Daily Mashriq

بدو کا اونٹ اور پان کی گلوری

بدو کا اونٹ اور پان کی گلوری

منہ مارنا یا منہ ماری کرنا اردو روزمرہ میں آتا ہے، مطلب تو ذرا مختلف ہے مگر یار لوگ اسے طنز کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں،اب یہی دیکھ لیں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ہی ایک ساتھی وزیر سائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کے بار ے میں کہا کہ دوسری وزارتوں میں منہ مارنا ان کی عادت ہے،شیخ رشید نے یہ بات اس لئے کی کہ چودھری فواد حسین نے گزشتہ روز ایک نجی ڈی وی سے کہا تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس بند کرنے کا اختیار شیخ رشید کے پاس نہیں ،یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کو کرنا چاہئے ،چودھری فواد حسین کے حوالے سے وزیراعظم کی مشیربرائے اطلاعات ونشریات بھی مختلف مواقع پر اسی قسم کے خیالات ظاہر کر چکی ہیں،تاہم انہوں نے منہ ماری کی بات نہیں کی،مگر جو کہا اس کا مفہوم یہی بنتا ہے اب فواد چودھری کا اس حوالے سے جواب کیا آتا ہے اس کیلئے انتظار سا غر کھینچ والی صورتحال کا عوام کو سامنا تو ہے لیکن دیکھا جائے تو جب سے فواد چودھری سے وزارت اطلاعات واپس لی گئی ہے تب سے انہوں نے بقول شیخ رشید دوسری وزارتوں میں منہ ماری شروع کر رکھی ہے ،تاہم دوسری وازرتوں والے انہیں بدو کے اونٹ کی طرح اپنے خیموں میں منہ اندر چھوڑنے کو تیار نہیں ورنہ کچھ بعید نہیں کہ موصوف کو کسی اور وزارت کے خیمے کے اندر منہ مارنے کی اجازت دیدی جائے تو پھر متعلقہ وزیر وزارت کے خیمے کے باہر اور بدو کا یہ اونٹ پورے کا پورا وزارت پر قبضہ جما کر وہاں منہ مار رہا ہوگا،یعنی اونٹ کی طرح جگالی کررہا ہوگا۔فواد چودھری کا ویسے کمال یہ ہے کہ جو بات بھی کرتے ہیںاس لئے انگریزی کے لفظ Contextیا اردو کے لفظ سیاق وسباق کا بندوبست کر کے بولتے ہیں،اب یہی دیکھ لیں کہ جیسے ہی انہیں وزارت سائنس وٹیکنالوجی کا قلمدان سونپا گیا سب سے پہلے انہوں نے علم فلکیات کے حوالے سے رویت ہلال کے معاملے پر ملک میں چاند نکالنے کی ذمہ داری سنبھالی اور سائنس کی رو سے عیدین کے مواقع پر چاند نکالنے میں مگن ہوگئے،وزارت مذہبی امور میں اس سے بھونچال آنا فطری امر تھا،مگر موصوف نے جیسے ہی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تحلیل یا اس میں ترامیم کرنے کی''منہ ماری'' شروع کی ،کمیٹی کے(غالباً یا تاحیات) چیئر مین نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں وزارت مذہبی امور کے زیر انتظام اس کمیٹی کے''خیمے'' میں گھسنے سے منع کرتے ہوئے وزیراعظم سے شکایتی لہجے میں گلہ کیا تاہم انہوں نے اپنی''جگالی'' نہیں چھوڑی اور بدستور بدو کے اونٹ کی طرح رویت ہلال کمیٹی کے خیمے کے آگے ڈیرہ ڈالے ہوئے

چین اک پل نہیں

اس کا کوئی حل نہیں

اوسیوں نی ۔۔۔۔

کا راگ الاپ رہے ہیں ،ساتھ ہی دوسری وزارتوں کے خیموں میں بھی تانکا جھانکی جاری ہے اور جب بھی موقع ملا تو کسی نہ کسی دوسرے خیمے میں پورے کار پورا گھس کر متعلقہ وزیر کو چھٹی کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔غالباًاسی لیئے دوسری وزارتوں کے مالکان مسلسل شکایت کررہے ہیں کہ

اگر نہ روکا گیا اب ندی کے دھارے کو

تو آتی جائیں گی پھر بستیاں کٹائو میں

بات منہ ماری سے چلی تھی، چونکہ منہ ماری کا حوالہ یوںبھی آتا ہے کہ بعض جانور اپنے حصے یہ قانع نہیں ہوتے اس لئے اپنے''ہمسائے'' کے آگے رکھے ہوئے چارے میں بھی منہ مارتے ہیں اور جگالی کرتے ہوئے دوسروں کا حصہ بھی ہڑپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جبکہ اس سارے کھیل میں اس لفظ''جگالی'' کا بڑا اہم کردارہے، اس لئے اس وقت بھارت کے ساتھ تعلقات کی جو نوعیت بن چکی ہے اور جہاں حکومت نے دو طرفہ تجارت ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ شیخ رشید نے بقول فواد چودھری اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سمجھوتہ ایکسپریس بند کرنے کا فیصلہ کیا(تاہم کابینہ نے اس کی توثیق کردی ہے) تو ہمارے ہاں وہ لوگ جو بھارت سے درآمد ہونے والے پان کے پتوں پر''جگالی'' کا شوق رکھتے ہیں ان بے چاروںکا کیا بنے گا یعنی''تیرا کیا ہوگا کالیا''۔والی صورتحال بن رہی ہے۔کیونکہ نہ صرف پان کے پتے بلکہ کتھا اور سپاری بھی بھارت ہی سے درآمد ہوتی ہے،البتہ چونا دیسی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ملٹھی کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ شاید وہ بھی بھارت سے درآمد ہوتا ہے،سو دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے''پان خور''حکومت کے اس اقدام پر کیا ردعمل دیتے ہیں،اس لفظ پان خور سے مجھے اپنے سکول کے زمانے کے ایک استاد یاد آگئے جو اس قدرپان کھاتے تھے کہ طالبعلموں نے ان کا نام پان کاکیڑا رکھا تھا۔ایک اور واقعہ بھی یاد آگیا کہ جب احمد فراز ریڈیو پاکستان پشاور میں موسیقی کے شعبے کے انچارچ پروڈیوسر تھے تو ایک خاتون گلوکارہ روزانہ ریکارڈنگ کیلئے پہنچ کر اپنے پاندان سے پان نکال کر فراز کو پیش کرتیں، ایک روز ان کے ایک دوسرے ساتھی نے ازراہ شرارت وتفنن پان پیش کرنے کے اس موقع پر اچانک آوازدی،یار فراز تمہارا پورٹ فولیو بدل دیا گیا ہے اور موسیقی کسی دوسرے پروڈیوسر کو دیدی گئی ہے خاتون گلوکارہ نے یہ سنا تو پان کی گلوری فراز کو دینے کی بجائے یہ کہہ کر اپنے منہ میں ڈالی کہ معاف کیجئے گا،ایک ہی پان ہے ورنہ ضرور پیش کرتی۔

متعلقہ خبریں