Daily Mashriq


بھارت اور افغانستان کی قربتیں

بھارت اور افغانستان کی قربتیں

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا پاکستان سے گلے شکوے کرنا ان کا حق ہے لیکن اگر دو طرفہ معاملات کے لیے کسی بین الاقوامی فورم کو استعمال کیا جائے اور وہ بھی بھارت میں تو پاکستان میں لوگ اس رویے کی مذمت ضرور کریں گے۔ مشرق ٹیلی وژن کے پروگرام ''سولہ'' میں گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹر ستارہ ایاز کو بھی صدر اشرف غنی کے طرز عمل کو ''نامناسب'' کہنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہے تو اس ماحول میں بھارت میں بین الاقوامی کانفرنس میں افغان صدر کو پاکستان کے بارے میں اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ 2011ء میں بننے والی ''ایشیاء کا دل ''گروپ کا مقصد افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کام کرنا ہے اور اس فورم پر الزامات لگانے کے عمل کو کسی بھی صورت میں اچھا نہیں سمجھا جائے گا۔ افغان صدر نے ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات لگائے جب پاکستان نے افغان طالبان کو میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔ اس قسم کی کوششوں کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی ضرورت ہے لیکن صدر غنی کا رویہ پاکستان کی کوششوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ افغان حکومتی رہنماؤں کی پاکستان سے بڑی شکایت طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد نہ کرنا ہے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان میں لوگوںکو یاد ہو گا کہ گزشتہ سال مئی میں ''مری مذاکرات'' پاکستان نے ہی کرائے تھے۔ مذاکرات میں حصہ لینے والے افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی اور مذاکراتی ٹیم کے سینئر رکن حاجی دین محمد نے واپسی پر کابل میں پریس کانفرنس میں مذاکرات کرانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ مذاکرات کے دوسرے دور کو ناکام کس نے بنایا تھا وہ سب کے سامنے ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا عمر کی موت کی خبر صدارتی محل نے اعلان کرواکر مذاکرات کو منسوخ کروایا۔ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے طالبان رہنماؤں کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا تھا جس میں ان کے رہبری شوریٰ کے ارکان بھی تھے۔ اب جب کہ امن مذاکرات کے لیے کوششیں جاری ہیں اس موقع پر بداعتمادی کی بجائے اعتماد کی بحالی کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے قطر میں سیاسی دفتر کے مذاکرات کاروں کے اکتوبر میں دورۂ پاکستان کے دوران انہیں واضح پیغام دیا گیا ہے کہ مذاکرات کی میز پر آنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ طالبان کو واضح پیغام دیا گیاہے کہ قطر میں طالبان مذاکرات کاروں نے چند روز پہلے کابل سے صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے وفد کے ساتھ دوحہ میں گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے قائم مقام خصوصی نمائندے لاورل میلر کا حالیہ دورہ اسلام آباد بھی ان سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان حالات میں جب کہ مذاکرات سے متعلق کچھ امیدیں پیدا ہوئی ہیں ، سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے نہ کہ ان کوششوں کو ناکام بنانے کی۔ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششیں صدر اشرف غنی کا انتخابی مہم کا وعدہ بھی تھا لیکن حکومت کا تیسرا سال شروع ہوا ہے اور یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ضرب اسلامی کے ساتھ ستمبر میں ہونے والے امن معاہدہ اب تک نافذ نہیں ہوا ہے۔ حکمت یار کا نام اب بھی اقوام متحدہ اور امریکہ کے دہشت گرد افراد کی فہرست میں موجود ہے جس کے لیے کابل کو سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ صدر غنی کو اس وقت بھی سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ نے کئی اہم وزراء کو اپنے عہدوں سے ناقص کارکردگی کی وجہ سے سبکدوش کیا۔ منتظم اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ معاملات اس وقت تک حل نہیں ہوئے ہیں۔ امریکی کمانڈر جنرل نکولسن نے واشنگٹن میں اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کرپشن اور قیادت کی کمزوریاں افغانستان کے بڑے مسائل ہیں۔ ان حالات میں صدر اشرف غنی کو اندرونی مسائل حل کرنے کی کوششوں کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی اعتماد کی فضا بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ آزاد تعلقات رکھنے ہوں گے اور اس کو بھارت کے ساتھ نتھی کرنا قریبی ہمسائیگی کے تصور کی نفی ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو اس وقت دکھ ہوا ہوگا جب افغانستان نے بھارت کے اعلان کے بعد نومبر میں اسلام آباد میں ''سارک'' سربراہی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ سارک چارٹر کے تحت اگر ایک رکن بھی سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرے تو اجلاس نہیں ہو سکتا لیکن افغان حکومت نے بھارت کے اعلان کے فوراً بعد اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ افغانستان ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے فیصلوں میں آزاد ہے لیکن اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان میں اس سوچ کو تقویت ملتی ہے کہ افغان حکومتی رہنما بھارت کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف الزامات لگا رہا ہے۔ افغان رہنماؤں کو سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ پاکستان سے بداعتمادی میں اضافہ کرنے سے انہیں کیا فائدہ ہو رہا ہے۔ یہاں یہ بھی اہم ہے کہ پاکستانی حکومت کو بھی سوچنا ہوگا کہ افغانستان کیوں ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ خارجہ پالیسی پر نظرثانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں