Daily Mashriq


ہماری بجلی ہمیں سے میائوں

ہماری بجلی ہمیں سے میائوں

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اس اعلان کے بعد کہ ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ زیرو پر سنٹ ہوگئی ہے ، جبکہ اس سے پہلے ایک وفاقی وزیر نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ کراچی الیکٹرک کو چھوڑ کر ، ملک بھر میں صرف بجلی چور علاقوں میں لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی اور یہ کہ پانچ ہزار (شاید ) فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی گئی ہے ۔ان دل خوش کن اعلانات کے بعد تو ہم خوشی سے پھولے نہ سمانے کی پریکٹس کرنے ہی والے تھے کہ پیسکو والوں نے ہماری ساری خوشی پر پانی پھیرتے ہوئے ہمیں ہماری اوقات یاد دلانے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور ایک قومی اخبار نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے اعلان کے باوجود پشاور کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ جاری و ساری رہنے کی خبر دیدی ہے ۔ اگرچہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ صورتحال صرف اس علاقے یعنی گل بہار کالونی میں ہے اور جس کا کارن شاید یہ ہو کہ صرف ہم ہی بجلی چوروں میں شامل ہیں (اگرچہ پوری گرمی ہمارا بل پندرہ ہزاربلکہ اس سے بھی زیادہ رہا ہے جس کی ہم باقاعدگی کے ساتھ ادائیگی اس خوف سے کرتے رہے ہیں کہ کہیں ہم پر بھی کنڈہ لگا کر بجلی کی چوری کا الزام نہ لگ جائے ) مگر یہاں تو اب ایسا لگ رہا ہے کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است یعنی 

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

گویا پورا پشاور اس ’’بدعت ‘‘ کا شکار ہے ، بلکہ اخبار کی خبر کے مطابق تو لوڈشیڈنگ کا یہ نیا سلسلہ اس اعلان کے بعد شروع ہوگیا ہے کہ 5ہزار فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی گئی ہے اور جن علاقوں پر یہ مصیبت ٹوٹی ہے ان میں گل بہار ، کوہاٹی گیٹ ، سرکی گیٹ ، وزیر باغ روڈ ، آسیہ ، کاکشال ، بیر سکو ، گلبرگ ، نوتھیہ ، سواتی پھاٹک وغیرہ شامل ہیں ۔اس فہرست میں یونیورسٹی روڈ تہکال ، بورڈ ، حیات آباد اور دیگر ملحقہ علاقوں کا تذکرہ نہیں ہے اس لئے ہمیں یہ سمجھ میںنہیں آرہا کہ ان علاقوں کے مکینوں کو مبارکباد دیں کہ ان پر یہ عذاب نازل نہیں ہوا، یا پھر اخبار کے رپورٹر نے صورتحال معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ، اور اگر وہاں بھی یہی صورتحال ہے یعنی ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں تو وہ بھی اپنے گریبان میں جھانکیں جیساکہ پیسکو والوں نے ہمیں بھی مجبور کر دیا ہے یہ احساس دلا کر کہ بل باقاعدگی سے ادا کرنے کے باوجود ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے کہ شاید ہم بجلی چوری کررہے ہوں ، حالانکہ اس کم بخت کنڈے سے ہمیں ویسے ہی خوف آتا ہے (صرف تذکرہ سن کر بھی ) اور جب کچھ عرصہ پہلے تک گل بہارکا علاقہ ایک ایسے فیڈر سے منسلک تھا جہاں کے مکینوں کے بارے میں کنڈہ کلچر کو فروغ دینے کے الزامات عام تھے تو ان کی ’’مہربانیوں ‘‘ کے کارن ہم بھی شدید لوڈ شیڈنگ کی زد میں تھے ۔ مگر پیسکو میں موجود اپنے کرمفر ما جناب شوکت افضل ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کی مہربانی سے گل بہار کالو نی کو اس مضافاتی علاقے کے فیڈر سے علیحدہ کر دیا گیا اور شہری علاقے میں شامل کرنے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بہت ہی معقول سطح پر لایا گیا ، یوں دیگر شہری علاقوں کی مانند صرف اتنی ہی اوقات کیلئے لوڈ شیڈنگ ہونیلگی جتنی ملک میں بجلی کی کمی کے حوالے سے ہونی چاہیئے تھی ، اور حقیقت یہ ہے کہ چند ماہ سے صورتحال میں بہت بہتری آچکی تھی۔ مگر جیسے ہی پانچ ہزار فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ مل گیا ۔ پشاور کے بیشتر علاقوں کو عذاب سے دوچار کرنے کا آغاز کر دیا گیا ۔ اس لئے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا ہم بجلی چور ہیں ؟ اگر چہ ان تمام متعلقہ لوگوں سے یعنی وزیر سے لیکر واپڈا اور پھر پیسکو کے کرمفر مائوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

عرض یہ ہے کہ کیا صرف عوام ہی چور ہیں اور بجلی چوری کرتے ہیں ؟ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جو نئے جناتی قسم کے بجلی میٹر عوام کے شدید احتجاج کے باوجود زور زبردستی نصب کئے گئے ہیں ان کے بارے میں مصدقہ اطلاعات خبروں کی صورت میں چھپتی رہی ہیں کہ یہ میٹر لگ بھگ 30فیصد زیادہ بجلی کا خرچہ ظاہر کرتے ہیں ، یوں واپڈا ان عوام کی جیبوں پر کیا مسلسل ڈاکہ ڈالنے کا مرتکب نہیں ہورہا ہے جو باقاعدگی کے ساتھ بغیر کسی حیل و حجت کے زیادہ بل ادا کرتے ہیں ؟ اب یہ تو پیسکو کی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کا سراغ لگا کر ان سے میٹر بھی واپس لے جو میٹروں میں ’’کارکر دگی ‘‘ کر کے بجلی چوری کے مرتکب ہورہے ہیں یا پھر ڈائریکٹ کنڈے ڈال کر ہم جیسے امن پسند شہریوں کی زندگی بھی عذاب بنارہے ہیں ۔ ساتھ ہی ان میٹرریڈروں کا بھی احتساب لازم ہے جو اب تک گھروں میں بیٹھ کر من مرضی کی ریڈنگ لکھ کر زیادہ رقوم کے بل بھجوا تے ہیں یہ تو اب اچھا ہوا کہ نہ صرف حکومت نے غلط ریڈنگ کرنے والوں کو سرزنش کر دی ہے اور دوسرے یہ کہ کچھ علاقوں میں میٹر ریڈنگ کی تصویریں بھی بلوں پر ڈال کر صارفین کو بتا دیا جاتا ہے کہ ان کو جو بل بھیجے جارہے ہیں وہ درست ہیں ، ۔ تاہم اب جو لوڈ شیڈنگ دوبارہ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے اس حوالے سے اتنی گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ خدارا یہ جو خصوصاً صبح اور رات کے اوقات مقرر کئے گئے ہیں کم از کم ان پر تو نظر ثانی کیجئے ، یعنی صبح بھی 9سے دس بجے اور رات کو بھی 9سے 10بجے ۔ چونکہ انہی اوقات میں ہم ایسے قلم گھسیٹئے انہی اوقات میں خود کو باخبر رکھنے کیلئے خبریں سنتے اور پھر لکھتے ہیں ۔ اس لئے ہم بجلی چور ہی سہی ( چوری نہ کرتے ہوئے بھی ) مگر اتنے بھی چور نہیں کہ ان اہم اوقات میں ہماری ہی بجلی ہمیں ہی میائو ں کہہ کر رخصت ہو جائے ۔ کچھ تو کرم فرمایئے ۔

متعلقہ خبریں