ماحولیاتی آلودگی موسمیاتی تغیریا انسانی کوتاہی

ماحولیاتی آلودگی موسمیاتی تغیریا انسانی کوتاہی

دنیا میں آج دو قسم کے نظریات اور تصورات بہت عام ہیں۔ ایک قسم کے وہ لوگ ہیں جو آج بھی یاد ماضی سے دل بہلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یار گزرا زمانہ بہت اچھا تھا۔تجوریاں بھرنے کا نہ رجحان تھا نہ تصور۔ نتیجتاً مال و دولت بنانے اور جمع کرنے کی قیمت پر نظام فطرت کو نقصان پہنچانے اور خراب کرنے کے اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہ کائنات اللہ تعالیٰ نے جس طرح پاک صاف اور حسین بنائی تھی اسی طرح انسان کو بھی خوبصورت ترین ڈھانچے (احسن تقویم) میں پیدا فرمایا۔ اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ انسان کو چاہئے تھا کہ اس کائنات کے حسن و جمال اور فطرت کے خلاف اقدامات اور اعمال سے ہمیشہ گریز کرے۔کائنات کے خوبصورت ترین انسان اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے مل کرجو پاک معاشرہ اور ریاست تشکیل فرمائی اس میں مادیت کو صرف اتنا دخل تھا جتنی انسان کی بنیادی ضروریات تھیں۔ پیسہ قاضی الحاجات ضرور تھا لیکن مقصد حیات قطعاً نہ تھا۔ ضروریات کی تکمیل کے بعد ’’العفو‘‘ (بنیادی ضروریات سے زیادہ) کی ذیل میں ضرورت مند عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا اور اسی وجہ سے قناعت‘ صبر‘ توکل علی اللہ اس معاشرے کی پہچان اور بنیاد تھی۔ اور اسی سبب انسان کی فکر‘ دل و دماغ‘ ماحول وغیرہ سب پاک و صاف تھے۔ لیکن پھر جب وہ پاک زمانہ اور دور گزر گیا اور انسان آگے بڑھنے لگا تو قرآن و سنت کی صورت میں موجود پاک تعلیمات سے بھی معاشروں میں دوری بتدریج بڑھنے لگی جس کے نتیجے میں مسلمان بحیثیت امت عالمی معاملات میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے مرحلہ وار محروم و معزول ہوتے چلے گئے اور مغرب سیاہ و سفید کا مالک بنتا چلا گیا۔ مغرب میں سائنسی ترقی کے ساتھ ہی مذہب سے ناطہ و تعلق ٹوٹتا چلا گیا۔ سائنسی علوم کی ترقی کے نتیجے میں بود و باش و معاش کے پیمانے بھی تبدیل ہوئے۔اور پھر مغربی تہذیب نے سائنس کی ایجادات کی بنیاد پر جو معاشرہ تشکیل دے دیا اس میں عیش و آرام زیادہ سے زیادہ اور اپنی مرضی و خواہش کے مطابق زندگی سے لطف اندوز ہونے اور حظ اٹھانے ہی کو مقصد و حید بنایاگیا۔ پیٹ اور نفس کی پوجا کے لئے سونے اور پیسے کی ضرورت رہی۔ پیسہ کمانے کے لئے ہزار جتن اور طریقے سامنے لائے گئے اور پھر انسان کا حرص اتنا بڑھتا چلاگیا کہ پوری دنیا کے وسائل اس کے لئے کم محسوس ہونے لگے۔ وسائل کی تلاش میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے تو زمین کے پیٹ سے لے کر پیٹھ تک بدترین آلودگی نے اسے بوجھل بنادیا۔ نت نئی مصنوعات کی تخلیق و ایجاد اور پیداوار نے پہئیے کی رفتار کو تیز سے تیز تر بنا کر آسمانوں کی طرف ایسا دھواں چھوڑا جس نے اوزون کی تہہ کو تہہ بر تہہ کیا اور سورج کی شعاعیںزمین پر انسان کے ہاتھوں پیدا شدہ آلودگی کے ساتھ مل کر گلوبل وارمنگ کی صورت میں تباہی مچانے لگیں۔کارخانوں‘ گاڑیوں اور صنعتوں کا پہیہ گھومنے سے ہوا‘ پانی‘ خوراک اور فضا و ماحول کو جو نقصان پہنچ رہا ہے۔ حضرت انسان ایک زمانے تک اس غفلتاً بے خبر رہا اور بعد میں جب خبر ہوگئی تو پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ چکا تھا کہ اسے دوبارہ واپس لانا ناممکن تھا۔ ترقی یافتہ ممالک نے تو خبر پانے کے بعد کئی اصلاحی اقدامات بھی کئے اور مزید کر رہے ہیں اور اگرچہ تن آسانیوں اور مادہ پرستی کے سبب پوری طرح اصلاح وہاں بھی ممکن نہیں لیکن غریب ممالک سے نسبتاً بہتر ٹھہرے ہیں۔ جہاں تک غریب ممالک کا تعلق ہے تو وہاں ایک تو غربت اور دوسری جہالت کے سبب ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بہت کم آگاہی پائی جاتی ہے۔ان کی اسی جہالت‘ غربت اور غفلت سے ترقی یافتہ ممالک ناجائز فوائد سمیٹتے ہوئے اپنی تجوریوں کو بھرنے اور ناز و نعم اور تن آسانی کا تسلسل بہتر سے بہترین انداز میں جاری رکھنے کے لئے ماحولیات کے لئے مضر صنعتیں یہاں لگا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں گزشتہ چند سالوں سے ان غریب ممالک میں صنعتوں کی کثافت اور مضر دھواں اگلتی چمنیاں اور بلا سوچے سمجھے بعض دیگر اعمال و افعال نے دھوئیں (Smoke) اور دھند (Fog) کو ملا کر سموگ (Smog) سے دوچار کردیا ہے جس سے ایک طرف انسانی جانوں کو مضر و موذی بیماریوں کی صورت میں خطرات لاحق ہو رہے ہیں دوسری طرف صبح و شام اور رات کو سڑکوں اور شاہراہوں پر جان لیوا حادثات سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ سموگ کے سبب سڑکوں پرزائع آمد و رفت اور بجلی کے معطل ہونے یا اس میں خلل کے سبب ملک اور افراد کی اقتصادیات پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیا حضرت انسان بالخصوص سونے اور کاغذ کی کرنسی سے محبت اور عشق کرنے والے کبھی اس طرف توجہ کریں گے یا اپنے ہی ہاتھوں انہی اجتماعی قبر کھودنے پر اسی طرح مائل رہیں گے۔

اداریہ