ریلوے کی حیاتِ نو اور نیا ہدف!

ریلوے کی حیاتِ نو اور نیا ہدف!

من حیث القوم ہم بڑی حد تک ’’مایوسی پسند ‘‘ ہوچکے ہیں۔ اس لیے معاشرے میں جس طرف دیکھا جائے یا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو کھنگالا جائے، ہر جگہ مایوسی اور نا امیدی کے تذکرے ہی سننے کو ملتے ہیں۔ہمیں اس مایوسی و ناامیدی کی کیفیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے کیونکہ مایوسی انسان کو نہ صرف کفر کے قریب لے جاتی ہے بلکہ انسان کے اندر سے ہمت ، جوش ، جذبہ ، عزم اور ولولہ جیسے اوصاف بھی کھرچ ڈالتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے اکثر اداروں کی کارکردگی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں لیکن بہت سے ایسے ادارے بھی ہیں جو عوامی خدمات میں بہتری لانے کے ساتھ ، نہ صرف ملک و قوم کے لیے منافع کمانے لگے ہیں بلکہ یہ ادارے خود بھی جدت اور ترقی کی طرف تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں ۔ ان میں یقینا ایک ادارہ’’پاکستان ریلوے‘‘ ہے، جس کی اچھی کارکردگی کے اپنے تو اپنے ، پرائے بھی معترف ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ خواجہ سعد رفیق نے چار سالوںمیں ریلوے کے مردہ وجود میں جان ڈال دی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ چار اطراف پھیلے مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میںاگر کوئی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے تو اس کا کھلی بانہوں سے استقبال کرنا چاہئے تاکہ یہ امید کی کرن کمزور ہونے کی بجائے توانا ہو اور ملک و قوم پر چھائے نا امیدی او رمایوسی کے خوفناک اندھیرے ، روشن سحر سے تبدیل ہوسکیں۔ محکمہ ریلوے میں دکھائی دینے والی اسی امید کی کرن کو میں کھلے دل سے خوش آمدید کہتا ہوں ریلوے کی بحالی کوئی جادوئی چھڑی گھمانے سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے وفاقی وزیر ریلوے سمیت محکمہ ریلوے کے ہزاروں افسران و کارکنان کی چار برسوں پر محیط دن رات کی محنت اور خون پسینہ شامل رہا ہے۔ریلوے کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے حاصل کر دہ اہداف کی ایک طویل فہرست ہے،جسے بیان کرنے کے لیے الگ سے ایک ضخیم کتاب مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان ریلوے کی بہترین کارکردگی کا اظہار 7دسمبر 2017ء کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے بخوبی ہو رہا ہے ،جس میںبتایا گیا ہے کہ ’’ پاکستان ریلوے نے 140دنوں میں 18ارب 18کروڑ روپے آمدن حاصل کی ۔‘‘مزے کی بات یہ ہے کہ اس عرصہ میں آمدن کا ہدف 17ارب 59کروڑ روپے رکھا گیا تھا، جس سے ریلوے نے 60کروڑ روپے زائد کمائے۔یہ بلا شبہ ریلوے افسران اور سٹاف کی اعلیٰ کاردگی کا مظہر ہے۔اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ خطیر آمدن ریلوے کے کرائے بڑھا کر نہیں بلکہ 10سے 50فیصد تک کرائے کم کرکے حاصل کی گئی ہے۔مجموعی طور پر گزشتہ4سال میں پاکستان ریلوے نے 58ارب روپے کمائے اور اس قلیل عرصہ کے دوران ریل کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں 2کروڑ کا اضافہ ہو چکا ہے۔چار سال پہلے مال گاڑیوںکی تعداد 182تھی جبکہ اس وقت یہ تعداد بڑھ کرسالانہ 3318ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ دورِ حکومت میںکُل آپریشنل ریلوے انجنوں کی تعداد 152تھی جو اب 330ہوچکی ہے۔جدید سگنلنگ نظام کی تنصیب کے سلسلہ میں 23ریلوے اسٹیشنوں پر جدید کمپیوٹرائزڈ انٹر لاکنگ سسٹم متعارف کر وادیا گیاہے۔ اسی طرح ریلوے ٹریکس کی مرمت کے کام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے او راب تک 800کلومیٹر ٹریک ری نیو کیا جا چکا ہے، جس سے حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔خوش کن امر یہ بھی ہے کہ اب ریل کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت نہیں ہوتیں بلکہ کوئی بھی مسافر بغیر کسی پریشانی کے گھر بیٹھے آن لائن اپنے مطلوبہ ٹکٹ کی بکنگ کروا سکتا ہے۔یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ریل گاڑیوں کا تاخیر سے پہنچنا، اب قصہ ٔ پارینہ بن چکا ہے۔ کھٹارہ بن چکی ٹرینوںکی اپ گریڈیشن کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک 13مسافر ٹرینیں نئی بنائی جا چکی ہیں۔کامیابی کا ایک او رباب اس وقت رقم ہوا جب گزشتہ ماہ امریکی لوکو موٹو انجن کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میںپہلی بار 25مسافر کوچز پر مشتمل ریل گاڑی چلانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ اس تجربہ کی کامیابی کے بعد تمام امریکی لوکوموٹیو انجنوں کے پیچھے مسافر کوچز کی تعداد چار سے آٹھ تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے مسافروں کی رش میںکمی ہوگی اور اوور لوڈنگ پر بھی بڑی حد تک قابو پالیا جائے گا۔ اس سے قبل یہ جدید اور طاقت سے بھر پور انجن پاکستان ریلوے کے پاس نہیں تھے۔اس بات میںبھی کوئی کلام نہیںکہ ریلوے کی موجودہ بحالی و ترقی ’’ منزل ‘‘ نہیںہے۔ پاکستان ریلوے حقیقی معنوں میں اس وقت سُر خرو ہو گا جب یہ محکمہ جاپان ، جرمنی، فرانس ، اٹلی ، سپین ، کوریا، امریکا، ترکی اور تائیوان کے ریلوے نظام تک اپنا معیار بڑھا لے گا۔خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کے مردہ بدن میں جان ڈالنے پر شاباش ، لیکن اب اُن کو اِن جدید خطوط پر بھی سوچنا چاہئے کہ کس طرح پاکستان ریلوے کو دیگر ترقی یافتہ ممالک کی ریل کاروں کی رفتار سے ہم آہنگ کیا جائے؟ اس کے لیے بنیادی چیز تو ایک نیا جدید ریلوے ٹریک بناناہے۔ موجودہ ریلوے ٹریک پر اگر ٹرین کو 150سے زیادہ رفتار سے چلایا گیا تو ریلوے لائن ہی اکھڑنا شروع ہو جائے گی ۔ اس لیے جدید اور تیز رفتار سپر ریل کار کے لیے جدید اور اعلیٰ معیار کا نیا ریلوے ٹریک بچھانا ہوگا۔

اداریہ