Daily Mashriq

قصیدہ گوئی

قصیدہ گوئی

گوئبلز کا کہنا تھا کہ جھوٹ اس تواتر سے بولو کہ سچ لگنے لگے۔ پاکستان میں رواج ہے کہ غلطی ماننے کی بجائے مخالف پر چڑھائی کر دو۔ انگریزی میں اس طرز عمل کو ''جارحیت دفاع کا بہترین طریقہ ہے'' کہتے ہیں۔ (Offense is the best way of defence)۔ حکومت کے تمام وزراء آج اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کل تک جنرل مشرف کا قصیدہ پڑھنے والے آج نواز شریف کا ہر اول دستہ بنے ہوئے ہیں۔ 

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
دانیال عزیز ' طلال چوہدری اور ماروی میمن جیسوں کی بات پر اعتبار کیسے کیا جائے کہ یہ حضرات جنرل مشرف کی قصیدہ گوئی میں بھی کل اپنی مثال آپ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ بولتے وقت آپ کے اعضاء بھی آپ کا ساتھ نہیں دیتے ۔ زبان جھوٹ بول رہی ہوتی ہے اور جسم کے باقی اعضاء ''جھوٹ ہے جھوٹ ہے'' کی گردان کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ یہی اس وقت محسوس ہو تا ہے جب حکومتی خواتین و حضرات پانامہ پیپرز کیس میں وزیر اعظم اور ان کے بچوں کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔ ناقابل دفاع چیز کا دفاع کرنا کس قدر مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔ اس کا اظہار یہ حضرات اپنی نجی محفلوں میں ضرور کرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ میاں نواز شریف کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے لیکن نواز شریف ہیں کہ ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دانیال عزیز اور طلال چوہدری وزارت کے حصول کے لیے تڑپ رہے ہیں اور نواز شریف ان ''سخن وروں'' کو یہ مقام دینے پر ابھی آمادہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ناروال کی ضلعی چیئرمین شپ بھی دانیال عزیز گروپ کو دینے کی بجائے احسن اقبال کے بیٹے کے سپرد کر دی ہے اور کون نہیں جانتا کہ دانیال عزیز کے بارے میں احسن اقبال نے حال ہی میں کیا ارشاد فرمایا تھا۔ الغرض لیگی قائدین کے مابین سرد جنگ جاری رہتی ہے اور فاتح وہ قرار پاتا ہے جو نواز شریف کی توجہ اور قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ یہ پاکستان کی سیاست کا المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کمزور ہیں لہٰذا فیصلہ سازی ادارہ جاتی میکنزم سے نہیں ہوتی بلکہ قیادت ہی تمام معاملات میں حرف آخر ٹھہرتی ہے۔ اس خرابی نے ساری سیاست کو بیمار کر دیا ہے۔ چنانچہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ ن کے قائدین ' تمام کے تمام آصف علی زرداری' بلاول بھٹو زرداری اور نواز وشہباز شریف کی قصیدہ گوئی اور بے جا دفاع میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ ان حضرات کی سخن وری ملاحظہ کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ سیاست کی آنکھ میں حیا بھی نہیں ہوتی۔ مجھے مولا بخش چانڈیو جیسے دانشور پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کے دفاع میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں۔ کہاں گئے وہ اہل قلم ادیب غیرت و حمیت جن کے قلم کا زیور ہوتی تھی؟ایک دوست نے طنزاً معروف کالم نگار ارشاد احمد حقانی کا سوال نقل کیا ہے کہ ''صحافی اور میراثی'' میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ آج تو سیاسی اور میراثی کا فرق ڈھونڈنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ افسوس جن معاشروں سے حریت فکر رخصت ہو جائے تباہی کی طرف ان کا سفر شروع ہو جاتا ہے اور تیزی سے ہم ایک ایسا معاشرہ بنتے جا رہے ہیں ۔ دانیال عزیز اور طلال چوہدری جیسے لوگوں کا کمال کیا ہے؟
بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میںغالب کی آبرو کیا ہے
ان لوگوں کی جھوٹ پر مبنی لفظوں کی گولہ باری دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
گزشتہ دنوں وزیر مملکت عابد شیر علی بھی قصیدہ گوئی اور الزام تراشی کی اس دوڑ میں شامل ہوئے اور نواز شریف سے خراج تحسین پانے کی خواہش میں نواز مخالفین کو اس طرح آڑھے ہاتھوں لیا کہ ''آڑھے ہاتھوں لینا'' کا محاورہ بھی شرمندہ ہو گیا ہو گا۔ میاں نواز شریف کو مجبوراً عابد شیر علی کو ''تم چپ ہی رہو'' کہنا پڑا۔ اس طرح آگے بڑھ کر مخالفین کو "Below the belt"ہٹ کرنے کی وجہ سے فیصل آباد کی میئر شپ کے لیے نوازشریف کی توجہ حاصل کرنا تھا لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ میاں نواز شریف نے فیصل آباد کی میئرشپ رانا ثناء اللہ گروپ کو دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر آئی کہ عدالت عظمیٰ نے پانامہ کیس کو جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔ اب کیس کی ازسرنو سماعت ہو گی اور اس کے لیے نیا بنچ تشکیل دیا جائے گا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اپنی ریٹائرمنٹ کے باعث نئے بنچ کا حصہ نہیںہوں گے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ تحقیقات کے لیے اب کمیشن نہیں بنے گا لیکن کمیشن کے قیام کو خارج ازامکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ عدالت کسی مرحلے پر کمیشن کی تشکیل کر سکتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے درست کہا ہے کہ قومی مفاد میں بہتر ہوتا اگر عدالت سردیوں کی چھٹیوں کو ختم کر کے مقدمہ کی سماعت جاری رکھتی اور کسی فیصلے پر پہنچتی۔ اب اگلے بیس بائیس دن قوم پھر بے یقینی کی کیفیت میں گزارے گی اور اپنی اپنی قیادت کے حق میں قصیدہ گوئی اور پاکبازی کی داستانیں رقم کرتے ''سیاسیوں'' کے رحم و کرم پر ہوگی۔

اداریہ