Daily Mashriq

دنیا کو آبادی کے بم کا سامنا

دنیا کو آبادی کے بم کا سامنا

20کروڑ کے لگ بھگ آبادی والے ملک پاکستان میں اس وقت پوری شد ومد کیساتھ وزیراعظم اور چیف جسٹس آبادی کو کنٹرول کرنے میں اپنے قرب وجوار کے لوگوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں ہوئے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیراہتمام بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے ہوئے سمپوزیم (ایک طرح کی کانفرنس یا میٹنگ جس میں کسی خاص مضمون کو زیربحث لایا جاتاہے) میں پوری شدت کے ساتھ اس بات پر زور دیا گیا کہ آبادی کو کنٹرول کیا جائے ۔سمپوزیم سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے بخوبی آگاہ ہے اس مسئلے پر موثر انداز میں قابو پانے کیلئے بالخصوص علما کرام ، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ سمپوزیم کی خاص بات دینی طبقے میں ایک الگ پہچان رکھنے والی شخصیت معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی شمولیت تھی۔،مولانا طارق جمیل نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا آبادی میں اضافے کی وجہ معاشرتی دباؤ اور غربت ہے ۔دیہات میں لوگ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ بچے ہوں گے اتنا ہی اچھا ہوگا کیونکہ ایک باپ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی مزدوری بڑھے گی ۔ ان ساری چیزوں کے پیچھے سبب جہالت ہے ۔حکمرانوں کی نیتوں کا اثر عوام پر پڑتا ہے ۔اگر ماضی میں جھانکیں تو آج سے200سال قبل زمین پر انسانوں کی تعداد ایک بلین تھی یا شاید اس سے بھی کم۔آج دنیا کی آبادی7.7بلین کے قریب ہوچکی ہے ۔1804میں دنیا بھر کی آبادی ایک بلین کے قریب تھی جو 1930میں بڑھ کر2بلین ہوگئی اور صرف30سالوں میں یہ مزید بڑھتے ہوئے3بلین تک پہنچ گئی اور پھر14سالوں یعنی1974 میں یہ اندازاً4بلین سے بڑھ چکی تھی۔1987میں5بلین ہوئی اور2011 میں یہ دنیا7بلین افراد کے وجود سے بھر گئی۔2018 میں یہ آبادی7اعشاریہ7بلین ہوچکی ہے اور2055 میںاقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق دنیا کی آبادی10بلین سے زائد ہوجائے گی۔183 سالوں میں دنیا کی آبادی 1بلین ہوئی اور صرف207سالوں میں آبادی بڑھتے بڑھتے 7بلین سے زائد ہوگئی۔1955 میں پاکستان دنیابھر میں آبادی کے لحاظ سے14ویں نمبر پرتھا اور پھر1970 میں10ویں نمبر پر پہنچ گیا اور پھر2005 میں گلوبل رینک میں پاکستان کا نمبر6ہوگیا جو ہنوز قائم ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی 2050 میں31کروڑ کے لگ بھگ ہوجائے گی۔1968 میں بائیولوجسٹ پال آلر کی لکھی کتاب ’’The Population Bomb‘‘ مارکیٹ میں آئی جس میں مصنف کا کہنا تھا کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ پوری دنیا میں موجودہ آبادی کو خوراک مہیا کرنے کے وسائل نہیں۔دنیا بھر میں مختلف ممالک نے ایک یا2سے زائد بچوں کی پیدائش پر قدغن لگادی ۔چندایک معیشت دانوں اور ماہرین کی رائے اس دورانئے میں جوبھی رہی ہو لیکن ایک کثیر تعداد وہ رہی ہے جو آبادی کے بم کوایک خطرہ قرار دے رہی ہے۔ ان سارے ادوار میں جنگ، قحط،ماحولیاتی تبدیلی اور ناانصافی ودیگر عوامل بھی شدید ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود آبادی میں کمی لاکھ جتن کرنے کے باوجود نہ ہوسکی بلکہ آج جن ممالک میں آبادی کم ہے وہاں پر کام کرنے والے افراد کی شدید کمی ہے جسے وہ دیگر ممالک سے آنے والے ہنرمندوں سے پوری کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔کئی ایک ممالک میں خوراک ضائع ہوجاتی ہے اورکئی ایک ممالک میں ایک لقمے کیلئے انسانیت ترستی ہے۔ غریب ممالک میں بھوک کی وجہ آبادی نہیں بلکہ ناانصافی و کرپشن جیسی خوفناک بلائیں ہیں۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ رزق دینے والی ذات اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔ قرآن مجید میں تو اللہ کا فرمان ہے کہ غربت کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم تم کوبھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی نبی کریمؐ کی ایک حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں قیامت کے روز تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس اور دیگر سیاسی رہنما ہمارے لئے معزز ہیں لیکن چونکہ یہ ایک خطرناک سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا آج یورپ ودیگر ممالک خمیازہ بھگت رہے ہیں جہاں دوسرے ممالک سے لوگوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے کہ آؤ اور ہماری معیشت کو مضبوط کرو۔ پاکستان کا مسئلہ آبادی کی زیادتی نہیں ہے بلکہ پاکستان کا مسئلہ وہ جاگیردارانہ و ظالمانہ نظام ہے جس میں ایک جاگیردار، سردار، وڈیرے کے پاس پورے گائوں کی زمین ہوتی ہے اور کسان پیاز سے سوکھی روٹی کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دولت کی غیر مصنفانہ تقسیم ہمارے ملک کا مسئلہ ہے۔ عدلیہ، حکومت اور دیگر بااختیار ادارے ملک کو انصاف مہیا کردیں بلکہ آج ہی سے حکومت کوشش کرے کہ اسلامی سزائیں ملک میں نافذ کر دے۔ اللہ کی رحمت برسنا شروع ہوجائے گی۔ سودی کاروبار کرنے والے ملک میں کہاں اللہ کی رحمتیں برسا کرتی ہیں؟ ظالم کا ساتھ دینے والے ملک میں کہاں پانی رحمت بنتا ہے اور بیٹیوں کی شرم وحیا کی چادر کو جدت کے نام پر اتارنے والے ملک میں کہاں برکت نازل ہوگی صاحب!۔

متعلقہ خبریں