فاٹا کے انضمام کیلئے فوری کارروائی کی ضرورت

فاٹا کے انضمام کیلئے فوری کارروائی کی ضرورت

وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز کے فاٹا میں ایف سی آر کے ایک ہفتہ کے اندر ختم کرنے کے اعلان سے خوشگوار ردِ عمل کی بجائے یہ مطالبہ ابھرا ہے کہ محض ایف سی آر کے خاتمے کی بجائے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں مکمل انضمام کا کام شروع کیا جائے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں قبائلیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا کام (آج) پیر سے شروع نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کی کال دیں گے اور فاٹا کے لوگوں کواسلام آباد آنے کے لیے کہیں گے۔ انضمام کے حق میں جماعت اسلامی کی کال پر ایک ریلی جمرود سے شروع ہو چکی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ریلی آج اسلام آباد پہنچ جائے گی۔ جب کہ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایف سی آر کے خاتمے کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کرکے اسے اسی ہفتے سینیٹ سے منظور کراکے ایف سی آر کے خاتمہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے لیے آئینی ترامیم تیار کی جا رہی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاٹا میں تعمیر و ترقی پر ایک سو ارب روپے سالانہ خرچ کیے جائیں گے۔ اگر اس ہفتے کے آخر تک محض ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار فاٹا تک وسیع کرنے کا اعلان مقصود ہے تو اس سے انضمام کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ سرتاج عزیز سفارشات میں یہ دونوں اقدام موجود ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ انضمام کا فیصلہ پانچ سال بعد ریفرنڈم کے ذریعے ہو گا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں اگرچہ صوبائی اسمبلی کے فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان کا انتخاب ہوجائے گا تاہم فاٹا کا صوبے میں انضمام پانچ سال بعد ہو گا۔ تو اس دوران یہ ارکان صوبائی اسمبلی میں فاٹا کے ارکان اپنے ووٹروں کے لیے کیا کر سکیں گے، اس سوال پر غور نہیں کیا گیا۔ اس صورت میں یہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فاٹا کے عوام کم از کم مزید پانچ سال تک پولیٹیکل ایجنٹوں اور فاٹا سیکرٹریٹ کے افسروں کی مطلق العنان بادشاہی میں زندگی گزاریں گے۔ نہ یہ فاٹا کے عوام کے لیے قابلِ قبول ہو گا اور نہ ملک کے ان تمام شہریوں کی توقعات پر پورا اترے گاجو فاٹا کے عوام کو ملک کے دیگر شہریوں کے برابر حقوق کے حامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ حکومت اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کے مشورے سے انضمام کی کارروائی جلد مکمل کرنے کے لیے عملی اقدام کرے۔

اداریہ