Daily Mashriq

پولیس کی بے مثال قربانیاں

پولیس کی بے مثال قربانیاں

گزرے ہوئے 18 سالوں کے دوران اس ملک اور خصوصاً پختونخوا میں مسلط کردہ جنگ میں پولیس شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے گذشتہ 4 اگست کو ایک مقامی ہال میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان بیش قدر قربانیوں کو سراہا گیااور قوم کی خاطرسردھڑ کی بازی لگانے والوں کی بہادری کو یاد کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس خطے میں دہشت گردی کی جنگ مختلف بین الاقوامی اور اندرونی کھلاڑیوں نے مسلط کی، اس جنگ کی وجہ سے خصوصاً خیبر پختونخوا جنگ کا مرکز بنا رہا ۔ اس دہشت گردی کا مقابلہ صوبے کے عوام، عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین اور پولیس نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے کیا۔ پولیس افسران اور جوانوں نے اپنے خون سے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بہادری اور شجاعت کی اس تاریخ میں خیبرپختونخوا پولیس لاثانی ہے اور ان کو یہ جذبہ اپنی ثقافت اور عظیم تاریخ سے ملا۔ یوں تو پولیس نے انفرادی طور پر انگنت قربانیاں دی ہیں لیکن بطور ادارہ اُسے ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جو صرف مقامی نہ تھا بلکہ جس کے تانے بانے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے تھے ۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ کوئی اُن کے خلاف لب کشائی کے لئے تیار نہ تھا۔ امن زیر دست تھا اور ریاستی رٹ کمزور ہو چکی تھی جس کی وجہ سے جگہ جگہ Ungoverned Spotes اُبھرے۔ سوات، ملاکنڈ، دیر، بونیر ، شبقدر اور صوبے کے دیگر علاقوںمیں شورش برپا تھی اور ہر طرف موت رقصاں تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہر چیز گر چکی تھی لیکن پولیس کی ناقابل شکست اُمید اور حوصلے کو اُس کٹھن وقت میں صوبائی حکومت کی رہنمائی حاصل رہی جس نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ راقم خود پولیس کی اُس جدوجہد کا چشم دید گواہ رہا ہے۔ جب اُس نے گولیوں، راکٹوں، خود کش حملوں کی برسات میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کی قیادت کی۔ سوات میں اندرون اور بیرون خانہ موجودگی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھی۔ گردن زنی، قتل، بم دھماکے اور پولیس شخصیات پر حملے کے واقعات تواتر سے ہوتے رہے۔ پولیس کی وردی موت کا پروانہ تھی لیکن اس بات کا احساس ہوتے ہوئے بھی کہ موت اُن کا انتظار کر رہی تھی، پولیس ثابت قدم رہی اور قیام امن کیلئے بے شمار ملازمین نے جام شہادت نوش کر کے قربانی کی عظیم مثالیں قائم کیں۔ جب راقم اپنے وطن میں جنگی انتہا پسندی اور جنونیت کی بات کرتا ہے تو وہ بطور تھیورسٹ نہیں کرتا بلکہ ایک سرجن کی طرح جو اُس نے اندر سے دیکھا۔ جو دیگر لوگوں کے لئے جلد کے اندر بند ہوتا ہے۔ جی ہاں! اُس نے دیکھا، چھوا، محسوس کیا بہت قریب سے یہ کہ راقم کو جب سوات کی حسین وادی میں امن واپس لانے کیلئے آپریشن میں شرکت کیلئے بھیجا گیا اُس وقت اپنے ساتھیوں کو خودکش اور دوسرے حملوں میں اپنی بانہوں میں گرتے دیکھا۔ راقم کو مردان میں خودکش حملے کے تلخ تجربے سے گزرنا پڑا جب وہ خود اُس وقت خود کش حملے سے بال بال بچ گیا جب وہ گھر سے باہر نکل رہا تھا لیکن اس کے ساتھیوں نے فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کیا۔ آج جب راقم یہ تحریر لکھ رہا ہے تو خیبر سے لیکر کراچی تک ہزاروں پولیس ملازمین نے جانیں اُن لوگوں کے خلاف لڑتے ہوئے نچھاور کیں جو اِس ملک پر بزور بندوق اپنا طرز حکمرانی اور معاشرت مسلط کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ افغانستان میں بھی امن پامال کئے ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت اور قیادت ہمیشہ ان دلیر جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور دہشت گردی کیخلاف جامع ترقیاتی حکمت عملی اور بعد از ضروریات پروگرام ترتیب دیا۔ اور اسی کے تحت پولیس کے مجموعی بجٹ کو 4 بلین سے بڑھا کر 24 بلین تک پہنچایا جو ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔ پولیس کی تعداد کو 32000 سے 75 ہزار تک پہنچایا، پولیس کے ترقیاتی کاموں کو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ''پراجیکٹ کو آرڈینیشن یونٹ'' قائم کیا۔ اس دوران انسداد دہشت گردی کیخلاف 7000 نفوس پر مشتمل خصوصی ایلیٹ فورس قائم کی اور اُن کی تربیت کیلئے نوشہرہ میں ا یلیٹ ٹریننگ سنٹر قائم کیا۔ ڈائریکٹریٹ آف کائونٹر ٹیرر زم قائم ہوا۔ جس نے 3500 دہشت گردوں کا ڈیٹا جمع کیا۔ ملاکنڈ ڈویژن میں تباہ شدہ ڈھانچے کو دوبارہ بحال کیا اور صوبے میں پولیس کو جدید بھاری ہتھیار اور جدید مواصلاتی نظام د یا۔ ادارہ پولیس کی حوصلہ افزائی کے شہدا پیکج کا اجر کیا جو زندگی کا نعم البدل تو نہیں بلکہ شہدا کے لواحقین کے دنیاوی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ضرور معاون ثابت ہوا۔ پولیس نے بھی جذبہ سرفروشی کے تحت جان ہتھیلی پر رکھ کر خون کے دیئے جلا ئے اور امن کی شمع کو روشن رکھا۔ تمام قوم بجا طور پر پولیس کے شہدا کی بہادری پر فخر کرتی ہے جب ہم پختونخوا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پر مبنی جنونیت کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو لازماً سوال ابھرتا ہے کہ کیوں ایک مسلمان اور پختون نے مذہب کے نام پر دوسرے مسلمان اور پختون کا قتل کیا؟ کیوں غیر ریاستی جنگی ایکٹرز کو ابھرنے دیا گیا جو اس خطے کو شورش کی طرف لے گئے؟ کیوں اس خطے کو ترقی سے روکا گیا؟ کون Strategic سطح پر اس کا ذمہ دار ہے؟ شہدا کا لہو آج بھی یہ سوال کر رہا ہے۔ ان سوالات کا جواب شا ید شہدا کے لواحقین اور قوم کے زخموں پر مرہم ثابت ہوں۔ اس تناطر میں یہی کیا جا سکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر سچائی سے عمل درآمد انتہا پسندی اور جنونیت کا خاتمہ ہی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں