Daily Mashriq

پشاورچڑیاگھرکیلئے ہاتھی درآمدکرنے کی اجازت نہ دینے کااقدام چیلنج

پشاورچڑیاگھرکیلئے ہاتھی درآمدکرنے کی اجازت نہ دینے کااقدام چیلنج

پشاور(جنرل رپورٹر)صوبائی دارالحکومت پشاورمیں قائم خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے چڑیا گھر کیلئے زمبابوے سے ہاتھیوں کی درآمد کیلئے ٹھیکے کی منظوری اور9کروڑ روپے سے زائدکے اخراجات کے باوجودوفاق کیجانب سے ہاتھیوں کی درآمد کی اجازت نہ دینے کے اقدام کوپشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے ،رٹ میں ہاتھیوں کی درآمدکیلئے این او سی جاری کرنے یادرخواست گزارکی رقم بمعہ دیگراخراجات واپس کرنے کی استدعاکی گئی ہے جبکہ عدالت عالیہ کے دورکنی بنچ نے وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل 12 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی ہے، ٹھیکیدارحنیف خان کیجانب سے امان اللہ مروت ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ میں وفاق بذریعہ وزارت موسمیاتی تغیر آئی جی فارسٹ وزارت موسمیاتی تغیر ،صوبائی حکومت بذریعہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ، سیکرٹری فارسٹری ووائلڈلائف خیبرپختونخوا چیف کنزرویٹروائلڈلائف اورڈائریکٹرپشاورکوفریق بنایاگیاہے ،رٹ میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ خیبر پختونخواحکومت کیجانب سے باقاعدہ قانونی ضابطے پورے کئے جانے کے باوجود وزارت موسمیاتی تغیر ہاتھیوں کیلئے درآمدی این او سی جاری کرنے سے انکارکردیاہے جس پرسرکاری ٹھیکیدارکے92ملین روپے ڈوبنے کاخدشہ پیداہوگیاہے، رٹ میںبتایاگیاہے کہ خیبرپختونخواحکومت نے تقریباڈیڑھ سال قبل پشاورکے چڑیا گھرکیلئے ہاتھی برآمدکرنے کیلئے ٹینڈرجاری کیا جو درخواست گزار کو قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد ملا اور ہاتھی برآمد کرنے کیلئے انہوں نے جنوبی افریقہ، یوگنڈا،کینیا ،نمیبیا اورزمبابوے کادورہ کیاتاہم بین الاقوامی پابندی کے باعث انہیں کہیں سے بھی ہاتھی درآمد کرنے کی اجازت نہ ملی اورزمبابوے کے وزیراعظم سے خصوصی منظوری لی گئی جس پرفزیبلٹی رپورٹ بنانے کیلئے زمبابوے کی حکومت نے اپنی وائلڈلائف کی ٹیم پشاوربھجوائی جنہوں نے پشاور چڑیا گھر کادورہ کرکے اس مقام کو ہاتھیوں کیلئے موزوں قرار دیا اور زمبابوے کی ٹیم کی منظوری کے بعد زمبابوے حکومت نے انہیں ایکسپورٹ پرمٹ اورہیلتھ سرٹیفیکیٹ جاری کیا اور تقریبا65ملین روپے پاکستانی زمبابوے حکومت کوادا کرنے کے علاوہ مجموعی طورپر 92ملین روپے کے اخراجات ادا کئے گئے اورجب پشاور زو سے این او سی لینے کیلئے درخواست دی تاہم درخواست سی آئی ٹی ای ایس اسلام اباد منتقل کردی گئی اور وزارت موسمیاتی تغیر نے بلا جواز این او سی جاری کرنے سے انکارکیاہے ،رٹ میں عدالت سے استدعاکی گئی کہ وزارت موسمیاتی تغیرکواین او سی جاری کرنے اوربصورت دیگر درخواست گذارکو92ملین روپے واپس کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔عدالت عالیہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اورصوبائی حکومت کونوٹس جاری کرتے ہوئے کل جمعرات کے روزتک جواب مانگ لیا۔

متعلقہ خبریں