Daily Mashriq

یادوں کا سفر

یادوں کا سفر

خیال یہی تھا کہ چند دن قبل خریدی گئی اور تحفہ میں ملی کتب کی ورق گردانی کی جائے تاکہ عید کی چھٹیاں دوبالا ہوں مگر فقیر راحموں بضد ہیں کہ کالم لکھا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا لکھیں؟۔ عین ان سموں یاد وں اور مطالعے نے دستک دی۔ حسین بن منصور حلاج کہتے ہیں '' خون سے لکھا گیا سفر حیات اس میں بندگی کے اقرار کا نغمہ ہے'' بندگی کا اقرار' نفس امارہ کے سرکش گھوڑے پر سوار دنیا دار کیا سمجھیں گے۔ بات فقط اتنی ہے لوگ اپنے حصے پر قناعت نہیں کرتے۔ بندگی کے اقرار کا نغمہ اپنے حصے کی قربانی کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں تو صورتحال ہمیشہ سے یکسر مختلف رہی ہے۔ کیا حق بندگی ادا کئے بناء بندگی کے اقرار کا نغمہ الاپا جاسکتا ہے؟۔ سوال دستک دے رہا ہو جواب واجب ہوتا ہے۔ ہمارے عہد کا ہی نہیں ہر عہد کا المیہ یہی ہے کہ سوال کرنے والوں کو حیرانی سے دیکھا جاتا ہے یا پھر پاگل و باغی قرار دیا جاتا ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے مرشد کریم سید بلھے شاہ کی خانقاہ پر حاضری کی تمنا مچل رہی ہے۔ لاہور سے قصور( قصور میں مرشد کی خانقاء ہے) کا سفر کچھ اتنا زیادہ بھی نہیں۔ گھنٹہ بھر کی مسافت ہے لیکن سفر تو سفر ہی ہوتا ہے۔ ساون کی بارشیں ہیں اور جان لیوا حبس۔ ڈاکٹروں کے ساتھ سیانے بھی کہتے ہیں کہ جس کے موسم میں مریض دل (عاشق نہیں بیمار) کو احتیاط کرنی چاہئے۔ ہائے یہ احتیاط لگتا ہے بوڑھاپے نے ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ چند دن ہوتے ہیں گھوٹکی سندھ میں مقیم عزیز جاں دوست سید عبدالطیف شاہ جیلانی نے یاد کیا۔ شاہ جی کہتے ہیں '' دم آخر کی سمت سفر تیزی سے جاری ہے وقت نکالو پھر مل بیٹھیں اور تیس برس پیچھے لوٹ چلیں۔ چار عشرے قبل کی یادوں کا الائو بھڑکاتے ہوئے شاہ جی نے کچھ پرانی تصاویر بھی بھجوائی ہیں۔ ان تصاویر نے سال 1980ء میں لیجا کھڑا کیا۔ ملک پر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سائے سیاہ رات کی طرح مسلط تھے ۔ پڑھنا نوکری کرنا دوستوں سے ملنا اور حق پرستوں کے لئے حرف جوڑنا' کبھی پولیس گردی سے بچنے کے لئے سندھ کی دور دراز کی گوٹھوں (دیہاتوں) میں مقیم دوستوں کے ہاں پناہ لے لینا۔ شاہ ( سید عبدالطیف شاہ جیلانی) ازلی ترقی پسند ہے اپنی جوانی کے دن اس نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے اور جدوجہد کے دوران معتوب و مطلوب ہوئے دوستوں کی مدد کرنے میں بیتائے۔ شاہ کو اپنی سندھ دھرتی سے جنون کی حد تک محبت ہے۔ سچل' شاہ' سامی اور ذوالفقار علی بھٹو اس کے فکری رہنما ہیں۔ اچھے برے حالات میں وہ ہمیشہ اپنی پارٹی( پی پی پی) کے ساتھ استقامت سے کھڑا رہا۔ جام صادق علی سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے تو ان کی خواہش تھی عبدالطیف شاہ جیلانی ان کی حکومت کا مشیر بن جائے۔ سید زادے نے فکری استقامت کے ساتھ انکار کیا' دکھ جھیلے' مقدمات کا سامنا کیا مگر ثابت قدمی اس کی شناخت بن گئی۔ شاہ پیشے کے اعتبار سے قانون دان ہے' درمیانے درجہ کے زمیندار گھرانے کے اس اعلیٰ تعلیم یافتہ سید نے پچھلی چار دہائیاں خدمت خلق' عوامی سیاست اور پارٹی کی وفاداری میں بسر کردیں۔ مطالعہ غضب کا ہے اور یادداشت بھی خوب ہے۔ سچل اور شاہ (شاہ لطیف بھٹائی) کے اشعار از بر ہیں۔ چار عشروں سے ہماری خوب بن رہی ہے' فہم روزگار اور اس قلم مزدور کی ہجرتوں نے ملاقاتوں کے درمیان کا وقفہ بڑھا دیا ہے۔ لگ بھگ 8سال قبل ایک طویل وقفہ کے بعد ان سے گھوٹکی میں دو تین ملاقاتیں ہوئیں تب ہم نے گزرے ماہ و سال کو خوب آوازیں دیں۔ بچھڑ جانے والوں کا نوحہ پڑھا۔ سیاست' تاریخ' صوفی ازم پر مطالعے کے اوراق الٹے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ دوست کہہ رہے ہیں دوڑتے بھاگتے بیتی اور بیتائی جارہی زندگی میں سے کچھ وقت نکال کرایک کچہری ہونی چاہئے۔ یادوں کی پوٹلیاں کھولی جائیں۔

بات درست ہے' تصور تو کیجئے کہ کیسے حالات ہوں گے جنرل ضیاء الحق کے اس عہد ستم میں جتنا مرضی ہاتھ پائوں بچا کر لکھیں اور بولیں پھر بھی خفیہ والوں کے ریڈار میں پھنس جانا ہی قسمت میں لکھا ہوتا تھا۔ جنرل ضیاء کا عہد ستم میں رجعت پسند جماعتوں کے دیندار اور صالحین خفیہ والوں کے لئے مخبری کو شرعی وظیفہ سمجھتے تھے۔ اس ماحول اور حالات میں سندھ دھرتی سے جن ترقی پسند نوجوانوں کی شناخت ابھری ان میں سید عبدالطیف شاہ جیلانی بھی شامل تھے۔ مزاج کی سادگی' دوست نوازی' خدمت خلق کا جذبہ سیاسی وفاداری پر یقین کامل آج بھی ان کا سرمایہ ہے۔ شاہ سیاسی کارکنوں کی اس نایاب نسل کے بچے کھچے لوگوں میں سے ہے جو نظریاتی سیاست کو زندگی سمجھتے ہیں تو بیڑا غرق ہو غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات اور پھر 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلیوں کا جن کی وجہ سے سیاسی کارکنوں کی جگہ نالی موری کے ٹھکیداروں نے لے لی۔ اب حالت یہ ہے کہ قیادتوں کی اطاعت واجب ہے پھر بھی بعض جماعتوں میں بھلے وقتوں کے سیاسی کارکن تبرک کے طور پر موجود ہیں۔ ہم اسے بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکمت عملی سے بحال ہوئی سیاسی سرگرمیوں سے سیاسی جماعتوں نے ماضی کی طرح فائدہ نہیں اٹھایا اور تب سے اب تک سیاسی عمل کو نظریاتی سیاسی کارکن نہیں مل رہے۔ یہ بھی بدقسمتی ہے کہ طلباء یونینوں کا دروازہ اب تک بند ہے۔ طلباء یونین ہی سیاسی عمل کو بیدار روح والے کارکن فراہم کرتی تھیں۔ معاف کیجئے گا بات کہاں سے کس طرف نکل گئی۔ لیکن یادوں کے د ر واہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ شاہ کی یادوں کی دستک کے دوران شہید فقیر اقبال ہسبانی یاد آئے سندھ دھرتی کے اس اجلے سپوت نے جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم کا جواں مردی سے مقابلہ کیا۔ نذیر عباس شہید کی یادوں نے دستک دی جو سرکاری عقوبت خانے کی تاریک کوٹھڑی میں مار دئیے گئے۔ کاش کوئی ان ماہ و سال کی داستان رقم کرتا اور آج کی نسل زندہ کرداروں سے آگاہ ہو پاتی جنہوں نے زندگیاں قربان کردی تھیں۔

متعلقہ خبریں