Daily Mashriq


چوہدری نثار کا انتباہ اور بال وپر جھڑنے کا آغاز؟

چوہدری نثار کا انتباہ اور بال وپر جھڑنے کا آغاز؟

مسلم لیگ میں اعتدال اور مفاہمت کی سوچ کی علامت چوہدری نثار علی خان نے جہاں مسلم لیگ ن کو اوون کرنا اور اس کے مخالفین کو تنقید واستہزا کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے وہیں ایک غیر محسوس خطرے کی بو سونگھتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر تصادم کی پالیسی سے گریز اور اس پالیسی کے نتیجے میں انتخابات میں سیاسی نقصان کی بات کی ہے ۔مسلم لیگ ن کی حکومت اور سیاست کا دل لاہور ہے اور گلگت و آزادکشمیر جیسے علاقے جو پاکستان کے آئینی ڈھانچے کا براہ راست حصہ نہیں اس کے بال وپر ہیں۔مسلم لیگ کے دل وماغ میں جہاں ایک ہیجان کے آثار ہیں وہیں اس کے بال وپر بھی جھڑنے لگ گئے ہیں۔شخصی وفا کے کھونٹے کے ساتھ بندھ جانے والی تنظیموں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ متبادل قیادت کے اُبھار کے امکانات معدوم ہوتے ہیں جبکہ طرز کہن پر اصرار آخر کار ٹوٹ پھوٹ کو جنم دیتا ہے ۔بال وپر جھڑنے کا ایک مظاہرہ آزادکشمیر کے سینئر سیاسی راہنما اور سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان کی دوری ہے ۔مسلم لیگ ن کے بزرگ لیڈر سردارسکندر حیات خان رفتہ رفتہ اپنی جماعت کی حکومت کے خلاف سخت پوزیشن اختیار کر تے چلے جا رہے ہیں ۔ان کا ہر بیان انہیں ایک ایسی منزل کی طرف لے جانے کا باعث بن رہا ہے جہاں کم ازکم واپسی کی کوئی راہ نہیں۔مسلم لیگ ن نے اپنی سینٹرل کمیٹی میں آزادکشمیر کو نمائندگی دیتے ہوئے سردار سکندر حیات خان کو کلی نظر انداز کردیا ۔وہ جو چند برس پہلے مسلم لیگ کے مرکزی نائب صدر کے عہدے کے حق دار قرار پائے تھے اب کی بار سینٹرل کمیٹی کے رکن بھی بننے نہ پائے ۔سکندر حیات خان نے اس پر کسی تاسف اور ناراضگی کی بجائے سکھ کا سانس لیا ہے۔یوں لگا کہ ان کے کندھے ایک بوجھ سے آزاد ہو گئے ہیں۔تین دہائیوں پر محیط دونوں کے سیاسی سفر پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو تی ہے کہ میاں نوازشریف اور سردار سکندر حیات خان کے سیاسی ستارے ہی نہیں ملتے بلکہ دونوں کے سیاسی سٹائل میں بھی تضاد ہے ۔میاں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ چھڑا کر آزاد فضائوں میں اُڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔نااہلی کے بعد وہ پوری قوت سے آمادہ ٔ مزاحمت ہیں ۔سویلین بالادستی کے نام پر وہ ملک میں ایک فیصلہ کن معرکہ لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔یہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں بھری راہ ہے ۔میاںنوازشریف کے اس سفر کو دوسری سیاسی جماعتوں کی دوری اور دوسری انتہا پر کھڑے ہونے کا فیصلہ مزید مشکل بنا رہا ہے۔سردار سکندر حیات خان دوبار آزادکشمیر کے وزیر اعظم رہے ایک بار ملک میں جنرل ضیاء الحق اور دوسری بار جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ آزادکشمیر کے ایک اور صف اول کے راہنما کے ساتھ ساتھ سردار سکندر حیات خان آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کے قیام کے لئے کوشاں رہے ۔راجہ ظفر الحق کے ڈیرے کا طواف کرتے کرتے ایک روز انہوں نے ساتھی سیاست دان سے ازراہِ تفنن کہا تھا کہ اب راجہ صاحب کو کہتے ہیں کہ ہمیں مسلم لیگ ہائوس میں قبر کی جگہ ہی دیں ۔میاںنوازشریف نے مسلم لیگ ن کے قیام کے لئے سکندر حیات خان پر براہ راست اعتماد کرنے سے گریز کیا ۔اس سے پہلے سردار سکندر حیات نے یہ انکشاف کیا تھا کہ میاںنوازشریف نے انہیں مسلم لیگ ن کے قیام کے لئے سات کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی ۔میاںنوازشریف اور سردار سکندر حیات خان کے تعلقات کے مدوجزر کا یہ مختصر جائزہ بتاتا ہے کہ دونوں کی فریکونسی اور سٹائل نہیں ملتا۔سکندر حیات ڈرائنگ روم میں جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر رہے ہیں جبکہ نوازشریف اب میدانوں اور زندانوں کی راہ لے چکے ہیں۔اسی لئے سکندر حیات خان مسلم لیگ ن کے مرکزی عہدے اور کسی فیصلہ ساز فورم میں اپنی جگہ نہ پاسکے ۔سکندر حیات خان چونکہ عملی مزاحمت اور میدانوں کے آدمی نہیں اس لئے وہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتے ۔یہی وجہ ہے کہ آمادہ ٔ مزاحمت اور سیاسی تنہائی کے راستوں کی طرف نکلتی ہوئی مسلم لیگ ن کی سینٹرل اور ورکنگ کمیٹیوں میں شمولیت پر جہاںخوشی کے شادیانے بج رہے ہیں وہیں سکندر حیات خان اس محرومی پر بھی شاداں وفرحاں ہیں ۔تان وہیں پر آکر ٹوٹتی ہے کہ ڈرائنگ روم سیاست دان کے طور پر سکندر حیات خان گھاٹے کا سودا کرنے والے نہیں تو پھر معاملہ کیاہے؟ راجہ فاروق حیدر اپنے انڈے ،ڈنڈے اور جھنڈے شریف خاندان کی ٹوکری میں ڈال چکے ہیں ۔جی ٹی روڈ کے اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر ایک پرائیویٹ گاڑی میں طے کرکے وہ اسی بیڑے میں بیٹھنے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمان کو ساتھ رکھ کر اسلام آباد میں انہوں نے جو پریس کانفرنس کی وہ تجدید وفا کا مظہر تھی ۔حفیظ الرحمان توکبھی کبھار چہرہ نمائی کراکے اب بھی کنی کترا جاتے ہیں مگر فاروق حیدر پوری قوت سے مسلم لیگ ن کی حکومتی کشتی میں ہچکولے کھارہے ہیں ۔ سردار سکندر حیات خان کی سرگرمیوں کے بارے میں راجہ فاروق حیدر خان یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت اور جماعت درست سمت میں گامزن ہیں بعض کاریگر چاہتے بزرگ سیاست دان سکندرحیات کو مرکز اور آزادکشمیر حکومت اور جماعت سے دور کرکے افراتفری پھیلائی جائے ۔کاریگروں کی یہ سازش کامیاب نہیں ہو گی ۔راجہ فاروق حیدر خان کی اس گواہی تک تو یہی سمجھا جارہا تھا کہ سکندر حیات خان حسب روایت نکیال کے ترقیاتی فنڈز ، اپنے بیٹے فاروق سکندر کی اچھی وزرات ،کسی انتظامی افسر کے تبادلے جیسی معمولی وجہ سے پریشان خیالی کا مظاہرہ کررہے ہیں مگر یہاں تو معاملہ کچھ اور ہے اور خود راجہ فاروق حیدر کہہ رہے ہیں کہ کاریگری شروع ہو چکی ہے تو پھر یہ مانے بنا کوئی چارہ نہیں کہ کاریگری شروع ہو چکی ہے۔ تو گویا اب آزادکشمیر کے عوام کوکاری گر کے کمال اور کرشمے دیکھنا باقی ہیں۔

متعلقہ خبریں