Daily Mashriq


پانا مہ لیکس کا معاملہ

پانا مہ لیکس کا معاملہ

اگرچہ پانامہ کیس کو سمجھنا آسان نہیں اور اس کیس میں الجھائو اتنا ہے کہ قانونی ماہرین بھی چکرا جاتے ہیں اور اس کیس میں چکر اتنے ہیں کہ سار ا کیس ان چکروں کے گرد اب میں ہے ۔ غیر جانبدار مبصرین اور قانون دان پہلے ہی اس کیس کی کوکھ سے کچھ جنم نہ لینے اور اسے لا حاصل عمل قرار دیتے آرہے تھے ۔یہ مقد مہ عدالتی کیس نہیں جس کی بنا ء پر عدالت عظمیٰ نے سب سے پہلے اس حوالے سے ضابطہ کار طریقہ کار اور اختیارات طے کرنے کے لئے حکومت اور پارلیمنٹ کو بھجوادیا تھا۔ اس حوالے سے ٹر مزآف ریفرنس طے کرنے کے بعدہی معاملات کو آگے بڑ ھانے کی ضرورت تھی مگر اس پر اتفاق رائے نہ ہو سکا اور ہو بھی نہیں سکتا تھا کیو نکہ کسی بھی فریق معاملہ سے یہ توقع عبث ہوگا کہ وہ خود اپنے بارے میں ایسے ضوابط اور طریقہ کار طے کر ے جس کے تحت انہی کے خلاف ممکنہ فیصلہ آسکے ۔ اگر بالفرض محال مطلوبہ ٹرمز آف ریفرنس طے بھی کئے جا ئیں تب بھی اس الجھے ہوئے مقدمے کی تحقیقات میں ملکی و بین الاقوامی قوانین اور ممالک کے قوانین اور حکومتی معاملات آڑے آئے اگر اس آزمائش پر بھی پورا اترنے کی نوبت بھی آتی تو اس میں اتنا وقت صرف ہو چکا ہوتا اور اپنی جگہ اس کے لئے صبر ایوب بھی درکار تھا یہاں معاملہ ہی وقت کے ہاتھ سے پھسلنے اور صبر وتحمل کا ہے۔ عدالت عظمیٰ سے رجوع نہ کیا جاتا تو پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کے ناموں کا آنا ایک بہترین سیاسی نعرہ تھا جس پر مخالف سیاسی جماعتیں مئوثر انداز میں انتخابی مہم چلا سکتی تھیں مگر عدالت سے رجوع کرلینے کے بعدموقع نہ صرف گنوا دیا گیا بلکہ بہت سارے شکوک وشہبات اور سوالات کا بھی ازالہ ہونے کے بعد ابھی سے اس کیس کی قانونی حیثیت کیا ہے اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔عوامی سطح پر یہ الزامات اب اس قدر شدید اور پراثر نہیں رہے چونکہ ابھی عدالت میں اس معاملے کو مزید آگے چلنا ہے۔ اس کا فیصلہ اگر عدالت سے رجوع کرنے والوں کے حق میں آیا تبھی اس کا سیاسی طو ر پر فائدہ ہوگا اور اگر التواء میں رہے یا بر عکس فیصلہ صادر ہو جائے تو عدالت سے رجوع کرنے والوں کا خسران دیدنی ہوگا ۔ سیاسی جماعتیں خواہ کس قدر خلوص سے کسی معاملے پر عدالتوں سے رجوع کریں اگر ان کی نیت اور منشاء نہ بھی ہو تب بھی اس کے عوامی اور سیاسی اثرات مسلمہ ہوتے ہیں۔ ہمارے تئیں بد عنوانی اور لوٹی ہوئی قومی دولت کاحساب عوام کے دلی جذبات کی عین ترجمانی پر مبنی نعرے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں عملی طور پر اپنے دائرہ اختیار اور حکومت میں ہوتے ہوئے اس پر کس قدر سنجید گی کے ساتھ عمل پیرا ہوتی ہیں یہ کسی سے پو شیدہ نہیں ۔عدالت سے رجوع کرنے والی اور کرپشن کے خلاف جہاد کرنے والی جماعت کا خود بنک آف خیبر کے معاملے میں کیا کردار رہا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ۔ وطن عزیز میں کرپشن اور بد عنوانی کا مطالبہ کرنا اب ایک طرح کا'' لاحاصل مطالبہ '' ہی بن کر رہ گیا ہے ۔ کس سے حق مانگیں کس سے منعفی چاہیں ۔ بعض حلقے اس ضمن میں عدالتوں سے شاکی ہوتے ہیں ہر معاملے کا حل اور ہر مسئلہ کی چابی عدالتوں کے پاس ہی نہیں ہوتی۔ عدالتوں کو شواہد ٹھوس ثبوت اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں قانونی تقا ضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ دینا ہوتا ہے ۔ پانامہ کیس میں یہی ہوا کہ عدالت سے رجوع کرنے والے فریق کے پاس الزامات ثابت کرنے کے لئے کافی شواہد نہیں تھے جبکہ صفائی پیش کرنے والوں کے پاس اپنی بیگنا ہی ثابت کرنے کے لیے عدالت کو مطمئن کرنے کے حامل شواہد اور دستاویزات تھیں اسی طرح کی صورتحال عدالت کے لئے بھی مشکلات کا باعث ہے ۔اس وقت عدالت اگر فریقین کے دلائل اور ثبوت و شواہد سے مطمئن نہیں اور مقدمے کی از سر نو سماعت کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو اس دوران فریقین ایسے کیا ٹھوس شواہد اور ثبوت فراہم کر پائیں گے جس سے عدالت کو فیصلہ دینے میں آسانی ہوگی۔ امکان اس امر کا یہی نظر آتا ہے کہ عدالت اس بار کمیشن بنا دے جس کا مطالبہ کرنے والے فریق کا موقف اب بد ل چکا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس معاملے میں خود عدالت کی ساکھ کو بھی مشکلا ت کا سامنا ہے کہ آخر عدالت سے ہی فیصلہ مانگا جائے اور ضروری لوازمات کے بغیر عدالت سے فیصلے پر اصرار کیا جائے اور اگر عدالت کمیشن بنانے کا فیصلہ دے تو اسے قبول نہ کرنے کا تو کوئی جواز نہ ہوگا ۔مگر ابھی سے اسے قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ اگر عدالتی احکامات و فیصلوں سے ہٹ کر سیاسی طور پر معاملات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا نظر آتا ہے کہ معاملے کا ایک فریق خوب سوچ سمجھ کر چالیں چلنے کا عادی ہے جبکہ ایک فریق وقتی ہی سہی فوری نوعیت کے اقدامات کا خواہاں ہے۔ مگر عدالت نہ تو چالیں چلنے والے فریق کی چالوں میں آئے گی اور نہ ہی فوری نتائج کے منتظر ین کو سرخرو کرے گی۔ عدالت اصول قانون شواہد دستاویزات اور گواہوں کے بیانات سمیت تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل کرنے کے بعد ہی فیصلہ دے گی۔ خواہ کمیشن کا قیام ہو یا فیصلہ جو بھی عدالت کا فیصلہ آئے اسی کو بلا تبصرہ و تنقید یہا ں تک کہ تعریف بھی کئے بغیر قبول کرنا ہی عدالت اور قانون کے احترام کے تقا ضے ہیں اور ایسا ہی کیا جانا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں