Daily Mashriq

ڈاکٹر عطش درانی کی یاد میں

ڈاکٹر عطش درانی کی یاد میں

کمپیوٹر کی ایجاد کے چند سال بعد یہ سوال بڑی شدت کیساتھ اُبھرا کہ اگر اُردو کو کمپیوٹر کی زبان نہ بنایا گیا تو اہل اُردو کمپیوٹر سے استفادہ نہ کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے اہل دانش میں سے متعدد لوگوں نے خدمات انجام دیں لیکن ان میں نمایاں نام ڈاکٹر عطش درانی کا ہے۔ جب ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) نے 1998ء میں اُردو اصلاحات کے شعبہ کی بنیاد رکھی‘ جس کا مقصد اُردو کو کمپیوٹر پر لانا تھا تو ڈاکٹر عطش درانی اس ادارے کے شعبہ ’’مرکز فضیلت برائے اُردو اطلاعات‘‘ کے انچارج بنے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کیساتھ مل کر شبانہ روز محنت کے بعد اُردو سافٹ ویئر تشکیل دیئے‘ انہی کی کوششوں سے اُردو زبان کو اس قابل بنایا گیا کہ آج اسے کمپیوٹر اور موبائل فون میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اُردو کے علاوہ ڈاکٹر عطش درانی نے پشتو‘ افغانی‘ دری اور ایرانی سافٹ ویئر بھی بنائے جس کی بدولت آج کی نسل نو کمپیوٹر کی سکرین پر اُردو تحریریں مطالعہ کر رہی ہے اس کا کریڈٹ بھی ڈاکٹر عطش درانی اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو جاتا ہے۔اُردو کو کمپیوٹر کی زبان بنانے کے بعد گزشتہ چند برسوں میں جب اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ اُردو زبان کو اگر انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ آئندہ پچاس برسوں میں ختم ہو جائے گی‘ کیونکہ ترقی کے اس دور میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی اپنی زبان کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عطش درانی اس کی یوں وضاحت کرتے تھے کہ اگلے پچاس برسوں میں حرف نہیں رہے گا اور جب حرف ہی نہیں رہے گا تو زبان کیسے ہوگی‘ اس لئے اُردو کو محض ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عطش درانی اپنی حیات میں اس بات پر زور دیا کرتے تھے کہ ہمیں آپس میں ایس ایم ایس کیلئے اُردو رسم الخط کا استعمال کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب یہ بھی کہا کرتے تھے کہ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں اُردو زبان کا کوئی شعبہ نہیں‘ سب اُردو ادب کے شعبے ہیں۔ ڈاکٹر عطش درانی کی فروغ اُردو کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو اس بات کا سہرا جاتا ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی موضوع (خاص مقصد کی زبان) کو موضوع بحث بنایا۔ ان کے بقول علمی مقاصد وتکنیکی اُمور‘ سائنسی علوم‘ فنی اور خصوصی اغراض کیلئے جو زبان استعمال ہوتی ہے‘ خاص مقصد کی زبان کہلاتی ہے۔ یہ زبان خاص حلقے تک محدود ہوتی ہے۔ صرف متعلقہ مضمون وشعبہ کے ماہرین باہمی ابلاغ کیلئے اسے استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے کہ اُردو کو میڈیکل‘ انجینئرنگ‘ وکالت‘ دفتری اُمور کی خاص زبان کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک خاص شعبے کے لوگ خاص ٹیکنیکل زبان سمجھ سکیں۔ڈاکٹر عطش درانی اُردو زبان کا دیگر زبانوں کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ میرے نزدیک اُردو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے‘ اُردو بولنے والوں کی تعداد لگ بھگ 40کروڑ بنتی ہے۔ اُردو پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ نیپال‘ بھوٹان‘ افریقی ممالک‘ سنگاپور‘ عرب اور خلیجی ممالک‘ برطانیہ‘ کینیڈا اور امریکہ میں بہت سے لوگوں کی زبان ہے۔ ان کے خیال میں اُردو کو یونیسکو کی سرکاری زبان بنایا جانا چاہئے کیونکہ دنیا کے طول وعرض میں اُردو کو بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان میں اُردو کے نفاذ کیلئے کہا کرتے تھے کہ تعلیمی‘ علمی میدان میں اُردو کو ترقی دے کر ہم ایک مضبوط زبان بنا سکتے ہیں۔ دفاتر میں اگر غیر ملکی زبانوں‘ بالخصوص انگریزی کو ختم کر دیا جائے تو اُردو کا نفاذ بطور دفتری زبان کرنے میں زیادہ مشکل کا سامنا نہیںکرنا پڑے گا۔ یہ ڈاکٹر عطش درانی کی ہی کاوش ہے کہ اُردو کو کمپیوٹر کی زبان قرار دینے کے بعد‘ اب ٹیلی ویژن‘ ٹیلی فون اور برقی آلات کی کمپنیوں نے عربی کیساتھ ساتھ اُردو ہدایات بھی لکھنا شروع کر دی ہیں‘ کیونکہ اُردو دنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ حصے کی زبان ہے۔ ان کے بقول اُردو کی تکنیکی‘ تدریسی‘ ابلاغی منصوبہ بندی کر کے‘ اردو کے کمپیوٹر سافٹ ویئر بنا کر‘ لسانی تحقیق اور اُردو زبان میں تراجم کی رفتار بڑھا کر اُردو زبان کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر عطش درانی اپنی تحقیقی‘ تصنیفی ذمہ داریوں کیساتھ ساتھ اس بات سے بھی آگاہ رہتے تھے کہ پی ایچ ڈی کے طلباء وطالبات میںکون کون اُردو زبان پر کام کر رہا ہے‘ سو میرے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تیاری‘ موضوع سے لیکر تمام مراحل میں ان کا تعاون بھی مجھے شامل حال رہا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ واقعی ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں