صفر جمع صفر مساوی ہے…؟

صفر جمع صفر مساوی ہے…؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے جوشیلے وزراء کی نسبت سیاسی معاملات پر کم ہی بات کرتے ہیں لیکن انہوں نے گزشتہ روز جھنگ میں ایک نئے پاور پلانٹ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں کے ایک دوسرے کے نزدیک آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنا وژن انہی کے پلڑے میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ صفر جمع صفر کا حاصل صفر ہی ہوتا ہے۔ صفر جمع صفر کا جملہ کئی سال پہلے حسین شہید سہروردی نے اپنے مختصر دورِ وزارت کے دوران استعمال کیا تھا جب کسی صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ پاکستان اسلامی ملکوں کے ساتھ اتحاد کی طرف کیوں نہیں بڑھتا۔ چند سال بعد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے انہی صفر جمع صفر ملکوں کا ایک ایسا اتحاد قائم کیا جس کی وجہ سے مغرب میں تیل کا بحران پیدا ہو گیا اور بین الاقوامی سیاست میں ایک تبدیلی نظر آنے لگی۔ ان صفر جمع صفر کے جمع ہونے کی کتنی اہمیت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اتحاد کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسلامی تنظیم کے چار اہم لیڈر غیر قدرتی موت کا شکار ہوئے۔ آج جن سیاسی جماعتوں کو شاہد خاقان عباسی صفر جمع صفر کہہ رہے ہیں وہ صفر نظر نہیں آتیں۔ اگرچہ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کا کوئی رکن اسمبلیوں میں نہیں ہے تاہم ایک تو اس جماعت کے لوگوں نے چار سال پہلے بے مثال استقامت کا ثبوت دیا ہے دوسرے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انصاف حاصل کرنے کے جس کاز کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے وہ بہت اہم ہے۔ اس سانحہ کے بارے میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کی اشاعت میں ن لیگ کی حکومت نے جو رکاوٹیں پیدا کیں ان کی وجہ سے ن لیگ کی پوزیشن بہت کمزور نظر آتی ہے اور 14افراد کے دن دیہاڑے قتل اور ایک سو افراد کے گولیوں سے زخمی ہونے کی حمایت کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ چار سال پہلے عوامی تحریک کے دھرنے میں علامہ طاہر القادری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ناکوں چنے چبوائے تھے اور آصف زرداری کے لیے سخت زبان استعمال کی تھی لیکن یہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے کہ جب کسی کا کوئی فوت ہو جائے تو اس کی تعزیت تمام اختلافات بھلا کر کی جاتی ہے اور انصاف کے لیے ساتھ دیا جاتا ہے۔ انصاف کے لیے ساتھ دینا عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار ہے کیوں کہ انصاف عوام کی ضرورت ہے۔ اگرچہ عوامی تحریک کی اسمبلیوں میں نمائندگی نہیں ہے تاہم پیپلز پارٹی تو قومی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے جس کے لیڈر آصف علی زرداری نے طاہر القادری کے گھر جا کر یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر سید خورشید شاہ نے سیاسی لوگوں کا سینکڑوں بار دہرایا ہوا یہ جملہ ایک بار پھر دہرایا کہ سیاست میں کوئی دوست آخری دوست اور کوئی دشمن آخری دشمن نہیں ہوتا یہ قابلِ غور ہونا چاہیے۔ یہ جملہ اگرچہ انہوں نے تحریک انصاف کے عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے تاہم اس جملے کے معنی اپنی جگہ موجود رہتے ہیں‘ اس کا اطلاق تحریک انصاف پر بھی ممکن ہے۔ ن لیگ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کو بالعموم آڑے ہاتھوں لینے والے عمرن خان نے بھی کہا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انصاف کے حصول کے لیے عوامی تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آصف زرداری کے علاوہ جن اہلِ سیاست نے علامہ طاہر القادری کے گھر جا کر ان سے اظہارِ یک جہتی کیا ہے ان میں تحریک انصاف کے دو اہم عہدیدار جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے۔ نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی جس نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مقابلے میں اپنا وجود منوایا ہے اس کے سربراہ مصطفی کمال نے بھی علامہ طاہر القادری سے ملاقات کرکے اظہارِ یک جہتی کیا ہے۔ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور سندھ میں اس کی حکومت ہے۔ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی دوسری بڑی پارٹی ہے اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت ہے۔ پی ایس پی نے کراچی کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی میں اور اندرون سندھ میں اپنی حمایت ثابت کی ہے۔ امکان یہ بھی ہے کہ اور سیاسی عناصر بھی عوامی تحریک کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس لیے ان عناصر کو صفر جمع صفر کہنا حقیقت کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے وزیر اعظم کے اس جملے کے ردِ عمل میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک طرف عوامی تحریک کے طاہر القادری کہہ رہے ہیں کہ وہ کوئی سیاسی اتحاد قائم نہیں کر رہے ۔ جو اظہارِ یک جہتی انہیں حاصل ہورہا ہے وہ محض حصول انصاف کے لیے ہے جس کے لیے انہوں نے تین مطالبات کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا طعنہ اظہارِ یک جہتی کرنے والی جماعتوں کو اُکسا رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صفر سے زیادہ ثابت کرنے کی طرف بڑھیں۔ یہ ریمارکس سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے جوشیلے وزراء کے رویہ کے مطابق ہیں۔ ظاہر ہے وزیراعظم اپنے وزراء کے سربراہ ہیں اور میاں نواز شریف کے منتخب کردہ ہیں۔ لیکن کیا مسلم لیگ ن میں اپوزیشن کا دباؤ برداشت کر نے کی سکت ہے جس کے بل پر ان عناصر کو صفر جمع صفر ثابت کیا جا سکے؟ ان کے سالہا سال تک رفیق کار سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں انتباہ کیا ہے کہ دھرنوں کی سیاست کا فروغ ہوا تو پاکستان کہیں بنانا ریاست نہ بن جائے۔ انہوں نے اگرچہ کہا ہے کہ دھرنوں کو روکنا فوج سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن مشورہ اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کے لیے رویہ اختیار کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا اولین ذمہ داری ن لیگ حکومت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی کو شک بھی نہیںہونا چاہیے کہ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ دھرنوں کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ن لیگ کو موجودہ بیانیہ ترک کر کے آئندہ انتخابات پر توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ بیانیہ پر قائم رہنے سے پارٹی کو آئندہ انتخابات میں نقصان ہوگا۔ وزیراعظم نے صفر جمع صفر کا طعنہ سابق وزیر داخلہ کے اس بیان کے ایک ہی دن بعد دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کو موجودہ بیانیہ ترک کر دینا چاہیے۔ لیکن ان سے پہلے ان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اگر پارٹی کو قبل از وقت انتخابات میں فائدہ نظر آیا تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن میں یہ امکان زیرِ غور ہے۔ پھر پارٹی کے بین الصوبائی رابطہ کے وزیر ریاض پیرزادہ کھل کر پارٹی کے موجودہ رویہ پر نکتہ چینی کر رہے ہیں ۔ اس تناظر میں قومی اسمبلی کی طرف دیکھا جائے تو ایوان کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود ن لیگ بالعموم کورم تک پورا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ فاٹا اصلاحات کا سرکاری بل اس لیے پیش نہ ہو سکا کہ کورم پورا نہ تھا۔ اب یہ بل آج پیش کیا جانا ہے۔ چوہدری نثار علی خان جس کو ن لیگ کا موجودہ بیانیہ کہتے ہیں اس میں حصہ ڈالنے کے لیے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مخالفین کو صفر تو کہہ دیا لیکن اس کا جو ردِعمل ہو سکتا ہے کیا حکومت اس کے لیے تیار ہے؟ ۔

اداریہ