Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ان دنوں جبکہ صدارتی نظام لانے کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں وزیراعظم عمران خان سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے کی بجائے فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور کی مثالیں دیتے ہیں اس ماحول میں دانشوروں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں یہ برقی پیغام زیرگردش ہے کہ جس شخص نے کروڑوں روپے خرچ کر کے شاہی مسجد مرمت کرائی اور میناروں پر سنگ مرمر کے سفید گنبد بنوائے، مسجد کا مین دروازہ اور شاندار سیڑھیاں بنوا کر مسجد کو دیدہ زیب بنا دیا۔چوبرجی لاہور کے تین مینارا ور ساری عمارت اورلاہور کا شالیمار باغ ویران پڑا تھا، اسی شخص نے شالیمار باغ کی ازسرنو مرمت کروائی۔اسی شخص نے قرارداد پاکستان کی جگہ عالیشان مینار پاکستان تعمیر کروایا تھا۔یہ وہ شخص تھا جس نے پاکستان کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد لایا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے آب پاشی اور بجلی پیدا کرنے کیلئے پہلے وارسک ڈیم بنوایا، پھر منگلا اور تربیلا ڈیم بنوا یااور کالا باغ ڈیم کی بنیاد رکھی جو سیاسی تعصب کی وجہ سے چالیس سالوں سے ان سیاستدانوں کی جان کو رو رہا ہے۔یہ وہ شخص تھا جس نے دریائے راوی، چناب، جہلم اور اٹک پر نئے پل تعمیر کرائے اور سکھر میں دریائے سندھ پر ریلوے پل کیساتھ اتنے چوڑے دریا پر بغیر ستونوں کے شاندار معلق پل بنوایا۔اس شخص کا نام تھا صدر محمد ایوب خان ۔

صدر ایوب خان کے دور کو اچھا سمجھنے کا ایک عوامی تاثر بھی ہے اس سے انکار نہیں لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ صدرخان ہی نے سب سے پہلے ملک میں مارشل لاء لگا کر ملک میں آمریت کی بنیادرکھی۔ انہوں نے انتخابات میں قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں دھاندلی کے ذریعے خود کو صدر منتخب کروایاسول سروس میں مداخلت کر کے مشرقی پاکستان میں سیاستدانوں اور بیورو کریسی میں عدم تحفظ پیدا کیا۔ پاکستان امریکی بلاک کا حصہ بن گیا۔ اقتدار بر قرار نہ رکھ سکے تو آئین کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے جنرل یحیٰ کو اقتدار منتقل کیاتجربہ کار بیورو کریٹ روداد خان کے مطابق اگرچہ اس دور میں کافی مثبت اور منفی د ونوں ہی باتیں تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایسے وقت میں مارشل لاء نافذ کیا تھا جب اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے سیاسی عزائم تھے اور بعد میں انہوں نے اپنے بیٹے کے ذریعے اپنی میراث قائم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کراچی سے اسلام آباد دارالحکومت تبدیل کرکے اور ڈھاکا کو نظر انداز کرکے سب سے بڑا متنازع فیصلہ کیا۔جب وزیر اعظم ایوب دور کی مثال دیتے ہیں تو یہ اہم ہے کہ آمرانہ حکومتوں کے دونوں پہلو دیکھیں۔ وہ خودبھی جمہوری طریقہ کار کی پیداوار ہیں۔سابق صدر ایوب خان کے حوالے سے اگر عام طور پر نہ ملنے والی معلومات درکار ہوں تو سابق چیف سکریٹری اور دانشور سر عبداللہ صاحب سے رابطہ کیا جائے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہنے والی باتوں سے آگاہی ہوگی۔

متعلقہ خبریں