نیا چیف جسٹس، نیا بنچ ، نئی سماعت

نیا چیف جسٹس، نیا بنچ ، نئی سماعت

انگریزی کے ایک موقر روزنامہ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ اور اس حوالے سے پانامہ دستاویزات کے زیر سماعت مقدمے کی خبر پر سرخی لگائی ہے ''پاناما دستاویزات کا مقدمہ واپس (سانپ کی سیڑھی کے کھیل کے) پہلے خانے پر۔'' بات عام آدمی کے دل کو لگتی ہے کہ ایک ماہ کی گرما گرم سماعت کے بعد چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے جو مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچ کے سربراہ تھے۔ اب جنوری کے پہلے ہفتے میں مقدمے کی سماعت از سرِ نو شروع ہو گی۔ کل تک ذہن میں سوال ابھر رہے تھے کہ آیا چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار ( جو اس ماہ کے آخر میں حلف اٹھائیں گے) نیا بنچ بنائیں گے؟ اس کی سربراہی خود کریں گے ؟اگر یہی بنچ سماعت کرے گا تو کون سے جج صاحب کو اس میں شامل کریں گے؟ ان سب کا جواب ایک اور معاصر کی سرخی کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔ لکھا ہے ''نئے چیف جسٹس ' نیا بنچ' نیا سال ' نئی سماعت' '۔چند روز پہلے پرانے بنچ نے فریقین کو آپشن دیا تھا کہ وہ اگر اتفاق کریں تو معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنا دیا جائے۔ جس پر وزیر اعظم کے وکیل نے کہا تھا کہ عدالت اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرے۔ وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل نے ایک شرط پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن بنا دیا جائے اور عمران خان کے وکیل نے کہا تھا کہ کمیشن نہ بنایا جائے بلکہ یہی بنچ خود فیصلہ کرے۔ اس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا تھا کہ دو دن باقی رہ گئے ہیں اس عرصہ میں فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ کمیشن بنانے کے بارے میں عدالت اپنی صوابدید کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ یہ صوابدید عدالت کے پاس پہلے بھی تھی تاہم سارا معاملہ از سرِ نو شروع ہو گا۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک ساری قوم اور سارا میڈیا اس مقدمہ پر متوجہ رہا۔ اور اب بھی ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتے سے فیصلے کا انتظار پھر سے شروع ہو جائے گا۔ مقدمہ نہایت اہم ہے۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ تک نہیں جانا چا ہیے تھااگر متعلقہ ادارے اپنا کام انجام دیتے۔
پاناما دستاویزات کا معاملہ تقریباً سات ماہ پہلے ابھر کر سامنے آیا تھا۔ اسی وقت نیب کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے تھی اور اس کی تحقیقات کرنی چاہئیں تھیں۔ لیکن نہ صرف اس ادارے نے اپنا فرض نہیں نبھایا بلکہ کسی عدالت نے بھی اس ادارے کی کارکردگی کا نوٹس نہیں لیا۔ خاص طور پر نیب کی طرف سے اس وضاحت پر کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ جب کہ ٹی وی پر بعض چینلز نے وہ دستاویزات دکھا دیں جن کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات نیب کی ذمہ داری تھی۔ کسی عدالت کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ آیا یہ معاملہ نیب کے دائرہ کار کے اندر ہے یا نیب کی طرف سے غلط بیانی کی گئی ہے کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ اور کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر سزا بھی ملنی چاہیے تھی۔ اسی طرح اگرتحریک انصاف اور عمران خان کی درخواستوں پر 2013ء کے انتخابات کے چار حلقوںکا ریکارڈ بروقت کھل جاتا تو انتخابی دھاندلی پر اصرار اتنا طول نہ پکڑتا۔ ایک سو چھبیس دن کا دھرنا بھی نہ ہوتا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے قومی معیشت کو بھاری نقصان ہوا اور سی پیک کے معاہدے میں تاخیر ہوئی۔ یہ معاملہ بھی آخرکار سپریم کورٹ تک گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں 2013ء کے انتخابی نتائج کو کلی طور پر شفاف نہیں قرار دیا گیا۔ یہ بات سامنے آئی کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے لیکن اتنی نہیں کہ اس سے سارے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہوں۔ لیکن جس قدر دھاندلی جتنے حلقوں میں ہوئی تھی اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہوا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انتخابی نتائج کے تھیلوںکی مہریں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ووٹوں کی بجائے نتائج کے تھیلوں سے اینٹ' پتھر اور ردی کاغذ برآمد ہوئے لیکن اس معاملے پر آگے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انتخابی نتائج کے تھیلوں کا سربمہر ہونا اور ان تھیلوں میں صرف ووٹ ہونا ریٹرنگ افسروں کی ذمہ داری تھی۔ لیکن کسی ایک ریٹرنگ افسر کے خلاف بھی اس حوالے سے کوئی انضباطی یا قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ عوام قانونی پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہوتے لیکن کہیں کوئی بے ضابطگی ہو وہ ان کے بیانیہ میں شامل ہو جاتی ہے اور حکومت اور عدالتی نظام کے بارے میں ان کی رائے کو متاثر کرتے ہیں۔ زیرِ نظر مقدمے کے حوالے سے اکثر کہا جاتا ہے کہ معاملہ عوام کی عدالت میں ہے اور عوام کی عدالت پانچ سال حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے انتخابات میں اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ اس استدلال کو جمہوری قرار دیا جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیںکہتا کہ عدالتی نظام اور شفاف انتظامیہ کے بغیر کوئی جمہوریت جمہوریت نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ معاملات پارلیمنٹ میں طے کر لیے جائیں۔ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی اور انتظامیہ کی نگرانی ہے۔ پارلیمنٹ کو عدالت کا کام نہیں دیا جا سکتا۔ عدلیہ کے کرنے کے کام عدلیہ ہی کو کرنے ہوتے ہیں اور دیگر اداروں کو اپنے دائرہ کار کے کام کرنے چاہئیں۔ پارلیمنٹ انتظامیہ کی خاطر خواہ نگرانی نہ کرے اور انتظامیہ احتساب سے آزاد ہو تو جمہوریت جمہوریت کی طرح نہیں چلے گی۔ زیرِ نظر مقدمہ میں یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اور ٹیلی وژن پر لندن کی جائیداد کی خریداری کے بارے میں وزیر اعظم نواز شریف نے جو بیان دیے تھے وہ چونکہ عدالتی بیان نہیں تھے اس لیے وہ سیاسی بیانات تھے۔ عدالت کو ان بیانات کو زیرِ غور نہیں لانا چاہیے۔ عام آدمی کی خواہش ہو گی کہ عدالت عظمیٰ اداروں کی کارکردگی کو بھی زیرِ غور لائے اور اس استدلال کو بھی زیر غور لائے کہ عوام کی عدالت اور قانون کی عدالت میں کتنا فرق ہے اور ایک ہی معاملہ کے بارے میں قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان اور عدالت کے روبرو دیے گئے بیان کیا مختلف ہو سکتے ہیں؟ عدالت کے فیصلے قانون کی تشریح کے مطابق ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلے قومی اداروں پر عوام کے اعتماد اور عوام کے بیانیہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اداریہ