Daily Mashriq


محنت کشوں کی واپسی، سنگین مسئلہ

محنت کشوں کی واپسی، سنگین مسئلہ

عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے بڑے پیمانے پر پاکستانی محنت کشوں جس میں سب سے بڑی تعداد خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع سے ہے کی واپسی سے جہاں ان محنت کشوں کا کاروبار حیات متاثر ہوا ہے وہاں اس سے ملک قیمتی زرمبادلہ سے بھی محروم ہو رہا ہے خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا کا کوئی بھی علاقہ ایسا نہیں جہاں کے لوگ بڑی تعداد میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک جا کر روزگار سے وابستہ نہ ہوں اور کاروبار نہ کر رہے ہوں۔ خاص طور پر وہ علاقے جہاں مقامی طور پر روزگار اور کاروبار کے مواقع کی کمی ہے ان علاقوں کے لوگوں کی اکثریت بیرون ملک جاکر اپنے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ صرف خیبر پختونخوا کے ضلع دیر لوئر کے اسی ہزار محنت کشوں کی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے واپسی کے اعداد وشمار کے تناظر میں دیکھا جائے تو دیگر علاقوں کے واپس آنے والے یا واپس بھجوائے جانے والے محنت کشوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صرف سعودی عرب میں خیبر پختونخوا کے پچیس لاکھ افراد کسی نہ کسی صورت روزگار اور کاروبار سے وابستہ رہے ہیں اگرچہ واپس آنے والے محنت کشوں کے درست اعداد وشمار دستیاب نہیں لیکن جس پیمانے پر بیرون ملک سے پاکستانی محنت کشوں کی واپسی ہورہی ہے اس کے تناظر میں دس لاکھ افراد کی واپسی کا اندازہ ہے جو بہت بڑی تعداد ہے جبکہ سعودی عرب جانے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سعودی عرب کی پاکستان کے حوالے سے ویزہ پالیسی اور پاکستانیوں سے امتیازی سلوک اور امتیازی قوانین کا نشانہ بنا کر ان کی حوصلہ شکنی ایک الگ موضوع ہے۔ تیمرگرہ سے ہمارے نمائندے کی مفصل رپورٹ کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور اس رپورٹ کو خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں پر بھی منطبق کر کے دیکھا جائے تو تشویشناک صورتحال سامنے آتی دکھائی دیتی ہے۔ تیمرگرہ سے ہمارے نمائندے کے مطابقسعودی عرب سے بڑے پیمانے پر لوئر دیر کی افرادی قوت کی واپسی سے ضلع دیر کی معیشت بیٹھ گئی۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ ان محنت کشوں کی خون پسینے کی کمائی سے روزانہ کروڑوں روپے ملاکنڈ ڈویژن آتے تھے۔ ضلع دیر لوئر سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا بیشتر انحصار خلیجی ممالک جا کر محنت مزدوری اور کاروبار سے وابستگی پر تھا۔ تاہم سعودی عرب حکومت کی جانب سے غیرملکیوں کیلئے قوانین سخت اور تارکین وطن کیخلاف گھیرا تنگ کرنے، ان سے بھاری ٹیکس اور فیس لینے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ملاکنڈ ڈویژن کے محنت کش واپسی پر مجبور ہوگئے یا انہیں ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ضلع دیر لوئر کے 80ہزار محنت کش سعودی عرب سے گھروں کو لوٹ آئے ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب سے لوئر دیر آنے والے زرمبادلہ میں انتہائی کمی واقع ہو گئی ہے جس کے براہ راست اثرات یہاں کی معیشت پر پڑے ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، بازاروں میں مندے کا رجحان ہے، کرنسی منی چینجر، ویزے کا کاروبار کرنے والی ریکروٹنگ ایجنسیوں اور ٹریول ایجنسیوں کا کاروبار ٹھپ ہونے لگا ہے۔ جس سے سینکڑوں افراد بیروزگار ہوگئے ہیں۔ پراپرٹی کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ معیشت کی خرابی کی وجہ سے بعض لوگوں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کرنا شروع کیا ہے جبکہ بیشتر مریض جن کے پاس ڈاکٹروں کی معائنہ فیس بھی نہیں وہ نجی کلینکس میں معائنہ کرانے کے بجائے سرکاری ہسپتالوں میں معائنہ کرانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی میں مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ صرف یہی نہیں واپس آنے والے محنت کشوںکو گھریلو مسائل اور خیبر پختونخوا کے ماحول کے تناظر میں جو لوگ دشمنیوں سے تنگ آکر بیرون ملک گئے تھے ان کی واپسی سے ان کے تحفظ کے مسائل کیساتھ ساتھ امن وامان کی صورتحال پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔ گزشتہ روز اسی طرح کا خلیجی ملک میں اچھے عہدے پر کام کرنے والا ایک نوجوان ہزار خوانی میں دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ صوبے کے دیگر اضلاع اور علاقوں میں بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے خاص طور پر پسماندہ اضلاع ٹانک، جنوبی وزیرستان اور چترال بالخصوص اور باقی اضلاع بالعموم شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ابھی یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ بدستور جاری ہے جس کا حکومت کو کوئی ادراک نہیں۔ وزیراعظم عمران خان دو ڈھائی ماہ کے دوران دو مرتبہ سعودی عرب گئے جبکہ وزیر مذہبی امور ابھی ابھی لوٹ آئے ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ ہمارے حکمران سعودی عرب سے صرف امداد اور قرض ہی مانگ کر آتے ہیں۔ حکمرانان وقت اور ریاض میں پاکستانی سفارتخانہ حکومتی اور سفارتی سطح پر محنت کشوں کے مسائل اور ان کی واپسی کی رفتار کم کرنے، مزید افرادی قوت کو آسان شرائط پر ویزے کے اجراء یا کم ازکم پاکستانیوں کو بھارتی، بنگلہ دیشی، فلپائنی اور انڈونیشیائی کارکنوں کے برابر اہمیت دینے اور ان کی شرائط ولوازمات کی طرح پاکستانی محنت کشوں سے سلوک روا رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔ سعودی عرب کو کہنے کو ہمارا برادر اسلامی ملک اور بہترین دوست ملک کا درجہ حاصل ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف اسلامی فوج کی کمان کر رہے ہیں، سعودی عرب میں مختلف صورتوں میں پاک فوج کی خاصی تعداد متعین ہے لیکن اس کے باوجود سعودی قوانین پاکستانیوں کے حوالے سے امتیازی ہیں اور پاکستانی محنت کش ان کی آخری ترجیح ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نئے پاکستان میں اب یہ صورتحال مزید ناقابل برداشت ہونی چاہئے اور اس معاملے میں سعودی عرب سے دو ٹوک بات ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں