Daily Mashriq

دینی مدارس کی رجسٹریشن پر بار بار تضادات کیوں

دینی مدارس کی رجسٹریشن پر بار بار تضادات کیوں

خیبر پختونخوا کے مدارس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت تفصیلات اکٹھا کرنے کی آڑ میں دینی مدارس میں مداخلت کر رہی ہے جبکہ مدارس کے ساتھ رویہ بھی ہتک آمیز ہے۔اتحاد تنظیمات مدارس خیبر پختونخوا کے مطابق خیبر پختونخوا کے مدارس میں کوائف طلبی کے فارم تقسیم کرنا 6مئی 2019کے اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو حکومت اور تنظیمات مدارس کے درمیان ہوا تھا۔انہوں نے کہا معاہدے کے تحت مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے ساتھ ہونی ہے اور مدارس کے تمام کوائف وزارت تعلیم کے پاس ہونگے، کسی اور ادارے کو مدارس کے طلبا کے کوائف مانگنے کا اختیار نہیں ہوگا۔لیکن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت نے اب تک معاہدے کی روح کے مطابق کوئی پیشرفت نہیں کی اور اب دیگر ادارے مدارس سے کوائف مانگ رہے ہیں جو کہ معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔تنظیمات مدارس کے رہنماوں نے کہا کہ بعض ادارے کوائف کے نام پر ایسے سوالات پوچھ رہے ہیں، جو کہ غیر متعلقہ ہیں،مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے جو طریقہ کار باہم مشاورت سے طے ہوا تھا اس معاہدے کی پابندی فریقین پر فرض ہے مدارس کی رجسٹریشن کے اس معاملے کو ایک ہی بار طے ہونا چاہیئے بار بار اس مسئلے کو سامنے لانا درست طرز عمل نہیں اور یہ دینی مدارس کے حوالے سے خواہ مخواہ شکوک وشبہات کاباعث بن رہا ہے دینی مدارس کے طلبہ کے حوالے سے ایک خاص قسم کا تاثر اور ذہنیت کے مظاہر ے کی کوئی گنجائش اس لئے نہیںہونی چاہیئے کہ اس صورت میں تو پھر پیش آنے والے واقعات میں ملک کے بڑے بڑے اور جدید اداروں کے طالب علموں کے بھی ملوث ہونے اور واقعات کے ذمہ دار ہونے کے ثبوت موجود ہیں اس صورتحال سے قطع نظر جہاں تک دینی مدارس کی رجسٹریشن کا سوال ہے صرف دینی مدارس ہی کی رجسٹریشن پر بطورخاص زور دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ملک میںہر قسم کے کاروبار سے لیکر تنظیموں تک ہر قسم کی تجارتی ومعاشی سیاسی ومذہبی سرگرمیوں کو ایک خاص دائرہ کار اورقانون کے دائرے میں انجام دہی ہونی چاہیئے تاکہ تضادات کی نوبت نہ آئے بہتر ہوگا کہ حکومت دینی مدارس کے منتظمین وعمائدین سے غیر متعلق سوالات اور ان کو ہراسان کرنے کے اقدام پر نظر ثانی کرے اور طے شدہ متفقہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے تاکہ دینی مدارس کے منتظمین کو شکایت نہ ہو اور وہ حکومت سے تعاون کی ذمہ داری پوری کریں۔

عوام عملہ صفائی سے بھر پورتعاون کریں

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی پشاور نے لازمی سروسز ایکٹ نافذ کرتے ہوئے 5روزہ عید صفائی آپریشن اور اس دوران ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں عملہ مختلف شفٹوں میں 24گھنٹے ڈیوٹی پر ماموررہے گا پشاور میں صفائی برقرار رکھنے کیلئے اضافی گاڑیاں بھی کرائے پر حاصل کر لی گئی ہیں ۔کمپنی کی جانب سے زونل منیجرز کو ایک مراسلہ بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ کچرے کے تمام کنٹینرز عید کی شام خالی کرالئے جائیں جبکہ شہر کے تمام اہم مقامات پر صفائی یقینی بنائی جائے عید کی شام تک کنٹینرز خالی کرنے کے بعد اس کا دستاویزی ثبوت کمپنی کو فراہم کیا جائے تاکہ جانوروں کی الائشیں اکٹھی کرنے کیلئے کنٹینرز خالی میسرہوں۔اسی طرح پی ڈی اے کی جانب سے حیات آباد میں صفائی کی صورتحال برقرار رکھنے اور قربانی کے بعد جانوروں کی باقیات اور لائشیں بروقت ٹھکانے لگانے کیلئے عملے کی ڈیوٹی لگا کر متعلقہ انسپکٹروں کے نمبر شہریوں کو فراہم کردیئے گئے ہیں۔ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے کی تیاریوں کے تناظر میں امید ہے کہ شہر بھر میں صفائی کی صورتحال قابو میں رہے گی ہم سمجھتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر خاص طور پر صفائی کی صورتحال جتنی پیچیدہ اور مشکل ہوجاتی ہے ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے جتنے بھی مئوثر اقدامات کریں ان کی پوری استعداد اتنی نہیں ہوسکتی کہ وہ صفائی کی صورتحال پر قابو پاسکیں اس موقع پر شہریوں کو سرکاری اہلکاروں سے بطور خاص تعاون کر نا ہوگا اور بطور شہری اپنے شہر کو صاف رکھنے کی ذمہ داریوں کو خود بھی نبھانا ہو گا اور دوسروں کو اس کی ترغیب بھی دینی ہوگی شہری قربانی کے جانوروں کی الائشیں اور باقیات صرف مقررہ جگہوں پر اور جب گاڑی آئے اس میں ڈالنے کی ذمہ داری نہ نبھائیں تو شہر کی صفائی ممکن ہی نہیں ان اشیاء کو ادھراُدھر پھینکنے بکھیرنے اور بکھرنے کی صورت میں صفائی ناممکن اور مشکل ہو جاتی ہے اس کا خاص طور پر خیال رکھا جانا چاہیئے تاکہ متعلقہ عملے کو صفائی میں مدد ملے اور وہ زیادہ سے زیادہ مقامات اور لوگوں تک پہنچ سکیں۔

متعلقہ خبریں