Daily Mashriq


’’تبدیلی‘‘ اور پنجاب کے عوام

’’تبدیلی‘‘ اور پنجاب کے عوام

ملکی سیاست میں پنجاب کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے ،ماضی میں جو سیاسی جماعت پنجاب میں اکثریت حاصل کرتی وہی جماعت وفاق میں حکومت بناتی،لیکن حالیہ انتخابات 2018ء کے نتائج کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو صورتحال ماضی کے تمام تجزیوں کے برعکس نظر آتی ہے۔پورے ملک سے مجموعی طورپر واضح برتری حاصل کرنے والی سیاسی جماعت پی ٹی آئی نے لگ بھگ 115نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پنجاب سے قومی و صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نشستیں مسلم لیگ ن سے کم ہیں ،جس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ پنجاب میں اب بھی لوگ شہباز شریف کو نہیں بھولے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انتخابات 2018ء میں پاکستان کے عوام نے ’’تبدیلی ‘‘ کو ووٹ دیا ہے اگر چیئرمین تحریک انصاف کے دعوے کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ پنجاب کے عوام کی غالب اکثریت نے ’’تبدیلی‘‘کے برعکس سابق وزیر اعلیٰ میاں شہبازشریف کی کارکردگی کو ووٹ دیا ہے،میاں شہبازشریف کے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے معترف ان کے ناقدین اور مخالفین بھی ہیں،حتیٰ کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پنجاب میں میاں شہبازشریف کے ترقیاتی کاموں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ میٹروبس،اورنج ٹرین ،فلائی اوورز اور ضرورت سے زیادہ انڈرپاسز کی فی الفور ضرورت نہ تھی، عمران خان ان منصوبوں کی افادیت سے انکاری نہیں ہیں تاہم وہ کہتے ہیں کہ ان منصوبوں کو بعدمیں بھی پورا کیا جا سکتا تھا۔عمران خان دلیل یہ دیتے ہیں کہ فی الفور ہمیں تعلیم ،صحت اور روزگار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جو پیسہ ان میگا پراجیکٹس پر لگ رہا ہے وہ پیسہ عوام کی بنیادی ضروریات پر خرچ کیا جانا چاہئے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ پنجاب میں میاں شہباز شریف نے جس طرح میگا پراجیکٹس پر توجہ دی ہے اسی طرح اداروںکی اصلاح اور ان کی کارکردگی کو بہتربنانے پر بھی توجہ دی ہے ،پنجاب میں ترقیاتی کاموں کا وسیع پیمانے پرہونا یقیناًپی ٹی آئی کی آنے والی حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔مثال کے طورپر پنجاب کے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اور معیار اب کسی بھی پرائیویٹ تعلیمی ادارے سے کم نہیں ہے بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تقلیدہیں۔لڑکیوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے تعلیمی وظائف کا اجراء خوش آئند عمل ہے بالخصوص ایسے حالات میں جب لڑکیوںکے اسکولوں کو شرپسندوںکی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہو،لڑکیوں کو تعلیمی وظائف کے اجراء سے بہت سی غریب ونادار لڑکیاں تعلیم کے حصول کا خواب پورا کر سکیں گی۔ہمارے گاؤںمیں ایک محنت کش اور مزور کی بچی نے میٹرک میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے اس کی حوصلہ افرائی کی گئی اور سکالر شپ پر اسے جرمنی کے بہترین تعلیمی ادارے میں سرکاری خرچے پہ بھجوایا گیا ، اس بچی کو سرکار کی طرف سے تعلیمی اخراجات کیلئے جو پیسے ملتے ہیں وہ بچی اس میں بچت کر کے اپنے والدین کو بھیج کر ان کا سہارا بھی بن رہی ہے، پنجاب گورنمنٹ کے تعاون سے وہ غریب بچی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا اپنا خواب پورا کر سکے گی۔اسی طرح پنجاب کے دور دراز کے علاقوں میں سرکاری ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور ان ہسپتالوں میں غریبوں کے مفت علاج کو یقینی بنایا گیا ہے،یہ پنجاب حکومت کا ہی منصوبہ تھا جس سے متاثر ہوکر بعد ازاں پی ٹی آئی کی حکومت نے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا ۔مذکورہ بالا چند مثالیں صرف اس لئے بیان کی گئی ہیں کہ پنجاب اور کے پی کے کی کارکردگی کا کسی قدر موازنہ ہو سکے ،اور اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ جس طرح کے پی کے میں عوام نے عمران خان کی کارکردگی کے پیش نظرصوبے میں دوبارہ انہیں موقع دیا ہے اسی طرح پنجاب کے عوام نے میاں شہبازشریف کی کارکردگی کوبھی ووٹ دے کر ان کے ترقیاتی کاموں کا اعتراف کیا ہے ۔گزشتہ دور حکومت کا آخری سال تلخ یادوں سے بھرا پڑا ہے، جس میں ایک طرف احتساب کا عمل جبکہ دوسری طرف میاں نوازشریف کی مخاصمت کی سیاست دکھائی دیتی ہے۔عدالتوں سے میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد اب جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت میاں شہباز شریف کے پاس ہے تو یہ تاثر ابھر کرسامنے آیا ہے کہ وہ دیگر سیاست دانوں کے ساتھ مل کر باہمی تعاون کو ترجیح دیتے ہیں اور اداروں کی توقیر کی بات کرتے ہیں ،اس طرح میاں شہبازشریف نے جہاں پارٹی کو بکھرنے سے بچایا ہے اورملک میں سیاسی استحکام کیلئے کوشش کی ہے وہیں پر انتخابات میں پورے ملک میں دوسری بڑی پارٹی جبکہ پنجاب میں سب سے بڑی پارٹی کی پوزیشن بھی حاصل کی ہے ،پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے مابین کانٹے دار مقابلے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ہم سمجھتے ہیں ملک میں جمہوری استحکام کیلئے جس طرح میاں شہبازشریف نے کردار ادا کیا ہے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اسی طرح بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری استحکام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔اس میںاصل امتحان عمران خان کا بھی ہے کہ انہیں جہاں دیگر چیلنجز درپیش ہیں ،عوام کی توقعات پر پورااترنے کے ساتھ ساتھ اہم مسئلہ اورقدرے بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سخت مزاج کے باوصف دیگر سیاسی جماعتوں کواپنے ساتھ کیسے لیکر چلتے ہیں؟۔

متعلقہ خبریں