سوشل میڈیا بے لگام گھوڑا

سوشل میڈیا بے لگام گھوڑا

سورۃالنحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اپنے رب کے را ستہ کی طرف حکمت عملی اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور انکے ساتھ اس طریقہ سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے۔حضور ﷺ کا ارشاد ہے جو بھی بُری مثال قائم کرے گا اور جو ایک بُرے کام کا رُجحان بنائے تو جو لوگ اس سے متا ثر ہونگے سب کے سب کا بوجھ اُس پر پڑے گا۔مشہور سوشل سائنٹسٹ روکسن کا کہنا ہے سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے اگر آپ اس کو اچھے طریقے سے استعمال کریں گے تو اس سے زیادہ اچھی چیز کوئی نہیں اگر بُرے طریقے سے استعمال کریںگے تو اس سے بُری چیز کوئی نہیں۔ آج کل ہر چھوٹا بڑا فیس بُک،میسنجر، اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع استعمال کرنا ہے۔ اکثر صارفین نے فیس بُک پر اپنے پیج بنائے ہوئے ہیں۔وہ قصداً عمداً یا بغیر کسی ارادے کے سوشل میڈیا کو غلط کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔پرنٹ ، الیکٹرانک کے بعد سوشل میڈیا حد سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ ریڈیو ٹی وی چینلز، اخبار ات کے دفاتر اور کسی فلمی سٹوڈیو کے اندر جانے کے چکر میں ہو تے تھے اور ہزار جتن کے با وجود بھی اندر جانے کی ان کو اجازت نہ ملتی ۔ اب تو ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے ، اپنی ویڈیو بناتے ہیں ، فیس بُک یا سماجی تشہیر کے دوسرے ذرائع سے ان چیزوں کو دکھاتے اور پبلک کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ریڈیو ، ٹی وی اور اخبار ذمہ وارادارے ہیں ان پر حکومت کی کسی اتھارٹی کی نگرانی یا چیک ہوتا ہے جبکہ اسکے بر عکس سوشل میڈیا پرکسی ریاستی ادارے کا کوئی چیک نہیں ہوتا۔بعض فیس بک پیجز پر دوسروں کی پگڑیاں اُ چھالی جاتی ہیں ۔ بعض اوقات چیک نہ ہونے کی وجہ سے فیس بُک پیج والے بے ہو دہ چیزیں بھی دکھاتے ہیں جو دکھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ بعض اوقات مختلف مسالک کے علمائے کرام سوشل میڈیا پر ایسے مناظرے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف ایسی باتیں کرتے ہیں نتیجتاً افراتفری ، ہیجانی کیفیت کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمارے زیادہ تر مسلمان جو اپنے دین کی بنیادی باتوں سے بے خبر ہوتے ہیں اُنکے سامنے منا ظروں کی شکل میں طویل گفتگو جو عام مسلمانوں کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے اُنکو مزید پریشانی میںمبتلا کرتی ہے۔ ۔ یو ٹیوب اور فیس بُک پر اس قسم کی کئی چیزیں دکھائی جاتی ہیں۔اگر ہم غور کریں تو سو شل میڈیا کے مختلف ذرائع ہیں جس میںفیس بُک ، ٹویٹر، لند کرن، گو گل، یو ٹیوب ، انسٹا گرام دیگر اور ذرائع ہیں۔ مگر ان میں فیس بُک استعمال کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اس وقت دنیا میں فیس بُک کے1.65ارب کنکشن ہیں جن میں 1.09کے حساب سے روزانہ لاگ ان ہوتے ہیں۔پاکستان میں جو سوشل میڈیا پرسب سے زیادہ مقبول ہیں اور ان کے مداحوں کی تعداد زیادہ ہے اُن میں عاطف اسلم کے شائقین کی تعداد 19 ملین ، پی ٹی وی سپورٹس کی 11.6 ملین ، اے آر وائی کی 9.89 ملین۔ ایکسپریس نیوز 8.99ملین سما کی 7.16ملین عمران خان کی ملین اور 6.55 جنید جمشید کی 6.06 ملین ہے۔پاکستان میں فیس بُک کے ۲۵ ملین دیکھنے والے ہیں اور پاکستان کے ۱۴ فی صد یعنی ۳ کروڑ اور ۸۰ ہزار لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق وطن عزیز میں ۸ سال سے ۱۲ سال تک بچے ۶ گھنٹے سو شل میڈیا اور ایک گھنٹہ فیس بُک استعمال کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فیس بُک ۔ وٹس اپ ، اور میسنجر کے فوائد ہیں مگر اسکے نُقصانات بھی ہیں۔اگر ہم غور کریں تو سوشل میڈیا کے ذریعے ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں ۔ سوشل میڈیا کو ہم تعلیم، اطلاعات، کسی پروڈکٹ کی تشہیر، کسی اچھے کام، جرائم کی روک تھام اور اسکا پتہ چلانے ، کمیو نٹی بنا نے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔مگر اسکے نُقصانات میں جرائم کو پروموٹ کرنا، دوسروں کے سوشل ورک کو نُقصان پہنچانا، میڈیا کا نشئی بننا ، دوسروں کے ساتھ دھوکہ دہی، ایک چیز کو حد سے زیادہ پُر کشش بنانا اور حد سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال سے ہمارے اعصاب اور صحت کو بھی نُْقصان پہنچنا شامل ہیں۔ آج کل بچوں اور جوانوں میں دل کے امراض کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا پر مصروفیت کے دوران نمکین غذائی اشیاء کاکھانا ہے جس سے جسم میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو بلندفشار خون اور دل کے امراض کا سبب بنتا ہے ۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطا بق سوشل میڈیا سے سیکھنے اور تحقیق کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ انسانوں کے درمیان حقیقی رابطوں اور رشتوں کو بر قرار رکھنے میں کمی ،زبان پر دسترس میں کمی، وقت کا فضول ضیاع، تخلیقی صلاحیتوں کا فُقدان، اپنے سے چھوٹوں اور بڑوںمیں تمیز کی کمی اور بعض اوقات غلط رشتوں کا قائم ہونا، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ادارے کو چاہئے کہ وہ ایسے فیس بُک یوزر پاکستان میں فی الفور بند کریں جو ملک میں افرا تفری اور ہیجانی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ایسے فیس بُک پیجز کی پہلے تصدیق ہونی چاہئے اور تصدیق کے بعد کسی کو فیس بُک بنانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اور اس کی معقول فیس ہونی چاہئے تاکہ بلا ضرورت لوگ اس کو نہ بنائیں لوگوں کو تعلیم ،ایجو کیشن اور دین کی شکل میں وہ معلومات دینی چاہئیں جس سے معاشرے میں بگاڑ کم ہو۔ فیس بُک اور یو ٹیوب پر بعض اوقات انتہائی فحش گفتگو دکھائی اور کی جاتی ہے جو دکھانے کے قابل نہیں ہوتی۔

متعلقہ خبریں