Daily Mashriq

سوگ کی فضا میں خسارے کا حساب ؟

سوگ کی فضا میں خسارے کا حساب ؟

سانحہ حویلیاں کے بعد اسلام آباد سے چترال پروازپر مسافروں کے سفر ان کا حوصلہ ہے یا بامر مجبوری انہوں نے سفر کیا ہوگا بلاشبہ طیاروں کے حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن پی آئی اے کو دنیا بھر میں پر خطر ائیر لائن بلاوجہ قرارنہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے پرواز وں پر سیفٹی اصولوں اور معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث پابندی بلاوجہ یا کوئی کہانی ہے جس کے باعث پی آئی اے نے بعض بین الاقوامی روٹس پر سروس ہی معطل کردی جبکہ باقی روٹس پر عالمی معیار کا خیال رکھاجاتا ہے لیکن اندرون ملک اور بعض ممالک کے درمیان چلائی جانے والی پروازیں توکل ہی پر چل رہی ہیں۔ جہاں تک پی آئی اے کی طرف سے چترال روٹ کے خسارے کا روٹ ہونے کے باوجود پروازیں چلانے کے دعوے کا سوال ہے اس میں شاید ہی حقیقت ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی آئی اے کے باقی روٹس منافع بخش ہیں تو پی آئی اے دیوالیہ ہونے کے قریب کیو ںپہنچ چکا ہے ۔ ایک قومی فضا ئی کمپنی کی دعویدار کمپنی کو طیارے کے حادثے سے ملک بھر میں سوگ کی کیفیت سے دوچار ماحول میں اس طرح کی بیان بازی زیب نہیں دیتا اگر پی آئی اے کو اپنے خسارے کا اتنا ہی احساس ہے تو پھر خسارے کے روٹ بند کر لینا چاہیئے۔ صرف چترال روٹ پر خسارے کی پروازیں چلا کر دیوالیہ پن کا شکار نہیں ہوا اورنہ ہی اس روٹ پر پروازوں کی بندش سے پی آئی اے خسارے سے نکل سکتا ہے۔ سوگ اور غم کی اس فضا میں بجائے اس کے کہ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اس طرح کے اعداد وشمار کا اجراء نمک پاشی کے زمرے میں آتا ہے جس سے گریز کیا جاتا تو بہتر تھا ۔

اداریہ