Daily Mashriq

قانون کی حکمرانی کی روایت

قانون کی حکمرانی کی روایت

ایک ذاتی تنازعے میں اُلجھے ہوئے وفاقی وزیر اعظم سواتی نے آخرکار قانون کے آگے سپر ڈال کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک روز قبل ہی اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ کیا حاکم وقت ایسا کرتے ہیں؟ کیوں نہ اعظم سواتی کو سب کیلئے مثال بنا دیں۔ 62/1Fکے تحت ان کا ٹرائل ہو سکتا ہے، اخلاقیات دکھاتے خود قربانی دیتے۔ چیف جسٹس کے ان ریمارکس سے ایک دن پہلے وزیراعظم عمران خان ٹی وی اینکرز کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ اگر اعظم سواتی قصووار ہوئے تو وہ خود مستعفی ہو جائیں گے۔ بعض مبصرین نے وزیراعظم کی اس یقین دہانی پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اعظم سواتی آخری انتہا تک استعفیٰ نہیں دیں گے۔ اس ساری صورتحال کے دوران اعظم سواتی نے استعفیٰ دے کر آخرکار قانون کے آگے ہتھیار ڈال ہی دئیے۔ اعظم سواتی ایک ایسے ذاتی تنازعے میں اُلجھ گئے تھے جس میں انہوں نے اپنے اختیار اور عہدے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک محنت کش قبائلی خاندان کو تھانے میں بند کرا دیا تھا۔ جب یہ کہانی میڈیا کے ذریعے عام ہوئی تو اعظم سواتی نے معاملے کی لیپاپوتی اور تاویلات کا سہارا لے لیا۔ ایک آئی جی بھی اعظم سواتی کا فون نہ سننے کی پاداش میں تبادلے کے سزاوار ٹھہرے۔ جوں جوں یہ معاملہ میڈیا میں موضوع بحث بنتا گیا اسی انداز سے حکومتی حلقے دفاعی پوزیشن میں جاتے رہے یہاں تک کہ چیف جسٹس نے اس کا ازخود نوٹس لیا اور اس کیس کے دوران اعظم سواتی کے کچھ اور کھاتے کھلتے چلے گئے جن میں سی ڈی اے کی زمین پر ناجائز قبضہ بھی شامل ہے۔

عدالت نے حقائق معلوم کرنے کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی تو اس نے بھی اپنی رپورٹ میں اعظم سواتی کو ہی قصوروار قرار دیا۔ اصولی طور پر تو اعظم سواتی کو اسی وقت رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیکر گھر کی راہ لینی چاہئے تھی مگر پاکستان میں اس کا رواج کم ہی ہے۔ یہ کیس آگے بڑھتے بڑھتے اب اس نہج پر پہنچ گیا تھا کہ عدالت نے اعظم سواتی کے ٹرائل کا عندیہ دینا شروع کر دیا تھا۔ خود وزیراعظم عمران خان نے بھی اعظم سواتی کا دفاع کرنے کی بجائے انہیں قانون کا سامنا کرنے کیلئے تنہا چھوڑ دیا۔ عمران خان اس معاملے میں عدالت کے موڈ کا اندازہ لگا چکے تھے۔ سب سراغ اور نشان اعظم سواتی کیخلاف ہی نکل رہے تھے ایسے میں ان کی اعلانیہ حمایت اور سرپرستی عمران خان کیلئے ممکن نہیں تھی۔ عمران خان کے ہاتھ اُٹھا دینے کے بعد شاید اعظم سواتی کے پاس مقدمے کا سامنا کرنے اور استعفیٰ دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اعظم سواتی کی کہانی میں ان کا اپنا جو کردار اور رویہ رہا حقیقت میں وہ پاکستانی معاشرے کا عمومی چلن، رواج اور سماجی رویہ ہے۔ پاکستانی سماجیات کا بنیادی اصول ہی جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔ یہاں طاقتور کیلئے ایک اور کمزور کیلئے دوسرا قانون لاگو رہا ہے۔

صاحب اختیار واقتدار کبھی خود کو قانون اور آئین کا پابند نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے فرمان اور فائدے کو ہی قانون سمجھتا رہا ہے۔ انتظامیہ اور ریاستی ادارے طاقتور کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ طاقتور کی غلطی کی پردہ پوشی کو قومی مفاد کا عین تقاضا اور کمزور کی تحقیر کو فرض سمجھا جاتا رہا۔ ایسے واقعات کو معمولی جان کر استعفیٰ دینے اور لینے کا کم ہی رواج رہا ہے۔ اعظم سواتی کی خوداعتماد ی کے پیچھے ماضی کی یہی روایتیں اور حکایتیں تھیں۔ اگر انہیں اندازہ ہوتا کہ زمانہ بدل گیا ہے وقت کا پہیہ گھوم چکا ہے تو شاید وہ حکومت کو دفاعی پوزیشن میں یوں دھکیلتے نہ کرسی سے چمٹ کر جگ ہنسائی کا سامان کرتے۔ بدلے ہوئے وقت نے ان کے اعتماد کا شیش محل کرچی کرچی کر دیا۔ قانون کی حکمرانی والے معاشروں کا یہی چلن ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی روایات اجنبی ہیں مگر وقت کیساتھ ساتھ معاشرہ اس سے مانوس ہوتا چلا جائے گا۔ پاکستان میں حکمرانوں کا قانون تو مدتوں سے نافذ رہا ہے اب قانون کی حکمرانی کے مظاہر دیکھنا باقی ہیں اور اعظم سواتی کا استعفیٰ اس جانب ایک قدم ہے۔ حکومت وقت کی صفوں میں ابھی بہت سے اعظم سواتی چھپے بیٹھے ہیں جو دیرینہ ساتھی کے زمرے میں آتے ہیں یا الیکٹبلزکی خوبی نے ان کے عیب چھپا رکھے ہیں۔ قانون کی حاکمیت اور عملداری کا کمزور ہاتھ انہیں بھی تلاش کرکے کٹہرے میں لانے میں کامیاب ہو تو اسے ایک اچھی اور نئی روایت کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ اعظم سواتی کیس میں سارا کریڈٹ عدلیہ کو جاتا ہے۔ عدلیہ نے ایک کمزور محنت کش خاندان کی شکایت پر ایک طاقتور شخصیت کا تعاقب جاری رکھا۔ جرم کو جبری صلح کے پردوں میں ملفوف نہ ہونے دیا اور وہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے پر بضد رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کا دباؤ باقی نہ رہے تو ماضی کی طرح اب بھی مرضی کا قانون اور مرضی کے احتساب کا چلن عام ہو۔ یہ قانون کا دباؤ ہی ہے جس سے ماضی کی ان روایتوں اور قباحتوں کے ختم ہونے کی موہوم سی اُمید بندھ چلی ہے۔اب بھی ہم ان ممالک کی صفوں میں شامل نہیں جہاں خود احتسابی کی روایت بہت عام اور کافی مضبوط ہے۔ جہاںمعمولی غلطی پر وزراء اور وزیراعظم خود مستعفی ہو کر قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو اب تک یہ روایت تھی کہ قانون صرف کمزور طبقات کے لئے اور حکمران طبقہ خود کو ہر قسم کے قانون سے ماورا تصور کرتا تھا اسی سوچ کی وجہ سے تو ماضی میں حکمران وقت قانون کے سامنے ڈٹ گئے تھے اورنتیجتاً ان کو نا اہل ہو کر جانا پڑ گیا تھا لیکن اب قانون نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ مگر بری عادتیں اتنی پختہ ہوچکی ہیں کہ ایک دم سے نہیں جاتیں۔ اس لیے ان عادتوں کو چھڑانے کے لیے حکمران طبقات کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔

متعلقہ خبریں