Daily Mashriq

وزیراعلیٰ اس اہم مسئلے کا ذاتی نوٹس لیں

وزیراعلیٰ اس اہم مسئلے کا ذاتی نوٹس لیں

محکمہ آثار قدیمہ، اوقاف اور پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی کھینچا تانی میں پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کی مرمت کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہونا اور مسجد کے اطراف میں قائم دکانیں خالی کرانے کو حکومتی کوششوں کی ناکامی قابل تشویش صورتحال ہے۔ منصوبے پر عملدرآمد میں جس قدر تاخیر ہوگی اتنا ہی ثقافتی ورثوں کی خستہ حالی میں اضافہ ہوگا۔ مسجد مہابت خان کی حالت اتنی مخدوش ہوگئی ہے کہ اس کا ایک مینار بھی ٹیڑھا ہو گیا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو لکھے گئے مراسلے میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مسجد کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے لہٰذا جلد ازجلد اس کی مرمت شروع کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں۔ ضلعی انتظامیہ پشاور کے ایک اعلیٰ آفیسر نے مراسلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ ان دکانوں کو خالی کرائے تاہم تاجروں اور سیاسی دباؤ کے سامنے ضلعی انتظامیہ سخت اقدام اُٹھانے سے گریزاں ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ترجمان کے مطابق محکمہ کے پاس دکانیں خالی کرانے کا اختیار نہیں ہے متعلقہ محکمہ اگر آج دکانیں خالی کرا دے تو آثار قدیمہ مرمتی کام کا آغاز کر دے گا تاہم جب تک دکانیں خالی نہیں ہوں گی مسجد کی بنیادوں میں کام شروع نہیں ہو سکے گا اور محکمہ آثار قدیمہ صرف عمارت کی خوبصورتی پر کروڑوں روپے ضائع نہیں کرے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کیلئے باقاعدہ فنڈز بھی مختص کرنے اور محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے کام شروع کرنے کیلئے باقاعدہ تیاری کے باوجود اس عظیم تاریخی مسجد اور صوبے کے ثقافتی ورثہ کے تحفظ کیلئے دکانداروں کے دباؤ پر کام شروع نہ ہونا کمزور انتظامی گرفت کیساتھ ساتھ ثقافتی ورثہ کے حوالے سے حکومت کی عدم سنجیدگی کا بھی باعث ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی تیاریوں کی حد تک حکومتی سنجیدگی کافی نہیں بلکہ انتظامیہ کو تاجروں کے دباؤ اور سیاسی اثر ورسوخ کو خاطر میں لائے بغیر دکانوں کو منتقل کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے تاکہ اس عظیم ثقافتی ورثے کے تحفظ ومرمت کیلئے جلد سے جلد کام شروع کیا جا سکے جس میں تاجر برادری کے مسائل اور ان کے روزگار کا بھی احساس ہے۔ اس ضمن میں ان کو حکومت سے متبادل اور موزوں جگہ اور زراعانت طلب کرنے کا تو حق حاصل ہے لیکن ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے عظیم اسلامی ثقافتی ورثے کو زمین بوس کرنے کی راہ ہموار کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس معاملے کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو خصوصی نوٹس لینا چاہئے اور قبل اس کے کہ بہت تاخیر ہو جائے اس تاریخی وثقافتی ورثے کے تحفظ، مرمت اور بحالی کیلئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

احسن سعی

پشاور میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس سرویلنس سکواڈ کا قیام اچھی کوشش ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ ضلعی انتظامیہ پشاور کے سرویلنس سکواڈ نے کام شروع کر دیا، سرویلنس سکواڈ کی مدد سے پشاور کے مختلف علاقوں میں تجاوزات، غیرقانونی سپیڈ بریکرز، وال چاکنگ اور صفائی وغیرہ کی براہ راست نگرانی کی جائے گی۔ جدید ذرائع سے شہر میں غیرقانونی کاموں کی نگرانی وال چاکنگ اور صفائی کے کام کی بھی نگرانی اور یقینی بنانے کا انتظام نشاندہی کی حد تک مددگار ضرور ثابت ہوگا جس کے مطابق متعلقہ حکام کا نوٹس لینا اور حرکت میں آکر شہر میں کئی قسم کے غیر قانونی کاموں کی روک تھام، اس کے ذمہ دار عناصر کیخلاف بروقت اور موقع پر کارروائی ممکن ہو سکے گی بشرطیکہ متعلقہ حکام اس ضمن میں روایتی تساہل اور صرف نظر کی پالیسی چھوڑ کر سنجیدگی اختیار کریں بعض اطلاعات کے مطابق عملہ صفائی کی خاص تعداد کو ایک مرتبہ پھر حکام بالا اور افسران اعلیٰ کیساتھ ساتھ پی ڈی اے اور محکمہ بلدیات کے متعلقہ افسران کے گھر وں میںخدمات انجام دینے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جس کی وزیر بلدیات کو تحقیقات کرانی چاہئے اور تمام عملے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلینی چاہئے تاکہ حقیقی صورتحال سامنے آئے اور اس کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں