Daily Mashriq


وصال یار آرزو کی بات نہیں

وصال یار آرزو کی بات نہیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے اس امید کا اظہار کہ وہ بد عنوانی کی پہلی مخبری کرکے انعام پائیں گے خوشگوار لمحات میں کہی ہوئی ایک بات ہی ہوسکتی ہے وگرنہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناتے بد عنوانی کے حوالے سے ان کی معلومات اتنی کمزور نہیں ہوسکتیں ہاں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اس طرح کے الزامات کی تحقیقات کے بعد ملزموں کو سزا دلوانے میں کامیابی مشکل کام ضرور ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے طور پر ان کے پاس وزیر اعلیٰ انسکپشن ٹیم کی صورت میں ایک مضبوط اور فعال ٹیم موجود ہے اس ٹیم کے پاس اس وقت بھی بڑے بڑے مگر مچھوں کے خلاف ٹھوس ثبوت کے ساتھ درجنوں کیس موجود ہوں گے صرف ان پر معاملات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر کرپشن میں ملوث اعلیٰ افسران کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لئے اپنی ٹیم کو فری ہینڈ دے دیں اور سینئر افسروں کی گرفتاریوں کی منظوری دیں تو صوبے میں بد عنوان عناصر میں ہلچل مچ سکتی ہے۔ اس طرح کے معاملات پر آرزو کا اظہار کافی نہیں سخت فیصلے اور چیلنج قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر کرپشن کا الزام نہیں جیسا کہ ماضی میں حکمرانوں پر لگتا رہا ہے لیکن بد عنوانی اور کرپشن کی بیخ کنی کے حوالے سے موجودہ حکومت پر بھی صرف نظر کا الزام خلاف واقعہ نہ ہوگا۔ یہ دعویٰ ممکن ہی نہیں کہ اس دور میں بد عنوانی کا ارتکاب سرے سے نہیں ہوا۔ بد عنوانی اور کرپشن ہر دور کا مسئلہ ہے اور رہے گا۔ بد عنوانی کی روک تھام بھی کوئی آسان کام نہیں اور بدعنوان عناصر سے ہڑپ کردہ رقم کی وصولی تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ صوبے میں بدعنوان عناصر کے احتساب میں مکمل حکومتی مشینری اور اپنے اختیارات کو پوری طرح بروئے کار لائیں گے اور صوبے میں بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کی مثال قائم کریں گے۔

متعلقہ خبریں