Daily Mashriq

سولہ دسمبر،اے پی ایس شہدا کے گھروں میں ایک دفعہ پھر صف ماتم بچھ جاتی ہے

سولہ دسمبر،اے پی ایس شہدا کے گھروں میں ایک دفعہ پھر صف ماتم بچھ جاتی ہے

پشاور(کرائمزرپورٹر) سولہ دسمبر نزدیک آتے ہی آرمی پبلک سکول کے شہدا کے گھروں میں ایک دفعہ پھر صف ماتم بچھ جاتی ہے میڈیم عندلیب کا شمار بھی انہی والدین میں ہوتا ہے جنکے جگر گوشے دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے۔عندلیب آرمی پبلک سکول کے کالج سیکشن میں کیمسٹری پڑھاتی ہیںاور حذیفہ انکا سب سے بڑا بیٹا تھا جو کلاس دہم کا طالب علم تھااس بدقسمت دن بھی حذیفہ اپنی والدہ سے ملا اور اس سے پاکٹ منی مانگی۔جس پر عندلیب نے اسے کہا کہ مجھے ڈبل کراس مت کرو تم صبح والد سے سو روپے پارکنگ میں لے چکے ہواور اسے خود آڈیٹوریم میں لیکر گئی۔اسی لمحے فائرنگ شروع ہوگئی اور وہ گھبرا کر ایڈمن بلاک چلی گئی جہاں وہ چار افراد سمیت باتھ روم میں چھپ گئی تھیں اور آپریشن ختم ہونے پر ہی انہیں نکالا گیا ۔ میڈیم عندلیب کو تو آرمی کمانڈوز نے کئی گھنٹے کے بعد نکال لیا لیکن ان کا بیٹا اتنا خوش قسمت ثابت نہ ہوسکا۔اسے دو گولیا ں پیچھے سے لگی تھیں اور و ہ زخمی ہونے کے باوجود شہید بچوں کے درمیان لیٹ گیاتھا لیکن جب دہشت گرد بچوں کو مارنے کے بعد واپس آکر چیک کرنے لگے کہ کوئی زندہ تو نہیں ہے تو حذیفہ کو زندہ پا کر ایک دہشت گرد نے اسے شہ رگ پر گولی مار دی جس سے وہ فورا ہی موت کی آغوش میں چلا گیا۔جب حذیفہ کی لاش گھر لائی گئی تو والدہ کو اس کی جیب میں وہ سو روپے کا نوٹ بھی ملا جو صبح اس کے والد نے اسے دیا تھا۔

متعلقہ خبریں