Daily Mashriq

ہم کہاں ہیں؟

ہم کہاں ہیں؟

ایک ایسے وقت میں جب ہم بحیثیت قوم اپنے سائے سے بھی الجھ رہے ہیں دنیا ایک اور ہی پریشانی کاشکار ہے۔ دنیا کے سارے ادارے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے' سرکاری ہوں یا غیر سرکاری اس وقت شدید دبائو کا شکار ہیں۔ اس دبائو کے مظاہر مختلف اطوار سے دکھائی بھی دیتے ہیں۔ کہیں اس پریشانی سے لوگ ایسے لوگوں کو ووٹ دے رہے ہیں جن کے پہلے منتخب ہونے کا کوئی امکان ہی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کہیں کوئی اور تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ صرف پاکستان میں تبدیلی کے نعرے سنائی دیتے ہیں اور در اصل ''سٹیٹس کو'' (Status quo) برقرار رکھنے کی تمام تر جدوجہد ہے۔ دنیا میں کہیں تبدیلی کے نعرے نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ سٹیٹس کو (Status quo) سے منہ پھیر رہے ہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کا صدر منتخب کیا جانا اسی ایک خیال کی دلیل ہے۔ مانئے اب امریکہ میں بھی نواز شریف جیسے ہی شخص کی حکومت ہے۔ وہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ ملکی معاملات کی طرف دھیان دینے اور انہیں احسن طور سے چلانے کے لئے وہ اپنے کاروبار سے فی الحال لا تعلقی اختیار کریں گے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا کہاں ہوا کرتا ہے۔ یہ سب انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور میاں نواز شریف جیسے لوگ ایسے اعلانات کیا ضرور کرتے ہیں لیکن ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ ہی ذاتی مفادات رہتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی انہونی بات بھی نہیں' انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔بات صرف اتنی ہے کہ ایسے لوگ جب طاقت میں بھی ہو ں تو معاملے کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے ۔ پاکستان جیسے ننھے ، کمزور اور اقتصادی ضعف کے مارے ہوئے ملک میں وزیر اعظم ایسے ایسے کمال سر انجام دے سکتے ہیں کہ پھر ان کی دولت کا شمار ہی ممکن نہیں رہتا۔ یہ درست ہے کہ امریکہ میں معاملات میں وہ لچک موجود نہیں جو پاکستان میں موجود ہے۔ وہاں معاملات کو اپنی پسند کی شکل دے دینا اتنا آسان نہیں جتنا پاکستان میں ہے۔ لیکن وہ کوئی فرشتوں کا معاشرہ نہیں۔ وہاں بھی انسان ہی بستے ہیں۔ نظام بھی انسانوں کا ہی بنایا ہوا ہے۔ وہاں بھی لوگ بکتے ہیں اور صورتحال کو اپنی پسند اور مرضی کے رنگ دئیے جاتے ہیں۔ جارج بش دوئم کے صدارتی انتخاب نے بھی یہ بات ثابت کی تھی جس پر دھاندلی کا شبہ کیاجاتا رہا تھا اور اب بھی معاملات ایسی جانب سے حکومت کرنے والوں کی حمایت کریں گے کہ امریکی عوام کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا۔عالمی تجزیہ کار تو اس سب کو اس اقتصادی اور معاشی دبائو پر محمول کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں کئی ملکوں میں لوگوں کے رد عمل سامنے آئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں دنیا کی عمومی اقتصادی کیفیت بہت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ 2005ء سے لے کر 2014ء تک لوگوں کی اصل آمدنیوں میں یا تو کوئی اضافہ ہی نہیں ہوا یا ان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر موجودہ اقتصادی کیفیات برقرار رہیں تو یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی کی آمدنی اپنے والدین کے مقابلے میں کم ہوگی یعنی وہ اپنے والدین کے مقابلے میں غریب ہوں گے۔ یہ تبدیلی ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے کئی ملکوں میں یہ خیال گھر کر چکا تھا کہ اب صورتحال صرف بہتری کی ہی جانب گامزن رہے گی۔ آنے والی ہر نسل اپنے سے پہلی نسل سے بہتر ہوگی' امیر ہوگی۔ نوبل انعام یافتہ جوزف سٹیگیٹز (Joseph stghitz)کہتے ہیں کہ اقتصادی گلو بلائزیشن سیاسی گلو بلائزیشن سے آگے نکل گئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اور ملک تنہائی کاشکار ہوئے ہیں۔ اس تنہائی نے ملک اور قوم پرستی میں بڑھوتری پیدا کی ہے اور پرانا نظام دنیا اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ وہ درست کہہ رہے ہیں تبدیلی تو آنی ہی ہے اور اس تبدیلی میں دنیا کی سپر طاقتوں نے بھی اپنی جگہ بدلنی ہے۔ امریکہ کو بھی اب اپنے زوال کی جانب قدم بڑھانے ہیں اور اس کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے ہی زمانے میں ہم ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ مگر بات صرف یہیں تک محدود نہیں کیونکہ عالمی تجزیہ نگار ان معاملات سے بڑے اور کہیں اہم معاملات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ معاملات جو کسی ایک ملک یا قوم کی بہتری یا ابتری سے متعلق نہیں۔ وہ معاملات جو کسی ایک ملک و قوم کے مفادات سے وابستہ نہیں۔ وہ معاملات جو اس دنیا کی بقاء اور نسل انسانی سے وابستہ ہیں۔ اس دنیا میں انسانوں کی زندگی کی بہتری کے معاملات ہیں جو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے معاملات ہیں جو انسانی تفاوت میں بڑھوتری کی پریشانی کی بات کرتے ہیں۔ جو ٹیکنالوجی کے معاشرتی دھاروں کے بہائو میں رکاوٹ کے معاملات ہیں۔ ان سارے معاملات کو تو دنیا کے ملکوں کو لیڈروں کو مل کر ہی حل کرنا ہوگا۔ اس میں کوئی ایک ملک' کوئی ایک قوم بھی اپنا کوئی جداگانہ منصوبہ یا رویہ نہیں رکھ سکتی۔ یہ نسل انسانی کی بقاء اور بہتر حالات میں بقاء کے مسائل ہیں۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کی مسلمانوں کو پندرہ سو سال پہلے تربیت دے دی گئی تھی۔ جب لوگوں کو بھوک رکھ کر کھانے کا حکم دیاگیا اور پانی ضائع کرنے کی ممانعت کی گئی۔ تب انفرادی سطح پر ہرایک مسلمان کو کئی سو سال بعد پیش آنے والے مسائل کی تربیت دی جا رہی تھی۔ دنیا کے محدود وسائل کو زیادہ لمبے عرصے تک چلانے کی مشق کروائی جا رہی تھی۔ یہ تبدیلی تو آنی ہی تھی لیکن اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی اس سب میں کیسے شامل ہیں' کہاں موجود ہیں۔ جب میں جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے سامنے ایک وسیع' لا محدود' خاموش اور خالی خلا ہے' بس خلا۔ ہم تنہا ہیں یا شاید کہیں بھی نہیں۔

اداریہ