں سے جو قرضے لئے گئے ہیں وہ تقریباً 2700 ارب روپے ہیں جو ملک کی کل آمدنی یعنی جی ڈی پی کا 72 فی صد ہے۔ جس وقت 2013 میں پیپلز پا رٹی نے عام انتخابات ہار کر حکومت چھوڑی اور اقتدار پاکستان مسلم لیگ (ن)کو حوالے کیا تو اس وقت ہر پاکستان 77 ہزار روپے مقروض تھا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور اقتدار میں فی کس قرضہ ایک لاکھ 35 ہزار تک پہنچ گیا۔ یعنی نواز شریف حکومت کے پا نچ سالہ دور حکومت میں ہر پاکستانی 52ہزار روپے مزید مقروض ہوگیا۔ بالفاظ دیگر مسلم لیگ کے دور حکومت میںپاکستان کا قرضہ مزید 40 فی صد بڑھ گیا جو ایک ریکا رڈ ہے۔ پاکستانی عوام نے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے انبار سے چھٹکارے ، ملک میں امن وامان قائم رکھنے، مہنگائی ، بے روز گاری ختم کرنے ، تعلیم صحت سہولیات اور ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر اُستوار کرنے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے پی ٹی آئی اور کپتان کو ووٹ دیا۔مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ابھی عمران خان اور اُنکے رفقاء نے حلف بھی نہیں اُٹھایا اور وہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے اور ملکی اداروں کو بیچنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اسد عمر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قرض لینے کا جو الزام نواز شریف اور ماضی کے دوسرے حکمرانوں پر لگا رہے تھے وہ اب آپ خود قرضہ لینے کے موڈ میںہیں۔اب سوال یہ ہے کہ پی پی پی ، پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ میں کیا فرق رہ گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان بار بار اپنے پبلک جلسوں، ٹی وی اور ریڈیو ٹاک میں اس بات کا اعادہ کرتے چلے آرہے تھے کہ اگر ہم اقتدار میں آئے تو ہم ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف قرضوں کیلئے نہیں جائیں گے اور کشکول توڑیں گے۔ابھی جب ان لوگوںنے حلف بھی نہیں اُٹھایا عا لمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لینے کی بات شروع کردی ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل یہ نہیں کہ ہم عالمی مالیاتی اداروں سے پھر بھیک مانگنا شروع کر دیں۔بلکہ اسکا حل یہ ہے کہ جس جس نے اس ملک کو لوٹا ہے اُن سے لوٹی ہوئی اربوں کی رقوم واپس لی جائیں ۔مگر مُجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی نے بھی عام انتخاباتمیں اُن لوگوں کو ٹکٹدئیے تھے جو اس ملک کے لوٹنے والے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کیسے اُنکے خلاف ایکشن لیں گے۔کیونکہ وہ اب آپ کی پا رٹی کا حصہ ہونگے۔ آپ بار بار اپنی تقریروں میں اس بات کا بھی اعادہ کرتے چلے آرہے تھے کہ یہ لوگ کرپٹ اور بد عنوان ہیں۔ مگر اب یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ مدینہ کی ریاست ان سے کیسے چلائیں گے۔آپ کو پاکستان کے عوام نے اسلئے ووٹ نہیں دئیے تھے کہ آپ اس ملک اور قوم کو مزید قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیں۔ اسد عمر اور عمران خان آپ اپنی اُن تقاریر اور پی ٹی آئی کے منشور کا مطالعہ کریں جس میں آپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ملک اور قوم کو عظیم بنایا جائے گا۔ اگر آپ بھی غریب دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہونگے تو اس ملک میں آپکے لئے حکمرانی مشکل ہوگی ۔ عوام ایک لمحے میں آسمان پر چڑھاتے ہیں اور دوسرے لمحے گرا دیتے ہیں۔ عوام آپ سے بہت توقعات رکھتے ہیں اور آپکو بھی چاہئے کہ ملک اور قوم کی بہتری کیلئے عوام کی توقعات پر پورا اُتریں ۔ پاکستانی عوام آپکو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ اور اگر تحریک انصاف نے وہی روش اختیار کی جو ماضی میں پاکستان کی دوسری سیاسی پا رٹیوں، سول اور ملٹری بیوروکریٹس نے پاکستان کو لوٹنے کیلئے کی تو پھر دوسری سیاسی پا رٹیوں کی طرح تحریک انصاف کی خیر نہیں۔ عمران خان کو چاہئیکہ وہ اس ملک اور پسے ہوئے عوام کا سوچیں کیونکہ بین الاقومی برادری میں پاکستان کی پو زیشن انتہائی کمزور ہے۔ پاکستان 180ممالک کی فہرست میں سماجی اور اقتصادی اعشاریوں کے لحا ظ سے140ویں نمبر پر ہے۔ اور جنوبی ایشیاء میں پاکستان ،مالدیپ، بنگلہ دیش بھارت اور سری لنکا سے کافی نیچے ہے۔پاکستان کی70 سالہ تا ریخ میں پہلا موقع ہے کہ پاکستانی عوام ایک لیڈر پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں