Daily Mashriq


کاش ہم بہت سے ہوتے!

کاش ہم بہت سے ہوتے!

پاکستان ٹیلی ویژن کے1990ء کے عشروں کے بہترین ڈراموں میں سے ایک ڈرامہ ’’آغوش‘‘ کے موضوع پر دیکھا تھا۔ اس کے باقی کردار تو میں بھول گیا ہوں لیکن اس کے مرکزی کردار ’’شاہ جی‘‘ (شاہ ابو) کی یاد اور یہ مکالمہ (کاش ہم بہت سے ہوتے) آج تک ذہن میں تازہ ہے اور جب کبھی پاکستان میں عوام الناس کو مشکلات ومصائب میں گھیرا دیکھتا ہوں تو شاہ جی کی یاد اس طرح آتی ہے کہ وہ کہانی کے مطابق ایک ایسا کردار تھا جنہیں محبت میں ناکامی ہوئی تھی اور وہ معاشرے کا روحانی اور دنیاوی لحاظ سے بہت بارسوخ آدمی تھا۔

لہٰذا اپنی ناکام محبت کے صدقے میں معاشرے کے دکھی لوگوں کی خدمت کو زندگی کا مشن بنایا۔ اس طرح وہ اپنی بے چین اور دکھی روح کو سکون واطمینان پہنچانے کی سعی کرتا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستانی عوام جن مشکلات کا شکار ہیں ان کے مصائب وتکالیف کا مداوا کرنے کیلئے بھی حکمرانی کی سطح پر کسی ایسے شاہ جی کی ضرورت ہے جس کا دل غریبوں‘ مسکینوں‘ بیواؤں‘ یتیموں‘ ضعیفوں‘ بیماروں‘ لاچاروں‘ بھوکوں‘ ننگوں اور پیاسوں کیلئے اسی طرح دھڑکے اور تڑپے جس طرح دکھی اولاد کیلئے والدین کا دل بے چین و بے قرار ہوتا ہے۔رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دل انسانیت کے دکھ درد میں کس طرح بے قرار ہوتا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک یہودی کا جنازہ جاتے دیکھا تو اداس ہوکر فرمایا کہ میرے ہوتے ہوئے یہ ایمان کی نعمت سے بہرہ ور نہ ہوسکا اس پر میرا دل بہت غمگین ہوا۔ جانوروں اور پرندوں کے دکھ درد کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے ان کے مالکوں کو ان کا خیال رکھنے کی تلقین کی۔ پودوں اور درختوں کی حفاظت کی تعلیم عطا فرمائی۔

ان سطور میں پہلے بھی عرض کیا گیا تھا کہ مجھے کسی سیاسی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن رحمدلی کے حوالے سے نامعلوم مجھے عمران خان سے کیوں اُمیدیں وابستہ ہیں۔ شاید اس شخص کی سادہ دلی و رحمدلی ہی ہے جو اسے پاکستان کے ان بچوں کے ذکر پر بار بار مجبور کرتا ہے جن کو غربت کے مارے بچپن میں بنیادی ضروری خوراک میسر نہیں ہوتی اور اس کے نتیجے میں ان کی صحیح نشو ونما نہیں ہو پاتی اور یوں پاکستان میں ذہین وفطین اور عبقری ونابغہ لوگوں کی کمی قحط الرجال کی صورت میں نظر آرہی ہے اور وقت گزرنے کیساتھ وزیراعظم کی غریبوں کیلئے تڑپ میں اضافے کا ایک سبب شاید خاتون اول کی روحانی اثرات بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف یتیموں کی کفالت کیلئے ادارے وجود میں آرہے ہیں جو شیلٹرز ہوم کے نام سے جانے جاتے ہیں اور دوسری طرف بے گھر‘ مسافروں اور فٹ پاتھوں پر سونے والوں کیلئے شب بسری اور کھانے کے انتظام کیلئے سرائے ومسافرخانے بنائے جا رہے ہیں۔ میں جب حکومت کے اس قسم کے اقدامات دیکھتا سنتا ہوں تو خواہش کرتا ہوں اور شاہ جی کا مکالمہ دہراتا ہوں کاش ہم بہت سے ہوتے۔دراصل پاکستان میں غربت کی ایک بڑی وجہ کرپشن اور کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کا عوام کی فلاح وبہبود کے صدقہ وخیرات کا کمزور سلسلہ ہے۔ اگر ہمارے حکمرانوں اور ارب پتی تجار‘ صنعت کاروں اور جاگیرداروں کے دل میں رحم کا جذبہ ہوتا تو حکمران کرپشن کا خاتمہ کرتے ہوئے انصاف کی حکمرانی قائم کرتے اور صاحبان ثروت اپنی تجوریوں میں سے زکواۃ وصدقات ہی سے سہی (حالانکہ اکثریت کا مال چونکہ جائز طریقوں سے کمایا ہوا نہیں ہوتا لہٰذا انہیں یہ توفیق نہیں ملتی) غریبوں کیلئے سکول اور ہسپتال قائم کرتے تو آج پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

کسی بھی فلاحی ریاست کی پہچان کیلئے تین اہم شعبے ہیں۔ ایک لاء اینڈ آرڈر کے ذریعے امن عامہ کا قیام، دوسرا تعلیم کا یکساں اور عام ہونا (سب کیلئے) تیسرا صحت کی سہولیات کا عوام کیلئے آسان ترین ہونا۔ چیف جسٹس نے گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان کے چاروں صوبوں کے بڑے ہسپتالوں کے دورے کرکے جن تحفظات کا اظہار کیا یہ وہی درد ہے جس کا سطوربالا میں ذکر ہوا۔ چیف جسٹس نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بارے میں ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے لیکن اس کا خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آرہا۔ آپ نے پاکستان کے ہسپتالوں‘ علاج معالجہ اور میڈیکل کی تعلیم کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ سوفیصد درست ہے۔ آپ کی یہ بات تو سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے کہ ’’علاج کا فقدان ریاست کی ناکامی ہے‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ نے تو فرمایا ہے کہ جو حکمران اپنے عوام کو امن‘ تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم نہیں کر سکتا اسے حکمرانی کا حق ہی نہیں۔

پاکستان میں امراء اور طبقہ اشرافیہ نے گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں میں ملکی اداروں بالخصوص تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی جو درگت بنائی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم بہترین تجارت بن گئی ہے لہٰذا پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں نالائق طالب علم پیسے کے زور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں خریدتے ہیں، یہی حال انجینئرنگ کا ہے۔ اس کے اثرات ہمارے ہسپتالوں اور سرکاری عمارتوں اور سڑکوں وغیرہ کی تعمیر پر بہت بری طرح مرتب ہوچکے ہیں۔ عمارتیں معمولی زلزلوں سے منہدم ہو جاتی ہیں اور ہسپتالوں میں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز بلڈپریشر چیک کرنے کی اہلیت سے محروم ہوتے ہیں۔

ملکی اداروں کی یہ ناگفتہ بہ حالات دیکھ کر دل سے بے اختیار آواز نکلتی ہے کاش چیف جسٹس اور عمران خان جیسے بہت سے ہوتے اور بالکل ممکن ہے اگر موجودہ حکومت دیگر معاملات سے ذرا توجہ کم کرکے صرف تعلیم، صحت اور کرپشن کے خاتمے پر مرکوز کر دے۔یہ عوام کے بنیادی مسائل ہیں اور سب سے زیادہ بہتری کے متقاضی یہی شعبے ہیں۔

متعلقہ خبریں