Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

شیخ قطب الدین منور ہا نسوی (المتوفی 760ھ ، 1358ئ) حضرت جمال الدین بانسوی کے پوتے اور حضرت خواجہ نظا م او لیا ی کے خلیفہ تھے ، ان کے والد کا نا م شیخ برہان الدین تھا ، پوری زندگی توکل اور قناعت میں گزاری ۔ ایک روز وہ اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیا ی کی مجلس میں شریک تھے ، اس وقت ان کے پیر بھائی مولانا حسام الدین ملتانی ، مولانا جمال الدین نصرت خانی اور مولانا اشرف الدین یحییٰ بھی موجود تھے ، حضرت نظام الدین اولیای نے مولانا حسام الدین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جو کوئی دن کو روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے تو وہ بیوائوں کا کام انجام دیتا ہے کہ اتنا تو ہر بیوہ بھی کر سکتی ہے ۔ اگر خدا کے بندوں کے کاموں میں مشغول رہ کر عبادت کی جائے تو یہ بڑی عبادت ہے ، یہ کہہ کر حضرت نظام الدین اولیا ی نے فرمایا کہ اس کی تفصیل بیان کی جائے تو چھ مہینے لگ جائیں گے ۔ (بزم رفتہ کی سچی کہانیاں صفحہ 108)
بیرم خان فقراء اور مشائخ کا معتقد رہا ، بڑا صاحب کمال ، نیک ، دور اندیش ، پابند اوقات اور رقیق القلب تھا ۔ اس کی مجلس میںہمیشہ اللہ اور رسول ۖ کا ذکر رہتا ہے ۔ ایک دن ایک بزرگ سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ انہو ں نے بزرگ سے قرآن کریم کی آیت '' تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ۔۔الخ '' کا مطلب اور وضاحت طلب کی ، ان کے ذہن میں جواب نہیں تھا تو یہ خود ہی اس آیت کی وضاحت کرنے لگے کہ تعز من تشاء با لقنا عتہ تذل من تشاء بالسوال ۔ آیت کا مطلب اس وضاحت کے ساتھ یہ ہو ا کہ تو (رب تعالیٰ ) عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے قناعت کے ذریعے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے سوال کے ذریعے ۔ (منتخب التوار یخ ج دوم صفحہ 46ک سوم صفحہ 19بحوالہ بزم رفتہ کی سچی کہانیاں صفحہ 37-38)
بابر بادشاہ المتوفی 937ہجری کی ساری زندگی جنگ وجدل میں گزری ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی وہ شعر و شاعری بھی کر لیا کرتے اور اسی طرح وہ ہزل بھی کہتے تھے ، جس میں بے ہودہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، پھر انہوں نے ہزل کہنے سے توبہ کی ،ان کی توبہ کی داستان خود انہی سے سنیے !
فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے مبین (ایک مذہبی مثنوی ) کو نظم کرنا شروع کیا تو دل میں آیا کہ جس زبان سے یہ پاک الفاظ نکلیں ، حیف ہے کہ اس سے بے ہودہ الفاظ بھی نکلیں اور جس دل میں ایسے مقدس مضامین آئیں ، افسوس ہے کہ اس میں ایسے ناپاک بھی پیدا ہوں ۔
اسی دن سے ہزل کہنا ترک کردی ۔ سچ یہ ہے کہ کسی گنہگار بندے کے دل میں ایسے خیال کا پید ا ہونا ایک بڑی دولت ہے ، جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے جو بندے اس طرح متنبہ ہوجائیں وہ اس کو سعادت عظمیٰ سمجھتے ہیں ۔ (تزک بابری اردو صفحہ 54-50بحوالہ بزم رفتہ کی سچی کہانیاں ،ج دوم صفحہ 14-10)

اداریہ